November 21, 2018

بھونیشور میں اسٹیل سیکٹر میں کیپٹل گڈس پر کانفرنس کااہتمام

نئی دہلی،18؍اکتوبر؍فولاد کی وزارت مہاراشٹر میں  اسٹیل سیکٹر میں کپٹل گڈس پر ایک کانکلیو (کانفرنس) مہاراشٹر اِن انڈیا کا اہتمام کر رہی ہے۔ یہ کانفرنس 23؍اکتوبر 2018 کو ہوگی۔ آج نئی دلی میں میڈیا کے افراد کو تفصیل بتاتے ہوئے  فولاد کے مرکزی وزیرجناب  چودھری بریندر سنگھ نے کہا کہ یہ کانکلیو اس فولاد کی وزارت کی ایک پہل ہے تاکہ  اسٹیل کے سیکٹر میں کیپٹل گڈس کی مینوفیکچرنگ، اہلیت  سازی اور گھریلو صلاحیت  سازی  کو فروغ دیا جا سکے۔ یہ کانفرنس میکون اور سی آئی آئی کے تعاون سے منعقد کی جا رہی ہے۔ اس کا مقصد بہترین نوعیت کے اداروں اور دنیا بھر کی صنعت کی مشترکہ کوششوں کے ذریعے ہندوستان کو ایک عالمی نوعیت  کا مینوفیکچرنگ  مرکز کے طور پر تبدیل کرنا ہے۔

فولاد کی قومی پالیسی  این ایس پی 2017 میں 31-2030 تک  300 ملین ٹن اسٹیل کی صلاحیت کے قیام کی گنجائش  رکھی گئی ہے، جس کا مطلب ہے کہ اگلے 12سالوں میں موجودہ صلاحیت  میں 2 اعشاریہ 5 گنا کا اضافہ کرنا ہے یعنی یہ صلاحیت 138 ملین ٹن سے بڑھا کر 300 ملین ٹن کرنا ہے۔ اس سلسلے میں 8 لاکھ کروڑ(روپے)سے زیادہ  کی مالیت کی سرمایہ کاری ہوگی۔ ڈالر میں یہ سرمایہ کاری 128 ارب کے بقدر ہوگی۔ موجودہ تجربے کی بنیاد پر 31-2030 تک 160ہزار کروڑ روپے یعنی 25 ارب امریکی ڈالر کے بقدر کیپٹل گڈس کے آلات درآمد ہونے کی توقع ہے۔

پچھے 2 سال سے ملک میں فولاد کی کھپت میں 7 اعشاریہ 9 فیصد کی شرح   سے اضافہ ہو رہا ہے۔2018 کے لئے ورلڈ اسٹیل ایسوسی ایشن کی 8ماہ میں اسٹیل کی پیدا وار کی اعدادوشمار کے مطابق ہندوستان دنیا میں فولاد پیدا کرنے والا دوسرا سب سے بڑا ملک بن گیا ہے۔ ہندوستانی اسٹیل کی پیداوار میں 6اعشاریہ 7فیصد کی شرح سے اضافہ ہورہا ہے اور  وہ  دنیا کی بڑی معیشتوں میں  سب سے زیادہ ترقی کا نشانہ حاصل کر رہا ہے۔

بہت سے مفاہمت ناموں، مشترکہ پروجیکٹوں، ٹیکنالوجی کی منتقلی اور سمجھوتوں  کے طور طریقوں  کی کثیر رُخی        مشترکہ کوششوں کے ذریعے ہندوستان کو  عالمی مینوفیکچرنگ ہب بنانے کے لئے مینوفیکچرنگ بنیاد کو       وسیع کیا جا رہا ہے، جہاں ملک کے اندر بیشتر کیپٹل گڈس  آلات تیار کئے جا سکتے ہیں۔

افتتاحی اجلاس کے علاوہ ایک روزہ کانکلیو میں اسٹیل سیکٹر کے لئے گھریلو کیپٹل گڈس  اہلیت  اور تعاون پر مبنی عالمی تجربے  سے متعلق دو پینل مذاکرے ہوں گے اورگھریلو صلاحیت سازی کو توسیع دینے کو فروغ دیا جائے گا، جس میں اسٹیل کی صنعت کے سربراہ ، پالیسی سازوں اور بیرون ملکوں کے ماہرین کلیدی امور، چیلنجوں اور ہندوستان میں اسٹیل صنعت کے لئے درکار حکومت کے تعاون پر تبادلۂ خیال  کریں گے۔

اس کانکلیو میں  5 مرکزی وزراء ، اڈیشہ کے وزیر اعلیٰ ، اسٹیل کی وزارت کے سکریٹری، بھاری صنعت کے محکمے کے سکریٹری اور  مرکز اور اڈیشہ کے سینئر افسران شرکت کریں گے۔ اس میں انڈین کیپٹل  گڈس کے مینو فیکچررس اور اس اسٹیل تیار والوں کی بڑی تعداد میں شرکت کرے گی۔

کانفرنس میں انڈین سی   جی مینوفیکچررس، بیرونی ٹیکنالوجی فراہم کرنے والے، غیر ملکی کپٹل گڈس مینوفیکچررس کنسلٹینٹس اور اسٹیل مینوفیکچررس کے درمیان 20 مفاہمت ناموں پر دستخط کئے جائیں گے۔ بیرونی مینوفیکچررس کا تعلق لگژمبرگ، اسپین، اٹلی، جرمنی، نیدرلینڈ، فِن لینڈ ،  چین  اور جاپان سے ہے۔ ان مفاہمت ناموں پردستخط کے ساتھ ہی آئندہ 12سالو ں میں اسٹیل کے سیکٹر میں میک ان انڈیا پہل کے حصے کے طور پر ملک میں 5ارب امریکی ڈالر کی مالیت کے درآمدشدہ کیپٹل گڈس تیار کئے جائیں گے۔

کنکلیو میں ورلڈ اسٹیل ایسوسی ایشن کا ایک نمائندہ اور تقریباً 350 مندوبین اور غیر ملکی ٹیکنالوجی کمپنیوں کے 28 سی ای اوز شرکت کریں گے۔

Post source : pib