December 13, 2018

جمعیۃعلماء مہاراشٹر کے معمر رہنما اور قانونی امداد کمیٹی کے سر براہ الحاج گلزار احمد اعظمی کو ہفت روزہ عوامی رائے کا خراج تحسین

جمعیۃعلماء مہاراشٹر کے معمر رہنما اور قانونی امداد کمیٹی کے سر براہ الحاج گلزار احمد اعظمی کو ہفت روزہ عوامی رائے کا خراج تحسین

  ممبئی ۱۰؍ مارچ /ممبئی عظمیٰ سے شائع ہونے والے ہفت روزہ عوامی رائے ممبئی نے ۸؍ مارچ کو اپنی سترہویں سالگرہ کے موقع پر المالطیفی ہال ،صابو صدیق کالج ،بائیکلہ میں الحاج گلزار احمد اعظمی صاحب کی خدمات کا عتراف کرتے ہوئے موصوف کی گل پوشی کی اور مومنٹو سے نوازا۔
عوامی رائے کے ایڈیٹر ڈاکٹر علاؤ الدین شیخ نے کہا کہ الحاج گلزار احمد اعظمی نے پچھلی دو دہائیوں میں ہندوستانی مسلمانوں کی جو خدمت کی ہے وہ تاریخ کا ایک سنہرا باب ہے، منصوبہ بند طریقہ پر ملک کے مسلمانوں کو ہراساں کرنے اور ان کی نئی نسل کو جیل کی سلاخوں کے پیچھے ڈھکیلنے کی جو سازش تیار کی گئی اس کا مقابلہ کر نے کے لئے گلزار احمد اعظمی صاحب کانام ظلم و ستم کے خلاف ایک علامت کے طور پر جانا پہچانا جاتا ہے ۔جناب سہیل لوکھنڈ والا سابق ایم ایل اے نے اس موقع پر الحاج گلزار احمد اعظمی کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ موصوف کی شخصیت ہمارے درمیان عزم و ہمت اور بلند حوصلگی کی ایک مجسم تعبیر ہے،اور ہم دعا کرتے ہیں کہ اللہ تبارک و تعالیٰ محترم گلزار احمد اعظمی کے سایہ کو دراز فرمائے ،اعظمی صاحب نے جو کام اپنے ذمہ لیا ہے اور بالخصوص مسلمان بچوں پر جو نوجوان تعلیم یافتہ ،بے قصور اور بے گناہ ہیں ان کا کوئی پرسان حال نہیں ہے جمعیۃعلماء ہند مولانا ارشد مدنی کی قیادت میں مسلامن بچوں کی رہائی کا کام کر رہی ہے میں خدا کی قسم بولتا ہوں کہ دل سے دعا نکل رہی ہے تمہارے لئے۔ہر مسلمان کو یہ احساس ہونا چاہئے اور اس تنظیم کو سراہنا چاہئے ،اورمیں جانتا ہوں کہ قوم کے افراد اپنا پیسہ بے جا صرف کرتے ہیں ،جمعیۃعلماء ہند کو مضبوط کرنا چاہئے مالی طور پر بھی افرادی طور پر بھی تاکہ وہ اس کا م کو آگے بڑھائے 
گلزار احمد اعظمی سکریٹری قانونی امداد کمیٹی نے اللہ کی حمد و ثناء کے بعد فرمایا کہ میں جو کام کر رہا ہوں کسی پر احسان نہیں ،میری ایک ذمہ داری تھی جماعت میں اور اس کا تقاضا تھا کہ جب مسلمانوں کا کوئی پرسان حال نہیں تھا آپ کو 2006 یاد ہوگا سب سے پہلے اورنگ آباد اسلحہ ضبطی معاملہ ۹؍ مئی کو اس کے بعد یکم جولائی میں دو ماہ بعد تینوں سلسلہ وار بم دھماکے ہوئے ،اس کے بعد دسمبر میں مالیگاؤں بم بلاسٹ ہوا جس میں ۴۵؍ لوگ گرفتار کئے گئے اس میں سانچا چلانے والے بھی تھے ،ڈاکٹر بھی تھے اور انجینئر بھی تھے اور وہ وقت تھا جس کا نظارہ اللہ تبارک و تعالیٰ نے قرآن پاک میں پیش کیا ہے کہ نہ ماں بیٹے کو پہچانے گی اور نہ بیٹنا ماں کو پہچانے گا،نہ باپ اپنے بیٹے کو پہچانے گا اور نہ بیٹا اپنے باپ کو پہچانے گا ۔وہ عالم تھا کہ جب اپنے راستے پر رشتہ دار جاتے تھے جو لوگ گرفتار تھے تو لوگ راستہ کاٹ دیتے تھے ،اس وقت جمعیۃعلماء ہند کے صدرہم سب کے پیشوا حضرت مولانا سید ارشد مدنی دامت برکاتہم نے مجھ پر یہ ذمہ داری ڈالی تھی کہ دسمبر ۲۰۰۷ کا معاملہ تھا جب ہم کو سپریم کورٹ میں جانا تھا مکوکا ہٹانے کے لئے ۔بہر حال وہ ذمہ داری میں پوری کر رہا ہوں کسی پر احسان نہیں کر رہاہوں لیکن مجھے ڈر لگنے لگا ہے کہ جو میری پذیرائی ہورہی ہے خدا نخواستہ قیامت کے دن اگر خدا یہ نہ کہہ دے کہ تو دینا میں سب کچھ لے آیا اب یہاں کچھ نہیں ہے ۔اس موقع پر شہر کی سماجی و سیاسی معزز شخصیات اور بڑی تعداد میں عوام موجود تھے  

— 

Post source : Press note