March 23, 2019

دل میں لگائے جانے والے اسٹنٹ کی کوئی کمی نہیں ہوئی ہے:منسکھ لال منڈاویہ

نئی دہلی،18دسمبر 2018؍سڑک ٹرانسپور ٹ اور شاہراہوں، جہاز رانی اور کیمیائی اشیاء، نیز کیمیاوی کھاد کےمحکمے کے وزیر مملکت جناب منسکھ لال منڈاویہ نے سبھی لوگوں کے لئے کفایتی اور معیاری ادوایات کی فراہمی کو یقینی بنانے کی حکومت کی پالیسی کے بارے میں آج لوک سبھا میں ایک سوال کے تحریری جواب میں بتایا کہ نیشنل فارماسوٹیکل پرائسنگ  اتھارٹی (این پی پی اے) کی طرف سے مقرر کی گئی 856دواؤں کی قیمت کے بعد مریضوں کو 11462کروڑ روپے کا فائدہ ہوا ہے۔(30 نومبر2018ء تک)

جناب منڈاویہ نے یہ بھی کہا کہ دل کے شریانوں میں ڈالے جانے والے اسٹنٹ کی قیمتیں مقرر کئے جانے کے بعد این پی پی اے ملک میں اسٹنٹ کی فراہمی پر قریبی نگاہ رکھے ہوئے ہیں اور اس سلسلے میں کمی ہونے کی کوئی اطلاع نہیں ملی ہے۔اس وقت تک این پی پی اے نے 856دواؤں کی قیمت مقرر کی ہے، جن میں چار میڈیکل آلات بھی شامل ہیں، جو ڈی پی سی او، 2013ء کے شیڈیول -1 کے تحت آتی ہیں۔

ڈی پی سی او 2013ء کے پیراگراف 20 کے تحت این پی پی اےتمام دواؤں کی زیادہ سے زیادہ خردہ قیمت (ایم آر پی)کا جائزہ لیتا رہتا ہے، اس میں غیر شیڈیول دوائیں بھی شامل ہیں اور وہ اس بات کو یقینی بناتا ہے کہ کوئی بھی دوا ساز پچھلے مہینے کی کم از کم خردہ  قیمت سے دس فیصد زیادہ کا اضافہ نہ کریں۔این پی پی اے دواؤں کی قیمتوں کا موثر طورپر جائزہ لے رہا ہے، جن میں غیر شیڈیولڈ دوائیں بھی شامل ہیں۔ یہ ادارہ ان کمپنیوں کے خلاف کارروائی کرتا ہے، جنہیں زیادہ سے زیادہ خردہ قیمت سے بھی زیادہ چارج کرتا ہوا پاتا ہے۔

دواسازی کے محکمے نے تمام مخصوص مراکز کے ذریعے سبھی لوگوں کو کفایتی قیمت پر معیاری جینرک دوائیں فراہم کرنے کی غرض سے ایک اسکیم ‘پردھان منتری بھارتیہ جن اوشدھی پریوجنا(پی ایم بی جے پی)شروع کی ہے۔جناب منڈاویہ نے بتایا کہ آج کی تاریخ تک پی ایم بی جے پی کے 4571 مراکز پورے ملک میں کام کررہی ہے۔

Post source : pib