November 21, 2018

جی ایس ٹی ریفنڈ کا دعوی کرنے والے یو آئی این اداروں کے لئے ایڈوائزی

نئی دہلی، 9نومبر   2018/ جی ایس  ٹی ایکٹ میں    کونسلیٹ   ، ایمبیسیوں اور اقوام متحدہ کےدوسرے اداروں کو     ادا کی گئی   جی ایس ٹی کے ریفنڈ کا دعوی کرنے کے لئے  منفرد     شناختی نمبر   (یو آئی  این ) الاٹ کرنے کا التزام ہے۔     ریفنڈ کا دعوی کرنے کی شرائط    میں سے ایک      ، عام پورٹل پر    ان کے   فارم جی ایس ٹی آر -11 میں   انوائس لیول ڈاٹا     داخل کرنا ہوتا ہے۔     ریفنڈ کے لئے  درخواستوں   کی جانچ کرتے ہوئے  جی ایس  اتھارٹیز کے ذریعہ عام  خامیوں کو دیکھا گیا ہے۔

سی جی ایس ٹی رول  2017 کے ضابطہ  82 کے تحت   فارم  جی ایس  ٹی آر -11  ہر ایک انوائس کے لئے جس کے لئے ریفنڈ کی درخواست   داخل کی گئی ہے    ‘‘ پلیس آف سپلائی’’  کو درج کرنا ضروری ہے۔ متعدد یو آئی این ادارے انوائس کے اعدادوشمار    داخل کرتے ہوئے ریاست کے طور پر جہاں وہ     سپلائی کی   جگہ کی بجائے  رجسٹرڈ ہیں     اپنی سپلائی کو درج کرتے ہیں۔   یہ   ان کے چلان  سے ظاہر ہوتا ہے۔

مثال کے طور پر    دہلی میں   درج  رجسٹرڈ اسمبلیاں    لگاتار   اپنے پلیس آف سپلائی کے طور پر   ‘‘ نئی دہلی  ’’ کو ظاہر کرتی ہیں۔      یہاں تک کہ  ہوٹل  کی سروس   جو  ریاست مہاراشٹر میں مہیا کرائی  گئی ،اس میں    مہاراشٹر کو    پلیس آف سپلائی ہے۔

یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ جی ایس ٹی قانون کے تحت   پلیس آف سپلائی   جہاں سی جی ایس ٹی /ایس  جی ایس ٹی  یا    آئی جی ایس ٹی    ٹیکس    قابل وصول ہوتا ہے۔     عام طو رپر      چند  استثنی کو چھوڑ  کر  سپلائر کی جگہ   اور  سپلائی کی جگہ  ایک ہی ریاست میں ہے تو   سی جی ایس ٹی     اور ایس جی ایس ٹی    ، چلان میں تبدیل ہوگا اور اگر   سپلائر    اور پلیس آف سپلائی علیحدہ علیحدہ   ریاستوں میں ہے تو     آئی جی ایس ٹی وصول کیا جائے گا۔

 لہذا    یہ مشورہ دیا جاتا ہے کہ     چالان  پر  ‘‘سپلائی کی جگہ اور سی جی ایس ٹی   / ایس جی ایس ٹی   یا آئی جی ایس ٹی کی وصولی   درج کرتے ہوئے      تفصیلات   اشیا اور خدمات  فراہم کرنے والوں کے ذریعہ     جاری کردہ  چالان میں درج   تفصیلات   کےمطابق ہی   تفصیل درج کرنا ہوگی۔  فارم جی ایس ٹی آر  11 میں درج فارم   جی ایس ٹی    چالان سطح کے  ڈاٹا یا  جمع کئے گئے      بیان   میں غلط رپورٹنگ  کےنتیجے میں ریفنڈ کے دعوے کی پروسسینگ میں تاخیر ہوگی یا وہ   مسترد کردیے جائیں گے۔

Post source : pib