April 24, 2019

آئی ڈبلیو اےآئی مجولی جزیرے تک نئی رو-رو سروس شروع کرے گی

نئی دہلی،10؍ اکتوبر؍اندرون ملک بھارت کی آبی گزرگاہوں کی اتھارٹی (آئی ڈبلیو اے آئی) مجولی جزیرے کے لئے انتہائی ضرورت والی رابطہ کاری کی فراہمی کی غرض سے حکومت آسام کے اشتراک سے ایک نئی رول آن- رول آف  (رو-رو) سہولت  شروع کرنے جا رہی ہے۔ آسام کے وزیراعلیٰ جناب سربا نند سونووال 11؍اکتوبر 2018 کو نئی رو-رو سروس کو ہری جھنڈی دکھائیں گے۔ اس رورو کی سہولت سے 423کلومیٹر  اس سڑک راستے   کی دوری میں کمی آ جائے گی، جسے ٹرکیں تیزپور روڈ بِرج سے ہو کرمجولی جزیرے تک نیمتی سے طے کرتے ہیں۔ ندی کے راستے کا استعمال کر کے 12.7کلو میٹر  کی دوری تک یہ مسافت محدود ہو جائے گی۔

آئی ڈبلیو اے آئی نے  نئی سروس کے لئے 9.40کروڑ کی لاگت سے نئے جہاز ایم وی بھوپین ہزاریکا کی خریداری کی ہے اور ضرورت کے ٹرمنل بنیادی ڈھانچے بھی فراہم کر رہی ہے۔ 46.5 میٹر طویل، 13.3 میٹر چوڑے اس جہاز میں 8 ٹرکوں اور 100 مسافروں کو لے جانے کی گنجائش ہے۔ آئی ڈبلیو اے آئی دریائے برہمپترپر  استعمال کے لئے اس طرح کے مزید رو–رو  جہاز خریدنے کی منصوبہ بندی بھی کر رہی ہے۔

مجولی دریائے برہمپتر پر واقع دنیا کا  سب سےبڑا ساحلی علاقائی والا  جزیرہ ہے اور اسے رابطہ کاری کے سنگین چیلنجز درپیش ہیں۔ اس جزیرے میں 144 گاؤں ہیں، جس کی آبادی ایک لاکھ 50 ہزار سےزائد ہے۔ مجولی جزیرے تک رو–رو سروسیز کا آغاز نہ صرف یہ کہ آسام میں ، بلکہ پورے شمال مشرقی خطے میں رابطہ کاری  کو فروغ دینے کی سمت میں ایک اہم واقعہ ہوگا۔ فی الحال دریائے برہمپتر پر صرف 4 ہی  سڑک پُل ہیں۔ آسام کے جنوبی اور شمالی حصوں کے درمیان رابطہ کاری کےلئے یہ پُل جوگی گھوپا، گوہاٹی، تیز پور اور سادیا میں ہیں۔ ندی کے دونوں طرف رہنے والے لوگوں کو اپنی روزمرہ کی ضروریات کے لئے متعدد مقامات پر روایتی  فیری خدمات استعمال کرکے ندی کو عبور کرنا ہوتا ہے۔ پُلوں کی مناسب تعداد نہ ہونے کی وجہ سے کارگو اور مسافروں کو طویل سڑک راستوں کو اختیار کرنا پڑ تا ہے، جس کی وجہ سے وقت او ر پیسوں کا زیادہ نقصان ہوتا ہے۔

اس سے قبل آئی ڈبلیو اے آئی نے ڈھبری اور ہٹسن گماری کے درمیان  اسی طرح کی رو–رو سروس کی شروعات کی تھی، جس سے مسافت  190کلو میٹر کم ہو گئی تھی۔ اس مقصد کے لئے ڈھبری میں ایک مستقل رو–رو ٹرمنل کی تعمیر کی گئی تھی۔

Post source : pib