December 13, 2018

مالیگاؤں بم دھماکہ، ایک بار پھر کرنل پروہیت کی عرضداشت پر سماعت سے معذرت

نیی دہلی 5 ڈسمبر/ مالیگاؤں ۲۰۰۸ء بم دھماکہ معاملے کے کلیدی ملزم کرنل پروہیت کو آج اس وقت مایوسی ہوئی جب ممبئی ہائی کورٹ نے نچلی عدالت کے فیصلہ کے خلاف داخل عرضداشت پر فوری سماعت کرنے سے معذرت کرلی نیز جمعیۃ علماء مہاراشٹر (ارشد مدنی) کی جانب سے داخل مداخلت کار کی عرضداشت کو سماعت کے لیئے منظورکرلیا۔
موصولہ اطلاعات کے مطابق آج ممبئی ہائی کورٹ کی دورکنی بینچ کے جسٹس ساونت اور جسٹس جمعدار کے روبرو یو اے پی اے قانون کے اطلاق کے خلاف داخل اپیل پر سماعت متوقع تھی لیکن عدالت نے یہ کہتے ہوئے معذرت کرلی کہ ابھی ان کے پاس وقت نہیں ،اسی درمیان متاثرین کی نمائندگی کرتے ہوئے جمعیۃ علماء کے وکیل شاہد ندیم نے عدالت سے گذارش کی کہ اسی معاملے میں کرنل پروہیت کی عرضداشت کی مخالفت کرنے کے لیئے متاثرین کی جانب سے مداخلت کار کی عرضداشت داخل کی گئی جسے کرنل پروہیت کی پٹیشن کے ساتھ ٹیگ(منسلک) کیا جائے اور اس کی بھی سماعت ساتھ میں کی جائے جسے عدالت نے منظور کرلیا اور عدالتی اہلکاروں کو حکم دیا کہ معاملے کی اگلی سماعت یعنی کے ۱۳؍ دسمبر کو ان تمام عرضداشتوں کی سماعت ایک ساتھ کیئے جانے کے اقدامات کیئے جائیں۔
واضح رہے کہ گذشتہ دنوں خصوصی عدالت نے ملزمین سادھوی پرگیا سنگھ ٹھاکر،کرنل شریکانت پروہیت، میجر رمیش اپادھیائے،سمیر کلکرنی، اجئے راہیکر ، سدھاکر دیویدی، سدھاکر چترویدی کے خلاف یو اے پی اے قانون کے تحت چارج فریم کرکے مقدمہ کی باقاعدہ سماعت شروع کیئے جانے کے احکامات جاری کیئے تھے جس کے بعد کرنل پروہیت نے نچلی عدالت کے فیصلہ کو ہائی کورٹ میں چیلنج کیا تھا، ایک جانب جہاں ہائی کورٹ نے اس کی اپیل سماعت کے لیئے قبول کرلی تھی وہیں ٹرائل پر اسٹے دینے سے صاف انکار کردیا تھا ۔
اسی درمیان آج نچلی عدالت میں بم دھماکوں میں شہید ہونے والے محمد ہارون نامی شخص کی لاش کا پوسٹ مارٹم کرنے والے مالیگاؤں کے این ایم واڈیا دواخانے کے ڈاکٹر ایل این چوہان کی گواہی عمل میںآئی جس سے وکیل استغاثہ اویناس رسال اور ملزم سوامی دھر دویدی کے وکیل سامبرے نے جرح کی ۔
آج کی عدالتی کارروائی کے اختتام کے بعد خصوصی عدالت کے جج ونود پڈالکر نے استغاثہ کو کل دوسرے سرکاری گواہ کو عدالت میں پیش کرنے کا حکم دیا ۔دوران سماعت عدالت میں جمعیۃعلماء کی جانب سے ایڈوکیٹ ایڈوکیٹ ابھیشک پانڈے، ایڈوکیٹ افضل نواز د دیگر موجود تھے۔

Post source : Press release