January 16, 2019

عمر قید کی سزا پانے والے دو ملزمین کی دس سالوں کے بعد ضمانت منظور، جبلپور ہایکورٹ کا فیصلہ، جمعیۃعلماء کی کوششیں کامیاب: گلزار اعظمی

عمر قید کی سزا پانے والے دو ملزمین کی دس سالوں کے بعد ضمانت منظور، جبلپور ہایکورٹ کا فیصلہ، جمعیۃعلماء کی کوششیں کامیاب: گلزار اعظمی

ممبئی ۱۴؍ جنوری/ دہشت گردی اور دیگر سنگین الزامات کے تحت گرفتار مسلم نوجوانوں کو قانونی امداد فراہم کرنے والی موقر تنظیم جمعیۃ علماء مہاراشٹر(ارشد مدنی) کی کوششوں سے گذشتہ دنوں مدھیہ پردیش کے شہر کھنڈوا سے تعلق رکھنے والے ۱۰؍ سالوں سے جیل میں مقید دو مسلم نوجوانوں کو جبلپور ہائی کورٹ سے مشروط ضمانت پر رہائی نصیب ہوئی اور جمعیۃ علماء کے وکلاء کی بروقت کارروائی سے دونوں ملزمین کی جیل سے رہائی بھی ہوچکی ہے۔یہ اطلاع آج یہاں ممبئی میں جمعیۃعلماء مہاراشٹر قانونی امداد کمیٹی کے سربراہ گلزار اعظمی نے دی۔
گلزار اعظمی نے بتایا کہ ملزمین عبداللہ حسن بدرالحسن(۲۹) اور رقیب عبدالوکیل (۳۳) جن کا تعلق کھنڈوا سے ہے کو نچلی عدالت نے ۲۹؍ اگست ۲۰۱۷ء کو بھوپال کی خصوصی این آئی اے عدالت نے عمر قید کی سزا سنائی تھی ، استغاثہ نے ملزمین کے خلاف تعزیرات ہند کی دفعات 307, 120Bاور غیر قانونی سرگرمیوں کی روک تھام والے قانون کی دفعات 5/10,3/13.3/18,3/20 کے تحت مقدمہ قائم کیا تھا او ر ان پر بھارتیہ جنتا یو ا مورچہ کے دو رضا کار وں راجو دوبے اور پرمود تیواری پر حملہ کرنے اور غیر قانونی سرگرمیں میں ملوث ہونے کا الزام عائد کیا تھا نیز ان پر سیمی سے تعلق کا بھی مبینہ الزام عائد کیا گیا تھا۔
گلزار اعظمی نے بتایا کہ نچلی عدالت سے ملی عمر قید کی سزاء کے خلاف جبلپور ہائی کورٹ میں اپیل داخل کرنے کے ساتھ ملزمین کی ضمانت پر رہائی کی درخواست بھی داخل کی گئی تھی جس پر سینئر ایڈوکیٹ وسنت رولانڈ ڈینئیل نے بحث کی جبکہ ان کی معاونت کے لئے وکلاء وشال ڈینئیل، ایس اے وکیل اور محر م علی موجود تھے۔
دفاعی وکلاء نے جبلپور ہائی کورٹ کی دو رکنی بینچ کے جسٹس پی کے جیسوال اور جسٹس راجندر کمار سریواستو کو بتایا کہ ملزمین کو جیل میں تقریباً دس سال کا عرصہ بیت چکا ہے اور ان کی جانب سے داخل اپیل پر جلد سنوائی متوقع نہیں ہے نیز ملزمین کو نچلی عدالت نے کمزور ثبوت و شواہد کی روشنی میں مجرم قرارد یاہے لہذا ملزمین کو ضمانت پر رہا کیا جانا چاہئے۔ دفاعی وکیل نے عدالت کو مزید بتایا کہ عرض گذار ملزمین پر بھارتیہ جنتا یو ا مورچہ کے دو رضا کار وں راجو دوبے اور پرمود تیواری پر حملہ کرنے کا الزام نہیں ہے بلکہ دیگر ملزمین کی معاونت کرنے کا الزام ہے لہذا ملزمین کو اس کا فائدہ ملنا چاہئے۔
حالانکہ سرکاری وکیل نے ملزمین کو ضمانت پرر ہا کیئے جانے کی مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ ماضی میں بھی ان کے خلاف مقدمات قائم تھے لہذا انہیں اگر ضمانت پرر ہا کیا جاتا ہے تو ان کی رہائی سے نسق امن میں خلل پڑسکتا ہے۔
فریقین کے دلائل کی سماعت کے بعد فاضل ججوں نے دونوں ملزمین کو پچاس پچاس ہزار روپئے کہ ذاتی مچلہ پر مشروط ضمانت پر رہا کیئے جانے کے احکامات جاری کیئے ۔
اس مقدمہ کے تعلق سے گلزار اعظمی نے بتایا کہ اس معاملے میں پولس نے کل ۶؍ ملزمین کو گرفتار کیا تھا لیکن دوران سماعت چار ملزمین عقیل خلجی، ذاکر، امجد اور محبوب کو بھوپال جیل میں انکاؤنٹر معاملے میں پولس نے ہلاک کردیا تھا اس کے بعد عدالت نے متذکرہ دو ملزمین کے خلاف مقدمہ چلایا تھا۔
گلزار اعظمی نے کہا کہ انہیں امید ہیکہ جبلپور ہائی کورٹ سے ملزمین کو انصاف حاصل ہوگا اور انہیں مقدمہ سے باعزت بری کیا جائے گاکیونکہ نچلی عدالت کے فیصلے میں متعدد خامیاں ہیں جس کا ملزمین کو ہائی کورٹ میں یقیناًفائدہ حاصل ہوگا۔
گلزار اعظمی نے مزید کہا کہ مدھیہ پردیش میں سیمی کے نام پر سیکڑوں گرفتاریاں ہوئی ہیں اور ان کے مقدمات کی موثر طریقے سے پیروی نہیں ہونے سے ملزمین سالوں سے جیل کی سلاخوں کے پیچھے مقید ہیں ، ایسے ملزمین کے مقدمہ کا سروے کرنے کا عمل صدر جمعیۃ علماء ہند مولانا سید ارشد مدنی کی ہدایت پر جمعیۃ علماء مہاراشٹر شروع کرنے جارہی ہے اور اس سلسلہ میں جمعیۃ علماء لیگل سیل کے ایڈوائزر ایڈوکیٹ شاہد ندیم کو ذمہ داریاں سونپ دی گئی ہیں اوروہ جلد ہی اندور، بھوپال، کھنڈوا، جبلپور و مدھیہ پردیش کے دیگر شہروں کا دورہ کرکے ان مقدمات کے تعلق سے معلومات یکجا کریں گے ، سروے مکمل ہونے کے بعد اگلا لائحہ عمل تیار کیاجائے گا۔
فوٹو کیپشن:۔ گلابی ٹی شرٹ میں ضمانت پررہا ملزم رقیب عبدالوکیل ہیں جبکہ سفید کرتا اور کالی ٹوپی میں عبداللہ حسن بدرالحسن ہیں ۔