April 24, 2019

صفائی ملازم دومن رائے کے اہل خانہ کو دس لاکھ روپئے معاوضہ

نئی دہلی۔30؍اکتوبر۔قومی صفائی ملازمین کمیشن این سی ایس کے صدر نے شمالی ضلع کےڈی ایم کو ہدایت کی ہے کہ صفائی ملازم دومن رائے کے اہل خانہ کو معاوضے کے طور پر دس لاکھ روپئے فوراً جاری کیے جائیں ۔ اس کے ساتھ ہی صدر موصوف نے یہ ہدایت بھی دی ہے کہ یہ کام اوّلین ترجیحی بنیاد پر کیا جائے۔

واضح ہو کہ کمیشن کو معلوم ہوا تھا کہ اتوار 21 اکتوبر 2018 کو دومن رائے نام کے ایک صفائی ملازم کی شمال مغربی دلّی کے جہانگیر پوری علاقے میں ایک والو کھولتے وقت 30 فٹ گہرے سیورٹینک میں گرنے سے موت ہوگئی تھی۔

کمیشن نے اس حادثے کے بارے میں معلومات حاصل کرنے کیلئے 25 اکتوبر 2018 کو جائے حادثہ کا دورہ کیا  ۔ اس جائزہ ٹیم میں شمالی دلّی کے ضلع مجسٹریٹ ، ایڈیشنل پولیس کمشنر ، جہانگیر پوری کے ایس ڈی ایم اور دلّی جل بورڈ کے افسران شامل تھے۔ جائے حادثہ پر چیف ایگزیکٹو آفیسر  نے اس حادثے کی تفصیلی معلومات فراہم کی اور وہاں جاری مرمت اور ترقیاتی کاموں کے بارے میں بتایا۔

شمالی علاقے کے ایڈیشنل پولیس کمشنر نے اس سلسلے میں بتایا کہ غلاظت ڈھونے کی شکل میں روزگار یا ملازمت پر روک اور ان کی بحالی کا قانون 2013  اور شیڈو ل کاسٹ/ شیڈول ٹرائب  کے تحت 30 اکتوبر 2018 کو یہ معاملہ درج کرلیا گیا ہے اور اس حادثے کے ذمہ دار 3 افسران پروجیکٹ منیجر اشونی جھا ، سیکورٹی آفیسر شبھم  نوٹیال اور انسپکٹر سبودھ کو گرفتار کرکے 24 اکتوبر 2018 کو عدالت کے سامنے پیش کیا گیا۔ سردست یہ لوگ 12 دن کی عدالتی تحویل میں ہیں۔

اس معاملے میں یہ بات بھی سامنے آئی ہے کہ مہلوک دومن رائے کو صرف ماسک اور سیکورٹی  بیلٹ ہی دی گئی تھی لیکن ایمبولینس کے ساتھ ڈاکٹر اور ضروری مقررہ سلامتی مشینیں نہیں دی گئی تھیں جو میلا ڈھونے کے طور پر ملازمت پر روک اور بحالی قانون 2013 اور عزت مآب سپریم کورٹ  کے 27 فروری 2018 کے فیصلے کی ہدایات کی صریحی خلاف ورزی ہے۔

Post source : pib