September 20, 2018

مسلم لیگ نے بہت ہی نازک حالات میں مسلمانوں کی قومی سطح پر نمائندگی کی

مسلم لیگ نے بہت ہی نازک حالات میں مسلمانوں کی قومی سطح پر نمائندگی کی
Photo Credit To uruleaks

محبوبنگر 11 مارچ (اردولیکس) مسلم لیگ کے70ویں یوم تاسیس کے موقع پر مسلم لیگ گلبرگہ یونٹ کی جانب سے ایک جلسہ کا انعقاد عمل میں لایا گیا۔ اس جلسہ میں مسلم لیگ شاخ کرناٹک کی دعوت پر مرزا قدوس بیگ خازن ریاستی مسلم لیگ تلنگانہ، محمد تقی حسین تقی بانی مسلم حقوق پوراٹا سمیتی تلنگانہ(جن کے سیاسی سفر کا آغاز 1993میں مسلم لیگ سے ہوا تھا)،حافظ ادریس سراجی شریک معتمد جمیت العلماء شاخ محبوبنگر نے بحیثیت مہمان خصوصی شرکت کی جبکہ مولانا نوح صدر مسلم لیگ گلبرگہ نے جلسہ کی صدرات کی۔ جلسہ کو مقامی مسلم لیگ اور ایم ایس ایف قائدین کے علاوہ مہمان قائدین نے بھی مخاطب کرتے ہوئے مسلم لیگ کی تاریخ پر تفصیلی روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ قائد ملت محمد اسمعیل علیہ الرحمہ نے مسلم لیگ کا قیام لایا اور غلام محمود بنات والا اور ابراہیم سلیمان سیٹھ نے مسلم لیگ کو پروان چڑھایا۔محمد تقی حسین تقی نے کہا کہ اایک ایسے وقت جب ملک میں افر تفریح کا ماحول تھا اور ملک نامور قائدین ملک چھوڑ کر پاکستان اور انگلینڈ جارہے تھے ملک کا مسلمان پریشان کن حالات کا سامنا کر رہا تھا تب قائد ملت نے 10 مارچ 1948کومدراس میں انڈین یونین مسلم لیگ کی بنیاد ڈالی ۔ اور سارے ملک کے مسلمانوں کی رہبری و قیادت کا ذمہ اٹھایا۔اور دیکھتے ہی دیکھتے مسلم لیگ سارے ملک میں اپنے وجود کا احساس دلاتے ہوئیانتخابات میں زبردست کامیابیاں حاصل کرت ہوئے نہ صرف ٹاملناڈو، کیرالہ بلکہ اترپردیش،بنگال،آندھرا پردیش،مہاراشٹرا ،بہار کی قانون ساز اسمبلیوں میں داخل ہوگئی اور ایوان پارلیمنٹ میں مسلم لیگ کی نمائندگی نے سارے ملک کے مسلمانوں کی ترقی اور تحفظ کو یقینی بنایا۔ ایک بعد دیگرے کئی ایک دور اندیش اور ایماندار قائدین نے مسلم لیگ کی نمائندگی کی۔شریعت میں مداخلت ہو ،شاہ بانو کا مقدمہ ہو یا پھر بابری مسجد کی شہادت ہو مسلم لیگ نے ہمیشہ اپنا کڑا موقف اختیار کرتے ہوئے برسر اقتدار حکومتوں سے اپنا لوہا منوایا۔ اور آج بھی کیرالہ تاملناڈو کے علاوہ پارلیمنٹ میں مسلمانوں کی نمائندگی کر رہی ہے۔ان قائدین نے ملک کے موجودہ حالات پر بھی روشنی ڈالی اور کہا کہ وقت آگیا ہے کہ مسلمان پھر ایک بار مسلم لیگ جیسی قومی مسلم جماعتوں کے ہاتھ مظبوط کریں اور ریاستی اور قومی سطح پرمسلم لیگ کے قائدین کے نمائندوں کو قانون ساز اداروں میں روانہ کریں تاکہ ملک میں سیکیولرازم اور دستور کے تحفظ کو یقینی بنایا جاسکے۔ان قائدین نے کرں اٹک کے مسلمانوں سے اپیل کی وہ آئندہ کرناٹک اسمبلی انتخابات میں انتشار کا شکار نہ ہوں اور پوری سمجھداری کے ساتھ متحدہ ووٹ کا استعمال کرتے ہوئے سیکولر طاقتوں کو کامیاب بنائیں۔آخر میں مسلم لیگ کے مرحوم قائدین کی دعائے مغفرت اور ناظم جلسہ محمد سجاد حسین کے شکریہ پر جلسہ کا اختتام عمل میں آیا ۔ اس جلسہ گاہ میں عوام کی کثیر تعداد میں موجودگی سے جلسہ گاہ اپنی تنگ دامنی کا شکوہ کر رہا تھا۔

Post source : urduleaks news network