June 17, 2019

اکشردھام مندر حملہ معاملے میں گرفتار ملزم کی ضمانت عرضداشت منظور جمعیۃ علماء کو قانونی میدان میں ایک بڑی کامیابی

اکشردھام مندر حملہ معاملے میں گرفتار ملزم کی ضمانت عرضداشت منظور جمعیۃ علماء کو قانونی میدان میں ایک بڑی کامیابی

ممبئی 11 جنوری(پریس نوٹ) گزشتہ کل جمعیۃ علماء مہاراشٹر (ارشد مدنی) کو اس وقت بڑی کامیابی ملی جب احمد آباد میں واقع ا سپیشل پوٹا عدالت کے جج ایم کے دوے نے اکثر دھام مقدمہ کے ملزم محمد فاروق محمد حنیف شیخ کو مشروط ضمانت پر رہا کیئے جانے کے احکامات جاری کیئے۔
عیاں رہے کہ اکثر دھام مقدمہ کے ۶؍ ملزمین کو ۲۰۱۴ میں سپریم کورٹ نے باعزت بری کردیا تھا محمد فاروق اور دیگر کئی افراد کو اس مقدمہ میں مفرور بتایا گیا تھا جن میں سے محمد فاروق کو گزشتہ ۲۶؍ نومبر ۲۰۱۸ کی رات میں سعودی عرب سے واپسی پر احمد آباد ایئرپورٹ سے پولس نے گرفتا ر کرلیا تھا محمد فاروق کے گھر والوں کی درخواست پر جمعیۃ علماء مہاراشٹر نے جمعیۃ علماء احمد آباد کی نگرانی میں قانونی مدد فراہم کی اور جمعیۃ علماء کی جانب سے ایڈوکیٹ الیاس خان نے عدالت میں کامیاب پیروی کی جس کے نتیجے میں بحث سے مطمئن ہوکر عدالت نے ۲۵؍ ہزار کے ذاتی مچلکہ پر ملزم کو ضمانت پر رہا کیئے جانے کے احکامات جاری کیئے ۔
ایڈوکیٹ الیاس خان نے عدالت کو بتایا کہ اس معاملے میں پہلے ہی سپریم کورٹ نے تمام ملزمین کو باعزت بری کردیا ہے نیز عرض گذار کے خلاف عدالت میں چارج شیٹ داخل کی جاچکی ہے لہذا اب ملزم کو ضمانت پر رہا کیا جانا چاہئے، حالانکہ سرکاری وکیل ایس بی بھرم بھاٹ نے ملزم کو ضمانت پر رہا کیئے جانے کی مخالفت کی لیکن عدالت نے دفاعی وکیل کے دلائل سے اتفاق کرتے ہوئے ملزم کو ضمانت پر رہا کیئے جانے کے احکامات جاری کیئے۔
حالانکہ خصوصی جج نے ملزم کو ضمانت پررہا کردیا لیکن ان پر پابندی عائد کی کہ وہ اس کا پاسپورٹ پولس اسٹیشن میں جمع کردیگا نیز وہ اس کے خلاف موجود گواہوں سے رابطہ قائم نہیں کریگا اور اس وہ اس درمیان تحقیقاتی افسر سے تعاون کریگا۔
جیل سے رہائی کے بعد گذشہ شام محمد فاروق اور ان کے اہل خانہ نے جمعیۃ علماء احمد آباد (مولانا سید ارشد مدنی )کی آفس پر ملاقات کی اور جمعیۃ علماء کے اراکین کا شکریہ ادا کیا ذمہ داران جمعیۃ علماء احمد آباد نے محمد فاروق اور ان کے وکیل ایڈوکیٹ الیاس خان کا پھول اور مٹھائی سے استقبال کیا ۔

Post source : press note