September 23, 2019

خواتین صنعتکاروں کو بااختیار بنانے کا پروگرام

نئی دہلی،04فروری 2019؍بہت چھوٹی، چھوٹی اور درمیانہ درجے کی صنعتوں کی وزارت(ایم ایس ایم ای)اپنی مختلف اسکیموں کے ذریعے خواتین صنعت کاروں کو بااختیار بنارہی ہے۔ وزیر اعظم کے روزگار پیدا کرنے کے پروگرام (پی ایم ای جی پی) اسکیم کے تحت اس اسکیم کے آغاز سے لے کر اور 23 جنوری 2019ء کی تاریخ تک 1.38لاکھ پروجیکٹس کا قیام عمل میں آیاہے۔ پی ایم ای جی پی کے تحت قائم کردہ کل پروجیکٹوں میں تقریباً 30 فیصد پروجیکٹس خواتین صنعت کاروں کے ذریعے قائم کئے گئے ہیں۔ بہت چھوٹی، چھوٹی اور درمیانہ درجے کی صنعتوں کی وزارت (ایم ایس ایم ای) کے وزیر مملکت جناب گری راج سنگھ نے آج لوک سبھا میں پوچھے گئے ایک سوال کے تحریری جواب میں یہ اطلاع فراہم کی۔

 

پی ایم ای جی پی 09-2008 سے قرض سے جڑی ایک بڑی سبسڈی اسکیم ہے، جو بہت چھوٹی صنعتوں کے قیام میں تعاون فراہم کرنے کے علاوہ ملک کے دیہی اور شہری علاقوں میں روزگار پید اکرنے میں تعاون فراہم کرتی ہے۔ پی ایم ای جی پی اسکیم کے تحت مینو فیکچرنگ سیکٹر کی یونٹوں کے لئے زیادہ سے زیادہ لاگت 25لاکھ روپے اور سروس سیکٹر کی یونٹوں کے لئے زیادہ سے زیادہ پروجیکٹ لاگت 10 لاکھ روپے ہے۔ اس اسکیم کے تحت خواتین صنعت کاروں کو خصوسی زمرے کے تحت شامل کیا جاتا ہے اور وہ شہری اور دیہی علاقوں میں پروجیکٹ قائم کرنے کے لئے بالترتیب 25 فیصد اور 35 فیصد سبسڈی حاصل کرنے کی حقدار ہیں۔ خواتین مستفیدین کے لئے ان کا اپنا مالی تعاون پروجیکٹ لاگت کا صرف 5فیصد، جبکہ عام زمرے کے لئے مالی تعاون پروجیکٹ لاگت کا 10 فیصد ہے۔ پی ایم ای جی پی کا نفاذ کھادی اینڈ ولیج انڈسٹریز کمیشن (کے وی آئی سی) کے ذریعہ کیاجارہاہے۔

 

وزیر موصوف نے مزید اطلاع دی کہ مالی برس 17-2016ء اور 18-2017 کے دوران کے وی آئی سی کے کھادی پروگرام کے تحت خواتین صنعت کاروں نے 30437 پروجیکٹس قائم کئے ہیں،جس کے لئے 85305لاکھ روپے کی رقم انہیں تقسیم کی گئی۔

 

کوئر بورڈ، ہنر مندی کی ترقی اور مہیلا کوئر یوجنا(ایم سی وائی) کو لاگو کررہا ہے۔ ا س کے تحت صنعت کاری ترقیاتی پروگرام(ای ڈی پی)، بیداری پروگرام ، ورکشاپوں، سیمیناروں اور نمائشی ٹوروں سمیت متعدد پروگراموں کا انعقاد کیاجاتاہے۔ مہیلا کوئر یوجنا(ایم سی وائی) جو کہ خصوصی طورپر دیہی خواتین دستکاروں کے لئے ہے، کے تحت ملک میں ناریل کے ریشے پیدا کرنے والے علاقوں میں دیہی خواتین کو ناریل کے ریشوں کی بنُائی ؍کوئر کی پروسیسنگ کی متعدد سرگرمیوں کے بارے میں تربیت فراہم کراتی جاتی ہے۔ وزیر موصوف نے مزید بتایا کہ تربیتی مدت کے دوران خواتین دستکاروں کو 1000روپے ماہانہ وظیفہ بھی دیا جاتا ہے۔

Post source : Pib