December 13, 2018

دیہی ڈاک نظام کو نئی نمونہ سازی کے ساتھ مستحکم بنایا جائے تاکہ اسے ایک تقسیم کار اوربنیادی سہولیات کا مرکز بنایا جاسکے : نائب صدر جمہوریہ

نئی دہلی  ، 13 مارچ ۔نائب صدر جمہوریہ ہند جناب  ایم وینکیا نائیڈو نے   ہندوستانی ڈاکر خدمات   کے افسران سے اپیل کی ہے کہ  دیہی ڈاک نظام کو باز نمونہ سازی اور استحکام کے ذریعہ ایک تقسیم کار اور بنیادی سہولیات کی فراہمی کا مرکز بنایا جائے  ۔جناب وینکیا نائیڈو   رفیع احمد  قدوائی  نیشنل پوسٹل اکیڈمی میں  انڈین پوسٹل سروس کے  پروبیشن افسران سے گفتگو کررہے تھے۔

          اس موقع پر جناب وینکیا نائیڈو نے کہا کہ          ہندوستان کے قدیم ترین  اوروسیع ترین  خدمات نظام   سے وابستہ ہونے پر فخر کیا جانا چاہئے            ،        جس کے ڈاک خانے  اور شاخوں  کا وسیع ترنظا م خاص طور سے سماج کے کمزور طبقوں  میں  پوسٹل سیونگ اسکیم اوربیمہ اسکیموں کی فراہمی کے ذریعہ سماج کے کمزور طبقوں   کے لئے مالیاتی  مجموعیت    کےچیلنج پر کامیابی کے ساتھ عمل کرسکتے ہیں  ۔انہوں نے  حاضرافسران سے خطاب کرتے ہوئے   کہا کہ انہیں   دیہی علاقوں کے عوام کی  زندگی میں    تبدیلی  پیدا کرکے     وسیع ترتبدیلیوں کے ایجنٹ کی حیثیت اختیار کرنی چاہئے ۔  دیہی ڈاکخانے اس سلسلے میں آئی سی ٹی سینٹر  اور ریٹیل سینٹر کی خدمات انجام دے سکتے ہیں ،جس سے دیہی آبادی کو   لا تعداد فوائد حاصل ہوسکتے ہیں۔

          نائب صدر جمہوریہ موصوف نے اپنی تقریر میں آگے کہا کہ  ڈاکخانے   دیہی علاقوں میں آباد  لوگو ں کو مواصلاتی خدمات فراہم کرانے میں اہم کردار ادا کرسکتے ہیں  ۔ یہ  ڈاکخانے شہری اور دیہی علاقوں کے درمیان رابطہ کاری کا ایک اہم وسیلہ ثابت ہوسکتے ہیں   اور پوسٹ مین یعنی ڈاکیہ آخری آدمی تک  پہنچنے والا  پہلا شخص ہوتا ہے  اور یہ اپنے آپ  میں انتہائی نفیس خدمت  ہے جو دوردراز کے علاقوں  میں آباد لوگوں کو فراہم  کرائی جاتی ہے ۔ جناب  وینکیا نائیڈو نے   اس موقع پر اپنی تقریر میں  حاضر پروبیشن افسران کو مشورہ دیا کہ  انہیں   ہندوستانی عوام کو عالمی درجے کی خدمات  کی فراہمی  کے لئے  جدت طراز تصورات   پیش کرنے چاہئیں  ۔ انہوں نے مزید کہا کہ    ڈاک ٹکٹوں کی آن لائن  فروخت    ، گنگاجل کی تقسیم ،  پوسٹ آفس پاسپورٹ سیوا کیندر  اور  آدھار انرولمنٹ  سینٹرز   جیسی خدمات   عوام الناس کو  سہولتوں کی فراہمی کو یقینی بناسکتی ہیں ۔  آپ سب ہمیشہ  ان نئے شعبوں  کی شناخت کا کام جاری رکھیں  ، جن سے  عوام الناس کے معیار زندگی میں بہتری پیدا کی جاسکے۔

Post source : Pib