June 17, 2019

فرقہ وارانہ سوچ پر مبنی شہریت بل کو قانون بننے سے روکیں: پاپولر فرنٹ

نئی دہلی 10جنوری/ پاپولررنٹ آف انڈیا کے جنرل سکریٹری ایم محمد علی جناح نے میڈیا کو جاری اپنے ایک بیان میں لوک سبھا میں پاس کردہ شہریت (ترمیمی) بل کو مرکزی حکومت کے فرقہ وارانہ تعصّب کا اظہار قرار دیتے ہوئے راجیہ سبھا کے تمام غیر بی جے پی ممبران سے اس بل کو قانون بننے سے روکنے کی اپیل کی ہے۔اس بل میں مسلمانوں کے ساتھ کھلا امتیاز برتا گیا ہے اور یہ سراسر آئین کے خلاف ہے، اس طور پر کہ یہ بل افغانستان، بنگلہ دیش اور پاکستان جیسے پڑوسی ممالک سے ہجرت کرنے والے ہندو، سکھ، بودھ، جین، پارسی اور عیسائی لوگوں کو ہندوستان کی مستقل شہریت حاصل کرنے کی اجازت دیتا ہے، لیکن وہیں مذکورہ ممالک سے آئے ہوئے مسلمانوں کو جو کہ ایک بڑی مذہبی قوم کا حصہ ہیں، انہیں اس کی اجازت نہیں دیتا۔ یہ بڑا ہی شرمناک معاملہ ہے کہ ہمارے ملک میں شہریت حاصل کرنے کے لیے مذہب کو ایک بڑا عامل مانا گیا ہے، جوکہ مکمل طور سے ناانصافی ہے۔ جیسا کہ ہم نے اس سے پہلے بھی یہ کہا تھا کہ حکومت کو یہ واضح کرنا پڑے گا کہ مذکورہ ممالک سے آنے والے مخصوص مذاہب کے لوگوں کو ہی شہریت کا حقدار کیوں بنایا جا رہا ہے، جبکہ کئی دیگر ممالک میں دوسری اقلیات پر اس سے بھی زیادہ ستم ڈھایا جا رہا ہے اور وہاں حقوق انسانی کی بدترین انداز میں پامالی کی جارہی ہے۔ اس طرح یہ بل حقوق انسانی کے آئینی اصولوں بالخصوص قانون کے سامنے برابری کے اصول کے خلاف ہے۔آئندہ لوک سبھا انتخابات سے پہلے یہ بی جے پی کی ایک اور فرقہ وارانہ و سیاسی تفریقی چال ہے۔ محمد علی جناح نے تمام اپوزیشن پارٹیوں سے آگے بڑھ کر اس بل کے پیچھے چھپے اصل ایجنڈے کو بے نقاب کرنے اور اسے راجیہ سبھا میں شکست دینے کی اپیل کی۔ساتھ ہی انہوں نے تمام شہریوں و دانشوران اور تنظیموں سے بھی اس بل کے خلاف اپنی آواز بلند کرنے کی درخواست کی۔

Post source : Press release