November 21, 2018

افریقہ کی مدد کے ہندستان کے عہد کا افریقی قیادت کے ذریعہ واضح طور پر اعتراف کیا گیا ہے : نائب صدر

نئی دہلی، 6نومبر   2018/افریقہ کے ساتھ  ہندستان کے  خوشگوار  رشتے برقرار رکھنے کے عزم کے ساتھ نائب صدر جمہوریہ  ہند جناب ایم  وینکیانائیڈو نے  آج   تین ملکوں یعنی  بوتسوانہ، زمبابوے اور ملاوی   کا دورہ کامیابی کے ساتھ مکمل کیا۔  اپنے ہفتہ بھر کے دورہ کے دوران   انہوں نے   بوسوانہ کے ساتھ جناب  موگووتسی مسیسی ، زمبابوے کے صدر جناب  ایمرسن   منن گگوا  اور ملاوے کے صدر  پیٹر متھاریکا کے ساتھ  وزیراعظم جناب نریندر مودی کے ذریعہ حال ہی میں افریقہ کے ساتھ باہمی رشتوں کو فروغ دینے کے لئے وضع کردہ 10 رہنما  اصولوں کے خطوط پر وسیع تبادلہ خیال کیا۔

نائب صدر کا ان تینوں ملکوں میں پرتپاک  اور  گرمجوشی کے ساتھ استقبال  کیا گیا۔  بوتسوانہ کے صدر نے   نائب صدر سے ملاقات کے لئے جب وہ زمبابوے کے ہوائی اڈہ سے روانہ ہورہے تھے  پروٹوکول توڑ کر    موزبیق آئے اور واپس گئے  ۔

زمبابوے کے صدر جناب ایمرسن  منن گگوا  نے باہمی مفاد کے  متعدد موضوعات پر تبادلہ خیال کے لئے جناب وینکیانائیڈو کے ساتھ ایک گھنٹے سے زائد وقفہ گذارا،اور ملاوی میں  صدر  پیٹر متھاریکا نے نائب صدر جمہوریہ کے اعزاز میں    ایک عصرانہ دیا جس میں ملاوی کے  خاتون اول بھی موجود تھیں۔

نائب صدر جمہوریہ  کا ان تینوں ملکوں کا دورہ  اس معنی میں کافی اہم تھا کیونکہ     کافی وقفہ کے بعد   یہ پہلا اعلی سطحی دورہ تھا۔ درحقیقت زمبابوے   کا تو یہ  21 سال بعد  کا دورہ تھا۔

ایئر انڈیا ون  پر نامہ نگاروں کے ساتھ بات چیت کرتے ہوئے  نائب صدر  جمہوریہ    جناب وینکیانائیڈو نے کہا کہ   نائب صدر جمہوریہ کے اعلی سطحی دورے کے ساتھ   صدر جمہوریہ   ، نائب صدر اور وزیراعظم کی سطح پر    ہندستان کا یہ  تیسواں اعلی سطحی   دورہ رہا ہے۔  انہوں نے اسے غیر معمولی دورہ قرار دیا۔   انہوں نے مزید کہا کہ ان کے اس  دورے سے  موجودہ  رشتوں کو   اعلی سطح پر لے جانے  اور نئے شعبوں میں  رشتوں کو بہر بنانے   کے لئے مشترکہ بنیاد  قائم کرنے میں مدد ملے گی۔  انہوں نے کہاکہ میرے دورے  سے  واضح طور پر یہ ظاہر ہورہا  ہے کہ اس کے تمام مقاصد حاصل ہوگئے ہیں۔

افریقی ممالک کی ترقیاتی عمل   میں مدد جاری رکھنے   اور سفارتی ، اور باہمی  رشتوں  نیز   عوام کے مابین رابطہ کو بہتر بنانے   کی ہندستان کی کوششوں  کے تینوں  ملکو ں کا صدور کے ذریعہ   اعتراف کیا گیا ہے۔

جناب وینکیانائیڈو نے  کہا کہ    زمبابوے کے  صدر نے   عالمی برادری میں   الگ تھلگ  پڑنے ہونے کے دوران    ہندستان کےاس کے  ساتھ    کھڑا ہونے کے کے لئے فوری طور پر شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے کہا کہ   تینوں ملکوں کی قیادت  نے متعدد پروجیکٹوں کے لئے آسان شرائط پر قرضے    کے ذریعہ   پائیدار   ترقیاتی امداد  جاری رکھنے کے لئے ہندستان کا شکریہ ادا کیا۔

ان کے اس دورے کے دوران     ہندستان میں  بوتسوانہ، زمبابوے اور ملاوی  کو   ترقیاتی شراکت    داری، زمبابوے میں متعدد پروجیکٹوں کے لئے 350 ملین امریکی ڈالر  ، ملاوی میں    پانی کی فراہمی کے پروجیکٹوں کے  لئے 220 ملین امریکی ڈالر  کے آسان  قرضے  کی فراہمی  کے علاوہ   زمبابوے    اور  ملاوی   میں  مہاتما گاندھی  کنونشن  سینٹرل قائم کر کےلئے امداد دینے کاپختہ   عزم ظاہر کیا۔

نائب صدر نے کہا کہ تینوں ملکوں نے صلاحیت  سازی میں خصوصی  طور پر دلچسپی لی ہے۔  وہ ہندستان کے آئی ٹی ای سی پروگرام کے یکساں طو رپر  قدر شناس  اور مشکور ہیں کیونکہ   ہم مختلف  شعبو ں میں ان کے شہریوں کو ٹریننگ  دی ہے۔  بوستوانہ کے لئے نائب  صدر نے موجودہ سالانہ  140 سے سلاٹ بڑھانے کی پیش کش کی ہے۔ ہندستان نے ان ملکوں کے جونیئر  سفارتکاروں  کی ٹریننگ   کے لئےماہرین  کی تعیناتی  پر بھی اتفاق کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم آئی ٹی ای سی  کے تحت   زمبابوے  کی مدد کے لئے  مختلف شعبوں سےتعلق   رکھنے والے  5 ماہرین بھی تعینات کررہے ہیں۔

 نائب صدر  اورتینوں افریقی ملکوں کی قیادت  کے ساتھ  مذاکرات  کے دوران اہم موضوعات  میں صلاحیت  سازی،  آئی  آئی ای سی  پروگراموں کے ذریعہ  تکنیکی  معلومات  کا تبادلہ،  یورنیم  ، تانبا،  نیسکل اور ریلویز  و  بنیادی  ڈھانچہ،  لاجسٹکس  وغیرہ  سر فہرست  تھے۔ ان رہنماؤں کے ذریعہ   افریقی   خطہ میں ہنر مندی کے فروغ،  ٹیلی ، ایجوکیشن  ، ٹیلی میدسن  میں ہندستان کی مدد کی تعریف کی۔

نائب صدر جمہوریہ کے دورے کے دوران تینوں  ملکوں کے مفاہمتی  دستاویز  پر دستخط  بھی ہوئے۔  ملاوی کے ساتھ    نیوکلیائی   توانائی  ریگولیٹری  فرم ورک  اور اس کو تحفظ  فراہم کرانے کے معاملے  میں زمبابوے  کے ساتھ  علم الارضیات، کانکنی اور معدنیات  کے شعبے  میں زمبابوے  کے ساتھ مفاہمتی  دستاویز پر دستخط کے علاوہ   بو تسوانہ اور زمبابوے  کے ساتھ  خام ہیرے  کی براہ راست  تجارت  کے مواقع   تلاش کرنے سے متعلق  ایک مفاہمتی  دستاویز پر دستخط ہوئے۔

ہندستان  نےزمبابوے  کے ساتھ  روایتی  طریقہ علاج  کے سلسلہ میں ایک مفاہمتی  دستاویز پر دستخط کئے ہیں۔  دیگر  اہم معاہدوں میں ملاوی کے ساتھ حوالگی کا معاہدہ  اور زمبابوے کے ساتھ  پرساربھارتی نے نشریات کے علاوہ فنون لطیفہ  ، تہذیب ثقافت، ہریٹیج  اور آئی  سی ٹی سے متعلق  ایک منصوبہ  عمل کے سلسلہ میں بھی معاہدے ہوئے ہیں۔

تینوں ملکوں نے صحت کے شعبے میں ہندستان میں طبی خدمات کے علاوہ  متعلقہ  ممالک  میں ہمارے پرائیوٹ اسپتالوں کے ذریعہ  فراہم کی جارہی خدمات  اور ہندستانی ادویات  کے بڑھتے  مطالبات  کی بھی تعریف کی۔ نائب صدر نے ملاوی  کو بھابھا ٹرون کینسر مشین  عطیہ  کے طور پر  دینے اور تینوں ملکوں کو ایمبولینس  اور زندگی بچانے والی   ادویہ  کا  عطیہ دینے کا بھی اعلان کیا۔

 جناب نائیڈو  نے انہیں  ہندستان کے روایتی   طریقہ ہائے  علاج خصوصاً آیوروید اور یوگا  کے بارے میں بتایا اور وہاں کی قیادت  ان شعبوں  میں  معقول  امکانات  پر بھی   متفق ہوئی ہے  کیونکہ  ان تینوں ملکوں میں وہاں کا اپنا  روایتی  طریقہ ہائے   علاج  موجود ہے۔

افریقہ  کے لئے زراعت دلچسپی کا اہم شعبہ رہا ہے۔  اس لئے وہاں کے تینوں رہنماؤں نے اپنے زرعی  شعبہ  میں ہندستان  کی وسیع   شراکت  کے امکانات  کا غیر مقدم کیا ہے۔   نائب  صدر نے اپنی جانب  سے خصوصاً  قدر و قیمت  کے اعتبار سے اہمیت  کی حامل  اشیا  اور فوڈ پروسیسنگ  کے میدان میں وسیع  شراکت  کا امکان  تلاش کرنے کا وعدہ کیا۔

دونوں  رہنماؤں نے دفاع  کے شعبہ میں وسیع  تعاون کی ضرورت کا اعتراف کیا۔  ہندستانی فوج کی تربیتی  ٹیم کا بوتسوانہ بھیجنا، زمبابوے اور ملاوی کو دفاع کے شعبوں میں ٹریننگ  دینا،  وہ موضوعات جو جناب نائیڈو  کے مذاکرات  میں نمایاں  طور پر شامل تھے،   تینوں رہنماؤں نے نائب صدر کی اس بات سے اتفاق کیا کہ سیکورٹی کو آپریشن  خصوصاً   دہشت گردی  کا مقابلہ کرنے میں تعاون  کو مستحکم  کرنے کی ضرورت ہے۔

مذکورہ  تینوں  ملکوں میں نائب صدر  جمہوریہ  نے وہاں مقامی  اور وہاں مصروف   عمل ہندستان کے کاروبایوں  کے ساتھ بات چیت کی ۔ انہیں وہاں  کے پروقار   سالانہ  گلوبل  ایکسپو 2018 کے افتتاح  کا اعزاز بھی حاصل ہوا۔  ہندستان  28  کمپنیاں  اپنے بڑے دستہ  کے ساتھ  شرکت کررہی ہیں۔

 باہمی  ملاقاتوں کے اپنے مصروف   ترین  پروگرام کے دوران  نائب صدر جمہوریہ  نے بوتسوا نہ میں   ڈائمنڈ ٹریڈنگ  سینڑ کے دورے کا بھی  موقع نکال لیا۔  انہوں نے ملاوی  میں بزنس  انکبویشن  سینٹر  کے افتتاح  کے لئے تختی  کی رونمائی بھی کی۔   یہ سینٹر  ہندستان کے تعاون سے تعمیر ہوا ہے۔

 نائب صدر جمہوریہ  نے تینوں ملکوں کی ہندستانی برادری  سے خطاب کیا وہاں انہوں نے متعلقہ  ملکوں  میں مقیم  ہندستانی  سفیروں کے ذریعہ   اعزاز  کے دوران بھی ہندستانی برادری  سے خطا ب کیا ۔ اپنی بات چیت کے دوران انہوں نے وزیراعظم نریندر مودی کے ذریعہ  شروع کئے گئے   تبدیلی کے اصلاحات کے بارے میں  بتایا اور  سامعین کو ہندستان کی ترقی  کی کہانی  کے بارے میں  بتایا  جن کی وجہ سے ہندستان، دنیا  کی تیسری  سب سےبڑی  معیشت  بننے کے قریب پہنچ گیا ہے۔

نائب صدر  جمہوریہ  ن ہند نژاد  برادری کے اپنے موجودہ جائے قیام کی  ترقی میں تعاون  پر خوشی ظاہر کی۔ انہوں نے کہا کہ   تینوں ملکوں  کی اقتصادی  ترقی میں ہند نژاد  برادری  کے تعاون کےبارے میں  سننا  خوش  کن ہے۔

 نائب   صدر جمہوریہ  نے اقوام متحدہ   سمیت  متعدد  بین الاقوامی  پلیٹ فارموں  پر ہندستان کی حمایت کے  شعبے ہندستان   کے ساتھ مل کر کام کرنے کی خواہش  ظاہر کی  اور بین الاقوامی  شمسی اتحاد  (آئی  ایس اے) کےموضوع پر ہندستان کی پہل کی کافی تعریف کی۔

 ملاوی نے انٹرنیشنل   سولر  الائنس  (آئی اس اے) سے متعلق   فریم ورک معاہدے پر جہاں قبل ہی دستخط کردیئے تھے اب اس کو توثیق  کردی ہے۔  وہیں زمبابوے   نےبھی  نائب صدر  کے دورہ  بوتسوار کے  دوران  آئی ایس  اے معاہدہ  پر دستخط کردیئے ہیں۔

نائب صدر  جمہوریہ  نے ملاوی  میں ایک انوکھی  تقریب انڈیا  فار ہیومنیٹی   کا افتتاح کیا۔   جس کا مقصد  مہاتما گاندھی    کی 150 ویں   سالگرہ  منانا تھا۔  جے پور فورٹ  کےکیمپوں  کا اہتمام کرے گا  اور اگر ضرورت  محسوس ہوئی تو  وہ  ضرورتمندوں کی مدد کرے گا۔

حکومت ‘‘ انڈیا  فار ہیومنیٹی’’ پہل میں بھگوان مہاویر  و کلانگ  سمیتی کے  ساتھ شراکت دار ہے۔

 نائب صدر جمہوریہ کو افریقہ کے ملاوی میں اس سلسلہ میں  پہلے جے پور فٹ کیمپ  شروع کرنے کا اعزاز  حاصل  ہوا  کیونکہ  مہاتما گاندھی  نے دہائی سے زائد  عرصہ یہاں گذارا تھا اور بعد میں عدم تشدد  کی تحریک کی قیادت کی  جس کے نتیجہ میں  ہندستان  غلامی سے آزاد ہوا  اور اس عمل سے اپنے ملک کو آزادی دلانے کے لئے افریقی رہنماؤں کو ترغیب ملی تھی۔

نائب صدر جمہوریہ کے ساتھ اس  دورہ پر گئے اعلی سطحی وفد  میں   سماجی انصاف اور تفویض اختیارات کے وزیر مملکت  کرشن پال گرجر    اور دو اراکین پارلیمنٹ  جنکے نام جناب   کے -سریش اور جناب  وی مرلی دھرن  ہیں،  اور ان کے علاوہ  اعلی حکام بھی شامل تھے۔

Post source : pib