February 17, 2019

گوکشی اور گوتسکری کے الزام میں این ایس اے لگانے کے لیے کانگریس ذمہ دار: پاپولر فرنٹ

نئی دہلی11 فروری (پریس نوٹ) پاپولر فرنٹ آف انڈیا کی مرکزی سیکریٹریٹ کے اجلاس میں اس بات پر شدید بے اطمنانی اور ناراضگی کا اظہار کیا گیا کہ مدھیہ پردیش کی کانگریس حکومت کے ذریعہ گوکشی اور گوتسکری کے الزام میں چند مسلمانوں کے خلاف نیشنل سکیورٹی ایکٹ جیسے سخت قانون کا استعمال کیا گیا۔
گائے کی سیاست سنگھ پریوار کا ہتھیار رہا ہے، جسے استعمال کرکے وہ ہندو جذبات کو اپنی جانب مائل کرنا چاہتے ہیں۔ گائے کی سیاست نے ہی گورکشا جیسی ایک خوفناک صورتحال کو فروغ دیا۔ گذشتہ چند سالوں میں، سنگھ پریوار سے منسلک گورکشکوں کے ہاتھوں درجنوں بے قصور مسلمانوں کو جان سے ہاتھ دھونا پڑا۔ ملک کے حالات ایسے بنا دئے گئے ہیں کہ بیف رکھنے یا لے جانے کا الزام ہی خواہ وہ صحیح ہو یا غلط، اس بات کے لیے کافی ہے کہ ایک شخص کو سرِعام بے دردی سے قتل کر دیا جائے۔ مدھیہ پردیش میں اس قسم کے اور بھی واقعات ہو چکے ہیں۔ کانگریس کی جیت کے بعد ریاست کی اقلیتوں نے کچھ چین کی سانس لی کہ اب کانگریس لاقانونیت کو ختم کرے گی اور مجرم گورکشکوں کو قانون کے کٹہرے میں کھڑا کرے گی۔ لیکن ان کی بے چینی تب اور بڑھ گئی جب انہوں نے معاملے کو بالکل برعکس پایا۔ ریاستی حکومت گورکشکوں کے ایجنڈے کو ہی پورا کرتی نظر آرہی ہے۔ گائے کو ذبح کرنے اور اسے ایک جگہ سے دوسری جگہ لے جانے کے عمل کو قومی تحفظ کے مسئلے سے جوڑ کر کمل ناتھ کی قیادت والی کانگریس حکومت نے یہ ثابت کر دیا ہے کہ وہ آر ایس ایس کی قومیت کے نظریے سے کتنی زیادہ موافقت رکھتی ہے۔
گرچہ کچھ کانگریس لیڈران نے قانون کے اس بے جا استعمال سے اپنی نااتفاقی کا اظہار کیا ہے، لیکن پارٹی اپنے وزیر اعلیٰ کی اصلاح کرنے میں ناکام رہی ہے۔ مرکزی سیکریٹریٹ کے اجلاس نے کانگریس کی قومی قیادت کو یاددلایا کہ مدھیہ پردیش حکومت کی اس قسم کی غلطیوں کو نہ روکنے کی وجہ سے، مسلم و دیگر مذہبی اقلیتیں عام انتخابات کے موقع پر پارٹی سے دور ہوتی جا رہی ہیں۔
ایک دوسری قرارداد میں، پاپولر فرنٹ کی مرکزی سیکریٹریٹ کے اجلاس نے مظفرنگر فسادات کے مقدمات میں اقتدار کے غلط استعمال کی مذمت کی۔ اترپردیش وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ نے مظفرنگر فسادات سے متعلق 131/مقدمات کو واپس لینے کی پوری تیاری کر لی ہے، جس میں درجنوں بے قصور بالخصوص مسلمانوں کو بے رحمی سے قتل کر دیا گیا تھا، عورتوں کی عصمت دری کی گئی اور گھروں کو نذرِ آتش کر دیا گیا۔ جن مقدمات کو واپس لینے کی تیاری ہے، ان میں قتل سمیت بی جے پی کے مقامی لیڈران کے خلاف سنگین مقدمات شامل ہیں۔ ظاہر سی بات ہے کہ وزیر اعلیٰ قتل، عصمت دری اور آتش زنی کے قصوروار اپنی پارٹی کے لوگوں اور حامیوں کو بچانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ یہ کھلا امتیاز ہی تو ہے کہ ایک طرف مجرموں کو سزا دی جائے اور دوسری جانب ان کے مذہب اور سیاست کو دیکھتے ہوئے انہیں آزاد کر دیا جائے۔
اجلاس نے یہ امید ظاہر کی کہ عدلیہ یوپی حکومت میں لا اینڈ آرڈر کی اس کھلی خلاف ورزی کو ضرور روکے گی۔
چیئرمین ای ابوبکر نے اجلاس کی صدارت کی، جس میں ایم محمد علی جناح، او ایم اے سلام، کے ایم شریف، عبدالواحد سیٹھ اور ای ایم عبدالرحمن شریک رہے۔

Post source : press note