November 21, 2018

ماہرین کی کمیٹی نے آڈٹ فرموں اور نیٹ ورک کو منضبط کرنے سے متعلق اپنی رپورٹ پیش کی

نئی دہلی،31 اکتوبر/ ماہرین کی کمیٹی نے آڈٹ کرنے والی فرموں اور نیٹ ورک کو منضبط کرنے سے متعلق اپنی رپورٹ ، کارپوریٹ امور کی وزارت کے سکریٹری کی وساطت سے حکومت ہند کو پیش کردی ہے۔ یہ کمیٹی ایس کمار  بنام سکریٹری، انسٹی ٹیوٹ آف چارٹیڈ اکاؤنٹس آف انڈیا معاملہ میں سپریم کورٹ کی ہدایت پر 20 اپریل 2018کو تشکیل دی گئی تھی۔ اس کمیٹی میں وزارت کارپوریٹ امور کے جوائنٹ سکریٹری جناب انوراگ اگروال، محکمہ کامرس کے ایڈیشنل سکریٹری جناب سدھانشو پانڈے اور محکمہ صنعتی پالیسی اور فروغ کے جوائنٹ سکریٹری جناب رویندر شامل تھے۔

کمیٹی کی رپورٹ میں سپریم کورٹ کے ذریعہ محتسب حضرات (آڈیٹروں) کے قانونی ضابطوں کو مستحکم کرنے نیز ملک میں احتساب(آڈٹ) کے پیشے کو فروغ دینے پر خصوصی توجہ کے ساتھ اٹھائے گئے  موضوعات پر توجہ مرکوزکی گئی ہے۔ کمیٹی نے ملک کی چار بڑی آڈٹ فرموں، جنہیں عام طور پر ملٹی نیشنل اکاؤنٹنگ فرمس کہاجاتا ہےکہ قانونی بنیادی ڈھانچہ اور کام کاج کے طریقہ کار کو سمجھنے کے لئے ، ان کا جائزہ لیا تھا۔ کمیٹی نے آڈیٹروں اور ان کے نیٹ ورک کے ذریعہ مہیا کی جانے والی غیر۔ آڈٹ خدمات کی وجہ سے مفادات کے ٹکراؤ اور شفافیت کے تعلق سے پیدا ہونے والی تشویشات کو دور کیا ہے اور ضروری چیک اینڈ بیلنس کا مشورہ دیا ہے۔ مزید برآں رپورٹ میں مارکیٹ پاور کے ارتکاز کے مسئلہ پر بھی توجہ مرکوز کی گئی ہےجو کہ آڈٹ سروسیز کے مارکیٹ کا دوسرا اہم ترین مسئلہ ہے۔

اس سلسلہ میں احتسابی پیشہ وروں کے انضباط میں سیلف ریگولیٹری ماڈل کی ناکامی کی وجہ سے آڈٹ ریگولیشن کے ڈومین میں خود انضباط سے آزاد ضابطہ جاتی ڈھانچے کی جانب واضح عالمی رجحانات ظاہر ہورہے ہیں۔ ان تبدیلیوں کی روشنی میں کمیٹی نے ضروری ادارہ جاتی اصلاح کے طور پر نیشنل فنانشیل رپورٹنگ اتھارٹی(این ایف آر اے) قائم کرنے کا مشورہ دیا ہے جو کہ ہندوستان کے آڈٹ کے منظر نامہ کو عالمی معیار کے ساتھ ہم آہنگ کرے گا۔ کمیٹی نے ہندوستان میں آڈیٹروں، آڈٹ فرموں اور کام کررہی آڈٹ فرموں کے نیٹ ورک سے متعلق درپیش چیلنجوں کا مقابلہ کرنے کے لئے این ایف آر اے کے کام کاج کو مزید مستحکم کرنےو الے اقدامات کی بھی سفارش کی ہے۔

چونکہ ہندوستان میں کارپوریٹ اور پیشہ وروں کے لئے کاروبار کے موافق ماحول مہیا کرنا کافی اہم ہے۔ اس لئے پیشہ وارانہ خدمات سے متعلق ہندوستان کے قوانین اور ضابطوں کو تیزی سے تبدیل ہورہی مارکیٹ کی صورتحال کے ساتھ ہم آہنگ کرنے کی ضرورت ہے۔ اس ضرورت کے پیش نظر، رپورٹ میں ایڈور ٹائزنگ ، کثیر شعبہ جاتی کام کرنے والی فرموں اور برانڈنگ جیسے اہم معاملات کی جانچ کی اور موجودہ قوانین کو ضابطہ بند کرنے کے اقدامات سے متعلق مشورے دئے ہیں۔

ان اقدامات سے نہ صرف کارپوریٹ کو پیش کی جانے والی خدمات کا معیار بہتر ہوگا بلکہ آڈٹ فرموں کو عالمی پیمانہ پر مسابقت کے لئے اپنی جسامت اور کام کاج کی توسیع میں بھی سہولت حال ہوگی۔

کمیٹی نے اپنے نتائج تک پہنچنے اور سفارشات کے لئے ایک وسیع طریقہ کا ر اپنایا تھا جس میں اندرونی میٹنگوں کاانعقاد، متعلقہ شراکت داروں کے ساتھ بات چیت ، سپریم کورٹ  کے فیصلہ میں زیر بحث آئی رپورٹوں کی جانچ کرنا اور آڈٹ کے منظر نامہ میں موجود عالمی ادب اور بہترین طریقہ کار شامل تھا۔

کمیٹی کو نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف پبلک فنانس اینڈ پالیسی کے نیٹ ورک سے بھی مدد ملی ہے۔

Post source : pib