November 21, 2018

وزیر اعظم 12نومبر کو وارانسی میں ملٹی ماڈل ٹرمنل کو قوم کے نام وقف کریں گے

نئی دہلی،08نومبر 2018؍وزیر اعظم جناب نریندر مودی 12نومبر2018ء کو وارانسی میں دریائے گنگا پر نو تعمیر ملٹی ماڈل ٹرمنل کو قوم کے نام وقف کریں گے۔ یہ ٹرمنل دریائے گنگا پر بنائے جارہے تین ملٹی ماڈل ٹرمنلز اور 2انٹر ماڈل ٹرمنلز میں سے ایک ہے۔ یہ ملٹی ماڈل ٹرمنلز حکومت کے جل مارگ وکاس پروجیکٹ کا ایک حصہ ہیں جس کا مقصد 1500 سے 2000 ٹن وزنی بڑے جہازوں کے لیے دریائے گنگا پر وارانسی اور ہلدیا کے درمیان توسیعی راستہ یا گزرگاہ تشکیل دینا ہے ، تاکہ اس توسیعی گزرگاہ میں محفوظ جہاز رانی کے لیے ضروری 3-2 میٹر کا خشک راستہ مینٹین کیاجائے اور دیگر سہولتیں فراہم کرائی جائیں ۔اس کا مقصد اندرون ملک آبی راستوں کو بڑھاوا دینا ہے تاکہ سستے اور زیادہ ماحول دوست ٹرانسپورٹ، خصوصی طورپر کارگو کے نقل وحمل کو فروغ حاصل ہو۔ اندرون ملک آبی گزرگاہ اتھارٹی آف انڈیا(آئی ڈبلیو اے آئی) اس پروجیکٹ کے نفاذ کے لیے ذمہ دار ہے۔

جل مارگ وکاس پروجیکٹ (جے ایم وی پی) عالمی بینک کی تکنیکی تعاون اور سرمایہ امداد کے ساتھ قومی آبی شاہراہ ؍گزرگاہ I- کی توسیع ہلدیا-وارانسی پر اس پروجیکٹ کا نفاذ کررہی ہے۔ اس پروجیکٹ پر اندازاً 5369.18 کروڑ روپے(800 ملین امریکی ڈالر جس میں سے آئی بی آر ڈی 375 امریکی ڈالر کا قرض شامل ہے) کی لاگت آنے کا امکان ہے۔ مذکورہ رقم میں 50:50کی بنیاد پر حکومت ہند اور عالمی بینک کا معاہدہ ہے۔ پروجیکٹ کے تحت تین ٹرمنلز(وارانسی، صاحب گنج اور ہلدیا) 2 انٹر ماڈل ٹرمنلز، 5رول-آن –رول آف(رو –رو) ٹرمنل جوڑے؛ فرکا پر نیا جہاز رانی لاک، دریا؍سمندر سے کیچڑ نکالنے والی مشین، جہازوں کی مرمت اور رکھ رکھاؤ کی مربوط سہولت،ڈفر ینشیل  گلوبل پوزیشننگ سسٹم(ڈی جی پی ایس)ریور انفارمیشن سسٹم(آر آئی ایس)، دریا کی تربیت (ریورٹریننگ)اور  دریا کے تحفظ کے کام شامل ہیں۔

 وارانسی-ماڈل ٹرمنل(ایم ایم ٹی)کی اہم خصوصیات درج ذیل ہیں:

  • یہ قومی آبی شاہراہI-پر پہلا ملٹی ماڈل ٹرمنل ہے۔
  • اراضی:33.34 ہیکٹیئر۔
  • ایم ایم ٹی کے پہلے مرحلے کی لاگت:206.84کروڑ روپے۔
  • ٹرمنل کی گنجائش:1.26ایم پی ٹی اے۔
  • پروجیکٹ کے آغاز کی تاریخ:جون 2016ء۔
  • پروجیکٹ مکمل ہونے کی تاریخ:نومبر 2018ء۔

پروجیکٹ کے درج ذیل اہم عناصر ہیں جو عمل یا کام کے لئے تیار ہیں:

  • پُل(جیٹی): لمبائی x200چوڑائی 42میٹر، جہاز کے گودی میں ٹھہرنے اور لنگر ڈالنے کی سہولت کے ساتھ۔
  • 2 موبائل ہاربر کرینز۔
  • اپروچ روڈ۔
  • اندرونی سڑک۔
  • اسٹون پچنگ ورکس اور کناروں کا تحفظ۔
  • ذیلی عمارتیں، تیار کارکن سہولت عمارت کا خول(شیل)ڈھانچہ۔

ملٹی ماڈل ٹرمنل کے آپریشن، مینجمنٹ اور فروغ کا کام، پی پی پی ماڈل پر ایک آپریٹر کی تحویل میں دینے کی تجویز ہے۔ پی پی پی آپریٹر کا انتخاب انٹرنیشنل کامپیٹیٹو بڈنگ یعنی بین الاقوامی مقابلہ جاتی نیلامی کے ذریعہ کیا جائے گا، جس پر عمل آوری شروع ہوچکی ہے اور اس کے دسمبر2018ء تک مکمل ہونے کی  امید ہے۔

اس ملٹی –ماڈل ٹرمنل اور فریٹ ولیج پروجیکٹ سے 500 راست روزگار اور 2000 سے زیادہ بالواسطہ روزگار پیدا ہونے کا امکان ہے۔

وزیر اعظم 30 اکتوبر 2018ء کو کولکاتہ سے روانہ ہوئے کنٹینر جہاز جس کا تعلق پیپسکو (انڈیا) سے ہے، وارانسی پہنچنے کے موقع پر موجود رہیں گے۔ آزادی کے بعد پہلی مرتبہ اندرون ملک آبی گزرگاہ کے ذریعے کنٹینر کا نقل و حمل ہورہا ہے۔ آئی ڈبلیو اے آئی جہاز، ایم وی رابندر ناتھ ٹیگور کنٹینر خوراک او رنمکین سے بھرے 16 کنٹینروں میں 16 ٹرکوں کے مساوی وزن ہے، کو ٹرانسپورٹ کررہا ہے اور اس کے 11نومبر 2018ء کو وارانسی پہنچنے کا امکان ہے۔ اس کی واپسی کھاد اور فرٹیلائزرس کے ساتھ ہوگی۔

اسی روز ایک دوسری تقریب میں وزیر اعظم، قومی شاہراہ پروجیکٹ-بابت پور-وارانسی ایئرپورٹ روڈ اور وارانسی رنگ روڈ کا بھی افتتاح کریں گے۔ اس کے علاوہ، وزیر اعظم شہر میں کچھ سیویج پروجیکٹوں کا افتتاح کریں گے اور صاف گنگا کے قومی مشن نمامی گنگے پروگرام کے تحت ایک پروجیکٹ کا سنگ بنیاد رکھیں گے۔

Post source : pib