December 13, 2018

گودھرا سانحہ،ضمانت عرضداشت پر سماعت کے لیئے وقت مقرر

گودھرا سانحہ،ضمانت عرضداشت پر سماعت کے لیئے وقت مقرر
Photo Credit To file

نئی دہلی 4 ڈسمبر(پریس نوٹ) سپریم کورٹ آف انڈیا میں آج گودھرا ٹرین سانحہ حادثہ میں سزا یافتہ ۲۹؍ مسلم نوجوانوں کی ضمانت پر رہائی کی عرضداشت پر سماعت عمل میںآئی جس کے دوران دو رکنی بینچ کے سامنے استغاثہ نے ملزمین کی سزاؤں کی تفصیلات کا خاکہ پیش کرتے ہوئے ملزمین کی سزاؤں میں اضافہ کی عرضداشت پر سماعت کرنے کی گذارش کی جس کی مخالفت دفاعی وکلاء نے کرتے ہوئے کہا کہ پھانسی کی سزا ء کے معاملات کی سماعت تین رکنی بینچ کرسکتی ہے ، دو رکنی بینچ کو ایسے معاملات کی سماعت کرنے کا آئینی حق نہیں ہے نیز اگر استغاثہ کو پھانسی کی سزاء پر ہی بحث کرنی ہے تو اسے یہ معاملہ کثیر رکنی بینچ کے سامنے لیجانا ہوگا ۔
جمعیۃ علماء (ارشد مدنی) کی جانب سے مقرر کردہ سینئر وکیل پی وی مشراء اور سابق ایڈیشنل سالیسٹر جنرل امریندر شرن نے عدالت کو بتایاکہ عمر قید کی سزا پانے والے ۲۹؍ ملزمین ابتک جیل میں ۱۶؍ سال سے زائد کا عرصہ گذار چکے ہیں اور ان کی اپیلوں پر مستقبل قریب میں سماعت ہونے کے امکانات نہیں ہیں لہذا انہیں ضمانت پر رہا کیا جائے جس پر عدالت نے بھی مثبت رویہ اپناتے ہوئے جنوری ۲۰۱۹ء کے پہلے ہفتہ میں سماعت کیئے جانے کے تعلق سے احکامات جاری کیئے۔
آج عدالت میں حکومت کی نمائندگی کرتے ہوئے اٹارنی جنرل آف انڈیا تشار مہیتا نے جسٹس ارون مشراء اور جسٹس ونیت شرن سے عمر قید کی سزا پانے والے ملزمین کو پھانسی اور دیگر ملزمین کی پھانسی کی سزا ء کو برقرار رکھنے کی گذارش کی لیکن جمعیۃ علماء کے وکلاء کی بروقت مداخلت کے بعد عدالت نے استغاثہ کی عرضداشت پر سماعت کرنے سے انکار کرتے ہوئے ملزمین کی ضمانت عرضداشتوں پر حتمی بحث کے لیئے وقت مقرر کردیا جس سے ملزمین اور ان کے اہل خانہ نے راحت کی سانس لی۔
واضح رہے کہ ہائی کورٹ کے فیصلہ کے خلاف سپریم کورٹ میں د اخل اپیل کو عدالت نے پہلے ہی سماعت کے لیئے قبول کرلیا تھا جس کے بعد ملزمین کی ضمانت پر رہائی کی درخواست داخل کی گئی جس پر آج دو رکنی بینچ کے جسٹس ارون مشراء اور جسٹس ونیت شرن کے روبرو سماعت عمل میںآئی ۔ آج عدالت میں سینئر وکلاء کے ساتھ ایڈوکیٹ آن ریکارڈ ارشاد احمد اور ایڈوکیٹ ابھیمنیو شریستا بھی موجود تھے ۔
جمعیۃ علماء مہاراشٹر قانونی امداد کمیٹی کے سربراہ گلزار اعظمی نے مقدمہ کے تعلق سے کہا کہ یہ اپنی نوعیت کا ایک بہت بڑا مقدمہ ہے جس میں تحقیقاتی دستوں نے قتل ، اقدام قتل اور مجرمانہ سازش کے الزامات کے تحت ۹۴؍ مسلم نوجوانوں کو گرفتار کیا تھا اور ان کے خلاف مقدمہ چلایا گیا جہاں نچلی عدالت نے ثبوتوں کی عدم موجودگی کے سبب ۶۳؍ ملزمین کو باعزت بردی کردیا تھا وہیں ۲۰؍ ملزمین کو عمر قید اور ۱۱؍ دیگر ملزمین کو پھانسی کی سزاء سنائی تھی نیز جمعیۃ علماء ۳۱؍ ملزمین میں سے ۲۹؍ ملزمین کے مقدمہ سپریم کورٹ میں دیکھ رہی ہے جبکہ بقیہ دو ملزمین ذاتی طور پر عدالت سے رجوع ہوئے ہیں ۔
گلزار اعظمی نے مزید کہا کہ گذشتہ سال ۹؍ اکتوبر کو گجرا ت ہائی کورٹ کی دو رکنی بینچ کے جسٹس اننت ایس دوے اور جسٹس جی آر وادھوانی نے اپنے ۹۸۷؍ صفحات پر مشتمل فیصلہ میں ایک جانب جہاں نچلی عدالت سے ملی عمر قید کی سزاؤں کو برقرار رکھا تھا وہیں پھانسی کی سزاؤں کو عمر قید میں تبدیل کرکے ملزمین کو کچھ راحت دی تھیں ۔
گلزار اعظمی نے مزید کہا کہ ملزمین بلال احمد عبدالمجید، عبدالرزاق، رمضانی بنیامین بہیرا،حسن احمد چرخہ،جابر بنیامین بہیرا، عرفان عبدالمجید گھانچی،عرفان محمد حنیف عبدالغنی، محبو احمد یوسف حسن، محمود خالد چاندا، سراج محمد عبدالرحمن، عبدالستار ابراہیم، عبدالراؤف عبدالماجد،یونس عبدالحق، ابراہیم عبدالرزاق، فارق حاجی عبدالستار، شوکت عبداللہ مولوی، محمد حنیف عبداللہ مولوی،شوکت یوسف اسماعیل،انور محمد ،صدیق ماٹونگا عبداللہ بدام شیخ،محبوب یعقوب، بلال عبداللہ اسماعیل، شعب یوسف احمد، صدیق محمد مورا،سلیمان احمد حسین، قاسم عبدالستارکی ضمانت پر رہائی کی درخواست داخل کی گئی ہے ۔
جمعیۃ علماء مہاراشٹر

Post source : press note