November 21, 2018

ڈاکٹر ہرش وردھن نے گیارہ مختلف زبانوں میں اسکولوں کے لئے استھما مینول کو جاری کیا

نئی دہلی،31 اکتوبر/ سائنس، ٹیکنالوجی ارضیاتی سائنسز ، ماحولیات ، جنگلات اور آب وہوا کی تبدیلی کے مرکزی وزیر ڈاکٹر ہرش وردھن نے آج یہاں اسکولوں کے لئے استھما مینول کو جاری کیا۔

گیارہ مختلف زبانوں میں ترجمہ شدہ اس استھما مینول کو ماحولیات ، جنگلات اور آب وہوا کی تبدیلی کے وزارت کے ذریعہ ملک بھر کے ایک لاکھ سے زائد اسکولوں میں ایک کلب کے ذریعہ نافذ کیا جائے گا۔ اس مینول میں بچوں کہ دمہ سے متعلق معلومات  اور بہترین طریقہ کار کو جس کو اسکولوں کے ذریعہ بخوبی لاگو کیاجاسکتا ہے، آسان ، سادہ اور قابل فہم طریقے سے ترتیب دیا گیا ہے۔

اس موقع پر اظہار خیال کرتے ہوئے ڈاکٹر ہرش وردھن نے کہا کہ ‘‘ اسکولوں کے لئے  استھما مینول سے ا سکولی ماحولی نظام کے تمام شراکت داروں کو دمہ سے متعلق بنیادی باتوں کو سمجھنے میں مدد ملے گی۔ علاوہ ازیں یہ دمہ مینول ایک ایسا ماحول قائم کرنے کے لئے مقبولیت پر مبنی اور قابل نفاذ حل کو پیش کرے گا جہاں دمہ کی دیکھ ریکھ کو موثر طور سے کی جائے گی اور جہاں  دمہ کے شکار بچے بھی صحت مند، خوش وخرم اور اسکول کی زندگی میں سرگرم رہ سکتے ہیں’’۔ وزیر موصوف نے مزید کہا کہ ‘‘پلس پولیو مہم کے اپنے ذاتی تجربات سے مجھے پورا یقین ہے کہ اسکول کے اساتذہ، انتظامیہ ، والدین اور طلباء کی مشترکہ کوششوں سے ہم اسکولوں میں دمہ کے لئے معاون اور امداد فراہم کرنے والا ماحول قائم کرنے کے قابل ہوں گے اور اپنے ملک میں ہر ایک بچے کی حفاظت کو یقینی بناسکیں گے۔

اس اہم اقدام کی اہمیت کو اجاگر کرتے ہوئے لنگ کیئر فاؤنڈیشن کے سی ای او اور شریک بانی  جناب ابھیشیک کمار نے کہا کہ ‘‘ ہندوستان میں بچوں میں دمہ کے بڑھتے ہوئے رجحان کو دیکھتے ہوئے اس طرح کی معلومات کی ا ہمیت کا فی بڑھ جاتی ہے’’

اسکول جانے والے دس فیصد سے زائد طلباء دمہ کے مرض کے شکار ہیں:

دمہ کے کنٹرول میں اگر تساہلی برتی گئی تو اس سےبچے کی جسمانی افزائش میں کمی ہوسکتی ہے۔ اس سے بچوں پر نفسیاتی اعتبار سے برے اثر ات مرتب ہوں گے۔ کیونکہ ان کااسکول ناغہ ہوگا اور وہ تندرست بچوں کا ساتھ نہیں دے پائیں گے۔ کیونکہ حفظان صحت کی سہولتوں کے لئے انہیں اکثر اسپتال جانا پڑے گا۔

سب سے اہم بات یہ ہے کہ اسکولوں میں دمہ سے متعلق بیداری نہ ہونے کے سبب مقصد سنگین معاملات یہاں تک کہ موت کے واقعات سے بھی رونما ہوتے ہیں۔ اس مینول میں ہنگامی حالات کی صورت میں کئے جانے والے مناسب اقدامات کو بھی بیان کیا گیا ہے۔

تمام مذکورہ چیزیں روکی جاسکتی ہیں۔ اس لئے یہ بات نہایت اہم ہے کہ اسکول انتظامیہ اور عملہ اس مسئلے کی شدت اور حساس نوعیت کو سمجھے اور اپنے اسکولوں میں اپنے بچوں کی حفاظت ، صحتمند ی اور خوشحالی کے تئیں اپنے عہد کے حصے کے طور پر دمہ موافق ماحول اور ایمرجنسی دمہ بندوبست پلان تیار کرنے کے لئے احتیاطی اور امتناعی اقدامات کرے۔ یہ بات سمجھنے کی ضرورت ہے کہ دمہ کے شکار بچے بھی معمول کے مطابق زندگی گزار سکتے ہیں۔ اگردمہ پر اچھی طرح کنٹرول ہوجائے تو یہ بچے بھی اعلی ترین سطح پر کھیلوں میں حصہ لے سکتے ہیں۔ وار دوسرے بچوں سے مقابلہ کرسکتے ہیں۔

 اس مینول میں درج معلومات اور سفارشات ہندوستان میں اسکولوں کی دمہ سے متعلق ضرورتوں کو پورا کرنے کے لئے ثبوت پر مبنی ہیں۔ اس مینول کو اس طرح ڈیزائن کیاگیا ہے کہ اسکول کمیونٹی کو کوئی بھی فردبشمول اساتذہ، اسکول انتظامیہ ، والدین اور طلباء بذات خود استعمال کرسکتے ہیں۔

استھما مینول ملک میں اپنی نوعیت کا پہلا مینول ہے۔ یہ مینول ملک بھر میں سکولی بچوں کے لئے ایک محفوظ ماحول فراہم کرے گا۔ دنیا کے متعدد ملکوں میں اس مسئلے سے نمٹنے کے لئے اسی طرح کے اہم اقدامات موجود ہیں۔

Post source : pib