June 19, 2018

ملکی ایجادات سے شمسی توانائی خدمات سے محروم لاکھوں لوگوں کی مدد کرے گا:ڈاکٹر ہرش وردھن

نئی دہلی، 14؍مارچ /  شمسی انقلاب  عنقریب مستقبل میں متوقع ہے، کیونکہ شمسی توانائی ملک میں ترقی کے راستے ہموار کرے گا۔ آج نئی دلی میں سائنس و ٹیکنالوجی کے محکمے کے تعاون سے کئے گئے اقدامات پر میڈیا سے خطاب کرتے ہوئے سائنس اور ٹیکنالوجی، ماحولیات، جنگلات ، آب و ہوا میں تبدیلی اور ارضیاتی سائنسز کے مرکزی وزیر  ڈاکٹر ہرش وردھن نے کہا کہ شمسی توانائی سے   دیسی سطح پر  تحقیق اور ترقی  کے ذریعے شمسی ٹیکنالوجی  کے زیر اثر اختراعات کو فروغ دے کرلاکھوں محروم لوگوں کی مدد کی جا سکے گی۔ انہوں نے کہا کہ شمسی آلہ تیار کیا گیا ہے، جو سوریہ جیوتی کے نام سے ہے۔ یہ ایک بہت چھوٹا شمسی ڈوم ہے اور ایک شمسی واٹر پیوریفائر اور ایک شمسی جیکٹ ہے۔ ڈاکٹر ہرش وردھن نے زور دیتے ہوئے کہا کہ حکومت نے 2022 کیلئے ہندوستان میں توانائی کا ایک منصوبہ تیار کیا ہے، جس میں 175 گیگا واٹ قابل تجدید بجلی تیار کی جائے گی۔ اس میں شمسی  توانائی کا حصہ 100 گیگا واٹ ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ اس سلسلے میں 20 فیصد کا نشانہ حاصل کر لیا گیا ہے۔

وزیر موصوف نے زور دیتے ہوئے کہا کہ سائنس اور ٹیکنالوجی کے محکمے کی کوشش یہ ہےکہ ایسی چیزیں تیار اور ایجاد کی جائیں، جن میں  شمسی توانائی   کا استعمال ہو اور یہ  عوام کی روزمرہ کی زندگی میں فائدے پہنچائے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ اس طرح کی ایجادا ت عوام کے معیار کو بہتر بناتی ہیں۔ ساتھ ہی ساتھ عوام کے خرچ کو کم کرتی ہیں۔ سوریہ جیوتی کا ذکر کرتے ہوئے ڈاکٹر ہرش وردھن نےکہا کہ 2016 میں اس کا استعمال صرف 30 لوگوں نے کیا تھا اور آج 5000 سے زیادہ  لوگ  اپنے گھروں میں بجلی جلانے کیلئے سوریہ جیوتی سے فائدہ اٹھا رہے ہیں۔  انہوں نے مزید کہا کہ 2019 تک ایک لاکھ لوگ اپنے گھروں میں سوریہ جیوتی سے فائدہ اٹھائیں گے۔

خود سولر جیکٹ پہن کر ، سولر جیکٹ کی نمائش کرتے ہوئے ڈاکٹر ہرش وردھن نے سولر جیکٹ کی بہت سی خصوصیات کو اجاگر کیا۔ یہ جیکٹ دفاعی عملے  اور دوردراز کے علاقوں میں کام کرنے والے جنگلات سے متعلق افسروں کیلئے سودمند ہے۔ انہوں نے کہا کہ ملک کی صاف توانائی کی ضرورتوں کو ذہن میں رکھتے ہوئے  ان شمسی توانائی اختراعات  یعنی ایجادات کو وضع کیا گیا ہے۔وزیر موصوف نے کہا کہ 5 شمسی واٹر پیوریفائر تیار کئے گئے ہیں اور ہر مشین روزانہ تقریباً 400 لیٹر پانی پیوریفائی کر رہی ہے۔

Post source : Pib