October 01, 2020

اور چیف جسٹس آف انڈیا روپڑے

ہندوستانی سپریم کورٹ کے چیف جسٹس جسٹس ٹی ایس ٹھاکر نے ججس کے تقررات پر مرکز اور ریاستی حکومتوں کی جانب سے اپنائی جانے والی ٹال مٹول کی پالیسی پر رو پڑے.

دہلی کے وگیان بھون میں عدلیہ اور انتظامیہ پر ایک کانفرنس کا اتوار کو اہتمام کیا گیا.اس کانفرنس میں وزیرعظم نریندر مودی,وزیر قانون سدانند گوڈا اور مختلف ریاستوں کے چیف منسٹرس,وزراے قانون,ہائی کورٹ کے چیف چیف جسٹس اور دوسروں نے شرکت کی.

اپنے خطاب میں چیف جسٹس ٹی ایس ٹھاکر نے تشویش کا اظہار کیا کہ ملک میں سپریم کورٹ سے لے کر نچلی عدالتوں میں ججس کی کافی قلت ہے اور جب مرکز سے اس مسلہ پر توجہ دہانی کروائی جاتی ہے تو وہ ریاستوں کو اس کیلے ذمدار قرار دیتے ہیں انھوں نے کہا کہ ملک میں مقدمات کی ڈھیر پہاڑ سے بھی زیادہ ہوگئی ہے ایسے حالات میں عدلیہ کس طرح کام کرسکے گی.انھوں وزیراعظم کی موجودگی میں رو پڑے اور سیسکتے ہوے کہا کہ ملک میں 21 ہزار ججس ہیں جن کی تعداد 40 ہزار تک بڑھانے کی ضرورت ہے 1987 میں عدلیہ میں اصلاحات لانے کے لئے کمیشن قایم کیا گیا تھا کمیشن نے ہر 10 لاکھ آبادی کے لئے 50 ججس کے تقرر کی سفارش کی تھی لیکن صرف 10 ججس سے کام چلایا جارہا ہے 

واضح رہے کہ جاریہ اپریل میں ہی چیف جسٹس ٹھاکر نے اپنے دورہ حیدراباد کے موقع پر بھی وزیر قانون کے سامنے اسی طرح کی تشویش کا اظہار کیا تھا