November 21, 2018

کابینہ نے بی ایس این ایل، ایم ٹی این ایل اور بی بی این ایل کے ذریعے کی گئی خریداریوں میں میسرز آئی ٹی آئی لمیٹیڈ کے خریداری کوٹہ کو منظوری دی

نئیدہلی،8؍نومبر، وزیراعظم جناب نریندر مودی کے زیر صدارت معاشی امور سے متعلق کابینہ کمیٹی نے  بی ایس این ایل، ایم ٹی این ایل اور بی بی این ایل کے ذریعے کی گئی خریداریوں میں میسرز آئی ٹی آئی لمیٹیڈ کے خریداری کوٹہ کو منظوری دی ہے ۔

معاشی امور سے متعلق کابینہ کمیٹی (سی سی ای اے) کمیٹی نے میسرز آئی ٹی آئی لمیٹیڈ کے خریداری کوٹہ کو جاری رکھنے کے سلسلے میں مواصلات کے محکمے کی درج ذیل تجویز کو آج منظوری دی ہے۔

  • میسرز آئی ٹی آئی لمیٹیڈ کیلئے ریزرویشن کوٹہ پالیسی کو جاری رکھنا ، بی ایس این ایل، ایم ٹی این ایل اور بی بی این ایل کے ذریعہ دیئے گئے کُل خریداری آرڈروں  (آرڈر)کا 30 فیصد میسرز آئی ٹی آئی لمیٹیڈ کیلئے محفوظ رکھا جائے گا۔ کوٹہ سے متعلق یہ ریزرویشن میسرز آئی ٹی آئی لمیٹیڈ کے ذریعہ تیار مصنوعات کے ساتھ ساتھ آؤٹ سورس کی گئی اُن مصنوعات کیلئے بھی ہوگا، جن میں میسرز آئی ٹی آئی لمیٹیڈ کےذریعے سال 19-2018 کے دوران کم از کم 12فیصد قدر میں اضافہ کیا گیا ہے اور سال 20-2019 میں 16 فیصد قدر میں اضافہ اور سال 21-2020 میں 20 فیصد قدر میں اضافہ کیا جائے گا۔
  • تیار شدہ پروجیکٹوں کیلئے کُل آرڈر کا 20 فیصد ریزرو رکھا جائے گا (جیسے کہ  بی ایس این ایل اور ایم ٹی این ایل کے جی ایس ایم نیٹ ورکو شروع کرنا، وائی فائی وغیرہ اور بی بی این ایل کے  بھارت نیٹ پروجیکٹ نیٹ ورک کو شروع کرنا، وغیرہ۔
  • آئی ٹی آئی، ریزرویشن کوٹے کے تحت آرڈر کو تبھی قبول کرے گا، جب قیمت کے بارے میں جانکاری مل جائے گی اور یہ قیمت معاشی اعتبار  سے مناسب ہوگی۔
  • آئی ٹی آئی بولی کھلنے کے 15 دنوں کے اندر ریزرویشن کوٹے کے تحت اپنے متبادل کا استعمال کرے گی۔
  • مذکورہ بالا پالیسی  اقدامات سی سی ای اے کی منظوری ملنے کی تاریخ سے لے کر اگلے 3برسوں تک مؤثر رہیں گے۔ متعینہ مدت ختم ہونے کے بعد آئی ٹی آئی کی مالی صورتحال کو دھیان میں رکھتے ہوئے اس پالیسی کا پھر سے جائزہ لیا جائے گا۔

پس منظر:۔

میسرز آئی ٹی آئی لمیٹیڈ وزارت مواصلات  ، محکمہ مواصلات کے انتظامی کنٹرول کے تحت سرکاری شعبے کے مرکزی ادارےکے شیڈیول ’’اے‘‘میں درج ہے۔ یہ کمپنی           دفاعی کمیونکیشن  اور نیٹ ورکنگ سے متعلق ضروریات سپلائی کرتی ہے اور اسی کے ساتھ یہ بھارتی فوج کو اِنکرپشن مصنوعات    کی بھی سپلائی کرتی ہے۔ اس کے بڑے گاہکوں میں بی ایس این ایل، ایم ٹی این ایل، دفاع، نیم فوجی دستے اور ریاستی حکومتیں شامل ہیں۔ آئی ٹی آئی کی 6 مینوفیکچرنگ اکائیاں بنگلور (کرناٹک)، رائے بریلی، نینی اور منکا پور ( سبھی یوپی میں)، پلکڑ (کیرالہ) اور سرینگر (جموں و کشمیر) میں ہیں۔

چونکہ یہ کمپنی  2004میں  خستہ حال ہو گئی تھی اور اسے بی آئی ایف آر کے سپرد کر دیا گیا تھا، اس لئے جی سی ای اے نے 12؍فروری 2014 کو منعقد اپنی میٹنگ میں اس کے احیاء کے لئے 4156.79کروڑ روپے کی مالی مدد فراہم کرانے کی تجویزکو منظوری دے دی تھی۔ ٹیلی کام مینوفیکچرنگ کے مسابقتی ماحول میں آئی ٹی آئی کے وجود کو بنائے رکھنے کے لئے  بی ایس این ایل اور ایم ٹی این ایل  30 فیصد کا ریزرویشن کوٹہ آئی ٹی آئی لمیٹیڈ کے لئے الگ رکھتی رہی ہیں۔ آئی ٹی آئی لمیٹیڈ کو دیئے جانے والے ریزرویشن فائدہ کا جواز 31؍مئی 2018 کو  ختم ہو گیا ہے۔

بی ایس این ایل، ایم ٹی این ایل اور بی بی این ایل سے درخواست کی جائے گی کہ وہ آئی ٹی آئی لمیٹیڈ کومزید  3سالوں تک خریداری کوٹے کا فائدہ پہنچائیں۔

بڑا اثر:

  • بی ایس این ایل، ایم ٹی این ایل اور بی بی این ایل کے ذریعے دیئے گئے کُل خریداری آرڈروں کا 30 فیصد میسرز آئی ٹی آئی لمیٹیڈ کے لئے ریزرو رکھا جائے گا۔ کوٹہ سے متعلق یہ ریزرویشن میسرز آئی ٹی آئی لمیٹیڈ کے ذریعہ تیار مصنوعات کے ساتھ ساتھ آؤٹ سورس کی گئی اُن مصنوعات کیلئے بھی ہوگا، جن میں میسرز آئی ٹی آئی لمیٹیڈ کےذریعے سال 19-2018 کے دوران کم از کم 12فیصد قدر میں اضافہ کیا گیا ہے اور سال 20-2019 میں 16 فیصد قدر میں اضافہ اور سال 21-2020 میں 20 فیصد قدر میں اضافہ کیا جائے گا اورتیار شدہ پروجیکٹوں کیلئے کُل آرڈر کا 20 فیصد ریزرو رکھا جائے گا (جیسے کہ  بی ایس این ایل اور ایم ٹی این ایل کے جی ایس ایم نیٹ ورکو شروع کرنا، وائی فائی وغیرہ اور بی بی این ایل کے  بھارت نیٹ پروجیکٹ نیٹ ورک کو شروع کرنا، وغیرہ۔ اس سے مصنوعات سے متعلق سرگرمیوں کیلئے ایف ایل ٹی کے لئے کافی آرڈر کو یقینی بنانے میں مدد ملے گی۔ بی ایس این ایل، ایم ٹی این ایل اور بی بی این ایل کی طرف سے خریداری کوٹے کاالتزا م ہونے سے آئی ٹی آئی کی آرڈر بُک کو مزید فروغ ملے گا اور اسی کے ساتھ اس کی مالی صورتحال کو بہتر بنانے میں مدد ملے گی۔

اس فیصلے سے آئی ٹی آئی  فیضیاب ہوگی۔ ا  س سے کمپنی میں خصوصی طور پر نئی ٹیلی کام ٹیکنالوجیز کے شعبے میں روزگار کے مزید مواقع پیدا کرنے میں بھی مدد ملے گی۔

Post source : pib