February 17, 2019

بھگوا ملزمین کو جھٹکا،مالیگاوں بم دھماکہ کرنل پروہیت کی عرضداشت نا قابل سماعت، ممبئی ہائیکورٹ

ممبئی ۱۱؍ فروری/ مالیگاؤں ۲۰۰۸ ء بم دھماکہ معاملے کے کلیدی ملزم کرنل پروہیت کو آج ایک بار پھر مایوسی ہاتھ لگی جب ممبئی ہائی کورٹ کی دو رکنی بینچ نے اس کی عرضداشت کو ناقابل سماعت کہتے ہوئے اسے حکم دیا کہ وہ آئین ہند کے آرٹیکل 226/227 کے تحت کریمنل رٹ پٹیشن داخل کرے جس پر کرنل پروہیت کے وکیل نے رضا مندی دیکھاتے ہوئے عدالت سے اجازت طلب کی۔
موصولہ اطلاعات کے مطابق آج ممبئی ہائی کورٹ کی دو رکنی بینچ کے جسٹس اے ایس اوکا اور جسٹس اے ایس گڈکری کے روبرو خصوصی عدالت کے فیصلہ کے خلاف داخل عرضداشت کی سماعت عمل میں آئی جس کے دوران عدالت نے کرنل پروہیت کے وکیل ششی کانت شیودے کو بتایا کہ قومی تفتیشی ایجنسی ایکٹ کی دفعہ 21 کے تحت اس کی اپیل ناقابل سماعت ہے لہذا وہ اسے کریمنل رٹ پٹیشن میں تبدیل کرے یا عدالت مناسب آرڈر پاس کریگی۔ عدالت نے مزید کہاکہ اس سے قبل کی سماعت پر عدالت اس کے دلائل کی سماعت کرچکی اور عدالت اس سے قطعی اتفاق نہیں رکھتی لہذا آج پھر اسی مدعہ پر بحث کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
عدالت کا سخت رویہ دیکھتے ہوئے کرنل پروہیت کے وکیل نے کریمنل اپیل کو کریمنل رٹ پٹیشن میں تبدیل کرنے کی اجازت طلب کی جسے عدالت نے منظور کرلیا۔
واضح رہے کہ کرنل پروہیت نے نچلی عدالت کے یو اے پی اے قانون کے تحت چارج فریم کرکے معاملے کی سماعت شروع کیئے جانے والے فیصلہ کے خلاف ہائی کورٹ سے رجوع کیا تھا لیکن آج ہائی کورٹ نے یہ کہتے ہوئے اس کی درخواست پر سماعت کرنے سے انکار کردیا کہ اس کی عرضداشت نا قابل سماعت ہے ۔
حالانکہ کرنل پروہیت کے وکیل نے بہت گذارش کی عدالت سے کہ اس کی عرضداشت کی سماعت کی جائے کیونکہ نچلی عدالت میں سرکار ی گواہوں کی گواہیاں شروع ہوچکی ہیں اور اس کی مقدمہ کی سماعت پر اسٹے والی عرضداشت پہلے ہی خارج کی جاچکی ہے ۔
قومی تفتیشی ایجنسی NIAکے وکیل پاٹل اور متاثرین کی نمائندگی کرنے والی تنظیم جمعیۃ علماء مہاراشٹر (ارشد مدنی) کے وکیل شاہد ندیم نے عدالت کو بتایا کہ این آئی اے ایکٹ کی دفعہ 21کے تحت کرنل پروہیت کی اپیل ناقابل سماعت ہے کیونکہ ٹرائل کورٹ کا فیصلہ حتمی فیصلہ نہیں ہے لہذا اس کی سماعت نہیں ہوسکتی جس سے عدالت نے اتفاق کیا ۔
خصوصی عدالت نے ملزمین سادھوی پرگیا سنگھ ٹھاکر، سدھاکر دویدی، میجر رمیش اپادھیائے، سمیر کلکرنی، سدھاکر چتروید اور اجئے راہیکر کے خلاف مقدمہ قائم کیئے جانے کے احکامات جاری کیئے تھے جس کے بعد سے ملزمین اس تگ و دو میں لگے ہوئے ہیں کہ مکوکا قانون سے ملی راحت کے جیسے انہیں یو اے پی اے قانون سے بھی راحت مل جائے کیونکہ یو اے پی اے قوانین کی سخت دفعات کے تحت ملزمین کے خلاف مقدمہ چلائے جانے کی نچلی عدالت نے اجازت دی تھی۔

Post source : press note