December 13, 2018

بلندشہر تشدد کے لیے وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ ذمہ دار: پاپولر فرنٹ

نیی دہلی 5 ڈسمبر/ پاپولر فرنٹ آف انڈیا کے جنرل سکریٹری ایم محمد علی جناح نے میڈیا کو جاری ایک بیان میں بلندشہر میں سنگھ پریوار کے تشدد اور پولیس افسر سبودھ کمار سنگھ اور سُمت نام کے نوجوان کے قتل کا ذمہ دار اترپردیش کے وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ کو ٹھہرایا ہے۔ جو کچھ بھی ہوا وہ کوئی الگ تھلگ معاملہ نہیں ہے، بلکہ یہ گائے کے نام پر ہو رہی دہشت گردانہ کاروائیوں کے سلسلے کی ہی ایک کڑی ہے، جو کہ یوپی میں یوگی حکومت کے اقتدار سنبھالنے کے بعد سے ایک معمول بن چکی ہے۔ ایسا بھی پہلی بار نہیں ہوا ہے کہ خود یوگی کی بنائی ہوئی تنظیم ہندو یوا واہنی کے غنڈے گورکشا کے نام پر انسانوں کو ہجومی تشدد کا نشانہ بنانے میں اگلی صف میں پائے گئے ہیں۔ یوگی نے جمہوری ہندوستان کی اس بڑی ریاست کے مقام کو گرا کر اسے جانوروں کا فارم بنا دیا ہے، جہاں جنگل راج چلتا ہے، جہاں صرف گائیں محفوظ ہیں اور انسانی زندگیاں نشانے پر ہیں۔
سنگھ پریوار کے زیر سایہ بڑھتی گائے دہشت گردی نے ایسے خطرناک حالات پیدا کر دیے ہیں جہاں مسلمانوں اور دلتوں کو محض گائے کی خرید و فروخت کرنے یا بیف کھانے کے الزام میں فرقہ واریت کے جنون میں بے قابو ہجوم پیٹ پیٹ کر مار ڈالتی ہے۔ اس سیاق میں، پولیس افسر سبودھ کمار سنگھ کے رشتہ داروں کی جانب سے کی گئی شکایت کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا جس میں یہ کہا گیا ہے کہ انہیں ایک سازش کے تحت قتل کیا گیا ہے کیونکہ وہ اخلاق ہجومی تشدد معاملے کی تحقیقات کر رہے تھے۔گائے کے نام پر قتل کے اس نئے دور میں یہ پیغام بھی دیا جانے لگا ہے کہ ہجومی تشدد کے معاملوں کی ایماندارانہ تفتیش کرنے والے افسران بھی اب نہیں بخشے جائیں گے۔
پولیس کی ابتدائی تحقیقات اور عینی شاہدین کی گواہی یہ بتاتی ہے کہ بلندشہر سانحہ فرقہ وارانہ تناؤ پیدا کرنے کی ایک سوچی سمجھی سازش تھی۔ تمام موجود ثبوت یہ کہہ رہے ہیں کہ گنّے کے کھیت میں گائے کے اجزا لٹکانے میں خود ہندوتوا عناصر کا ہاتھ ہے۔ علاقے میں منعقدہ مسلمانوں کے اجتماع کو نقصان پہنچانے کے مقصد کی بھی جانچ کی جانی چاہئے۔
محمد علی جناح نے اس سانحے کے پیچھے اصل سازش کو بے نقاب کرنے کے لیے ججوں کے ایک پینل کے ذریعہ اس کی عدالتی تفتیش کا مطالبہ کیا۔ انہوں نے ریاست کو یوگی حکومت کی بدانتظامی سے بچانے کے لیے صدر جمہوریہ ہند سے بھی مداخلت کرنے کی درخواست کی۔

Post source : Press release