June 17, 2019

ہندوستان کو جینرک دواؤں کا بین الاقوامی مرکز بنائیں: نائب صدر جمہوریہ

نئی دہلی،21دسمبر 2018؍نائب صدر جمہوریہ ایم ونکیا نائیڈو نے دوا ساز کمپنیوں کے سی ای او سے ملاقات کرتے ہوئے کہا کہ ہندوستان کو جینرک دواؤں کا ایک بین الاقوامی مرکز بنانے کی جانب کام کرنے کی ضرورت ہے۔

نائب صدر جمہوریہ نے آج نوئیڈا میں 70ویں ہندوستانی فارماسیوٹکل کانگریس کو خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ہندوستان دنیا بھر میں جینرک دواؤں کا سب سے بڑا فراہم کنندہ ملک بن گیا ہے۔ عالمی برآمدات میں ہندوستان کی جینرک دواؤں کو مہیا کرانے میں 20 فیصد حصہ داری ہے۔ ہندوستانی  دوا صنعت معیار اور قیمت کے معاملے میں بہتر ہے۔

نائب صدر جمہوریہ نے کہا کہ جینرک دواؤں کے معاملے میں عالمی پیمانے پر اولین ہونے کے ساتھ ساتھ ہندوستان کو اپنے طبی نظاموں کو بھی بڑھاوا دینا چاہئے۔ انہوں نے نوجوان تحقیق کاروں کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہا کہ وہ ہندوستانی طبی نظام کے اسٹینڈرڈ کو بڑھانے کی سمت میں کام کریں اور عالمی پیمانے پر تجربے کے طورطریقوں کا استعمال کرتے ہوئے ان روایتی طبی نظامو ں کے معیار ، صداقت اور مؤثر ہونے کو ثابت کریں۔

نائب صدر جمہوریہ نے دوا ساز کمپنیوں سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ وہ کارپوریٹ سماجی ذمہ داریوں(سی ایس آر) سے وابستہ اصول وضوابط سے اوپر اٹھ کر لوگوں کی جان بچائیں اور ان لوگوں کو دیگر ضروری دوائیں مہیا کرانے میں مدد کریں، جو انہیں خرید نہیں سکتے۔ انہوں نے کہا کہ ہندوستان جیسے بڑے ملک کے لئے سستی شرحوں پر صحت سے متعلق سہولتیں اور دوائیں مہیا کرانا ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہا ہندوستان ایک ترقی یافتہ ملک ہے اور ترقی یافتہ ملکوں میں سستی شرح پر زندگی بچانے والی دوائیاں مہیا کرارہا ہے۔

نائب صدر جمہوریہ جناب نائیڈو نے کہا کہ حکومت کی ترجیحات میں فارسیوٹکلز  ایک اہم ترجیح ہے۔ انہوں نے  زور دے کہا کہ اس شعبے کی صلاحیت کو بڑھانے ، ٹیکنالوجی کے استعمال ، اختراع اور ریسرچ کی ضرورت ہے۔

نائب صدر جمہوریہ نے کہا کہ حفظان صحت اور اس سے منسلک دیگر صنعتیں پانچویں نمبر پر اس شعبے سے متعلق روزگار فراہم کراتی ہیں۔ انہوں نے اس صنعت سے وابستہ صنعت سازوں سے اپیل کی کہ وہ اس شعبے میں سرمایہ کاری کریں ۔انہوں نے کہا کہ اس شعبے میں اعلیٰ تعلیم یافتہ اور خصوصی طور پر سائنسداں وابستہ ہیں، اس لئے ہنرمندی کو فروغ دینا اہمیت کا حامل ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت اور اس صنعت کے درمیان تال میل ہونا بے حد ضروری ہے، تاکہ سپلائی اور مانگ کے درمیان فارمیسی سے وابستہ انسانی وسائل کی کمی کو پورا کیا جاسکے اور اس شعبے میں ہنرمندی کو فروغ دیا جاسکے۔

جناب نائیڈو نے کہا کہ  پردھان منتری کوشل وکاس یوجنا کے تحت قومی ہنرمندی ڈیولپمنٹ کارپوریشن(این ایس ڈی سی)نے فارمیسی گریجویٹس اور پوسٹ گریجویٹ کو زیر غور رکھتے ہوئے 60 سے زائد نوکریوں کی شناخت کی ہے۔

اس سے قبل جناب ونکیا نائیڈو نے تمام فارماسیوٹیکل کمپنیوں کے سربراہوں کے اہم افسران سے بات چیت کی۔اس  کانفرنس کے افتتاح کے موقع پر ملک بھر سے 5ہزار سے زیادہ شراکت داروں نے حصہ لیا۔

اس موقع پر اترپردیش کےآبکاری اور شراب بندی کے وزیر جناب جے پرتاپ سنگھ اور دواصنعت کے دیگر معروف شخصیات نے شرکت کی۔

Post source : pib