July 20, 2019

ہندوستان اور سعودی عرب کے سماجی اور ثقافتی رشتے صدیوں پرانے: وزیراعظم مودی

ہندوستان اور سعودی عرب کے  سماجی اور ثقافتی رشتے صدیوں پرانے: وزیراعظم مودی

نئی دہلی۔20 ( پی آئی بی)ہندوستان میں  سعودی عرب کے شہزادے  اور ان کےوفود کا  پہلی مرتبہ استقبال کرتے ہوئے مجھے بے حد خوشی ہو رہی ہے ۔  ہندوستان اور سعودی عرب کے اقتصادی ، سماجی اور ثقافتی رشتے صدیوں پرانے ہیں اور  ہمیشہ سے خوشگوار اور دوستانہ رہے ہیں ۔  ہمارے لوگوں کے درمیان اس گہرے اور قریبی تعلقات  ہمارے ملکوں کے لئے  ایک زندہ  پُل  یعنی لیونگ برج   ہیں ۔  عزت مآب   کی  ، اور رائل ہائنس آپ کی ذاتی دلچسپی  اور رہنمائی سے ہمارے دو طرفہ تعلقات میں اور بھی  گہرائی  ، خلوص  اور طاقت  آئی ہے ۔ آج ، 21 ویں صدی میں ،  سعودی عرب ، ہندوستان کا سب سے قیمتی اسٹریٹیجک شراکت دار ہے ۔  یہ ہمارے وسیع    تر پڑوس میں ہے  ، ایک قریبی دوست ہے اور ہندوستان کی توانائی   اور  تحفظ  کا اہم وسیلہ بھی ہے ۔ 2016 ء میں سعودی عرب کے میرے  دورے کے دوران ، ہم نے اپنے تعلقات کو خصوصی طور سے ، توانائی اور  تحفظ کے میدان میں کئی نئی جہتیں  دی تھیں ۔  آپ سے ارجنٹینا میں دو ماہ پہلے ہی ملاقات کے نتیجے  کی شکل میں   تحفظ ، تجارت  اور سرمایہ کاری کے میدانوں میں ہمارے اسٹریٹیجک  شراکت داری کے خلاصے نے  نئی توسیع حاصل کی  ہے ۔ مجھے خوشی ہے کہ آپ کے  مشوروں کی  فہرست کے مطابق  ہماری   سال میں دو بار سربراہ کانفرس  اور اسٹریٹیجک پارٹنر شپ کے قیام کے لئے  رضامندی ہوئی ہے ۔  ان سے ہمارے تعقات کو مضبوطی اور رفتار اور ترقی  کا فائدہ ملے گا ۔

دوستو ،

          آج ہم نے دو طرفہ تعلقات کے سبھی موضوعات پر وسیع تر اور مثبت  تبادلۂ خیال کیا ہے ۔ ہم نے اپنے اقتصادی تعاون کو  نئی بلندیوں  پر لے جانے کا فیصلہ کیا ہے ۔  ہمارے  معاشی نظام میں  سعودی عرب سے ادارہ جاتی سرمایہ کاری کو  آسان بنانے کے لئے ، ایک ڈھانچہ قائم کرنے پر رضامند ی ہوئی ہے ۔  نئے ہندوستان کے بنیادی ڈھانچے میں سعودی عرب کی سرمایہ کاری کا  استقبال کرتا ہوں ۔

عالی مرتبت   ،

          آپ کے ‘ ویژن  2030 ’ اور آپ کی قیادت میں ہو رہے اقتصادی سدھار  ، ہندوستان کے اہم  پروگراموں جیسے ‘ میک اِن انڈیا ’ ، ‘اسٹارٹ اَپ انڈیا ’ تکمیلہ ہیں  ۔ ہمارے توانائی سے متعلق  تعلقات   اسٹریٹیجک شراکت داری  میں  تبدیل کرنے کا وقت آ گیا ہے ۔  دنیا کی سب سے بڑی ریفائنری اور اسٹریٹیجک پیٹرولیم  ریزرو  میں سعودی عرب کی حصہ داری ، ہمارے توانائی تعلقات کو بائرس سیلرس ریلیشن سے    بہت آگے لے جاتی ہے ۔ ہم قابل ِ تجدید توانائی   کے میدان میں اپنے تعاون کو مضبوط کرنے پر  رضامند ہوئے ہیں ۔ ہم بین الاقوامی سولر الائنس میں  سعودی عرب کا خیر مقدم کرتے ہیں ۔  ایٹمی توانائی کے پُر امن استعمال ، خصوصی طور پر  واٹر ڈسلینیشن  اور صحت کے لئے ہمارے تعاون کا ایک اور  پہلو ہو گا ۔ خصوصی طور پر اپنے اسٹریٹیجک ماحول کے سلسلے میں ، ہم نے آپسی حفاظت   اور تعاون  کو مضبوط  کرنے اور اس کی توسیع کرنے پر بھی کامیاب تبادلۂ خیال کیا ہے ۔  گذشتہ سال ہندوستان ، سعودی عرب میں  مقتدر عوامی جلسہ  میں  مہمان خصوصی تھا   ۔ آج ہم نے اپنے ثقافتی تعلقات کو اور مضبوط کرنے کا  ہدف رکھا ہے ۔  تجارت اور سیاحت کو بڑھانے کے لئے سعودی عرب کے شہریوں   کے لئے ای ویزا کی  توسیع  کی جا رہی ہے ۔  ہندوستانیوں کے لئے حج کوٹے میں  اضافے کے لئے  ہم عزت مآب اور  عالی مرتبت کے   ممنون ہیں ۔ 2.7 ملین ہندوستانی شہریوں کی سعودی عرب میں پُر امن اور کار آمد   حاضری  ہمارے درمیان ایک اہم کڑی ہے ۔  عالی مرتبت نے  سعودی عرب کی ترقی میں اُن کے مثبت تعاون کی ستائش کی ہے ۔ آپ نے ہمیشہ  اُن کی بھلائی کا خیال رکھا ہے ۔ اس کے لئے  اُن کی  شکر گزار ی  اور دعائیں آپ کی ساتھ ہیں ۔

دوستو ،

          پچھلے ہفتے پلوامہ میں ہوئے وحشیانہ   دہشت گردانہ حملہ  اِس  انسانیت مخالف خطرے سے دنیا پر چھائے ہوئے قہر کی  ایک اور ظالم نشانی ہے ۔ اس خطرے سے موثر طریقے سے  نمٹنے کے لئے ہم اس بات پر  رضامند ہیں کہ دہشت گردی کو  کسی بھی طرح کی حمایت  دے رہے ملکوں پر سبھی ممکنہ  دباؤ بڑھانے کی  ضرورت ہے ۔  دہشت گردی کا    بنیادی ڈھانچہ  تباہ کرنا اور اس کی حمایت ختم کرنا اور دہشت گردوں اور  ان کے حامیوں کو سزا دلانا بہت ضروری ہے ۔  ساتھ ہی  انتہا پسندی  کے خلاف  تعاون  اور  اس کے لئے ایک مضبوط  عملی منصوبے کی بھی ضرورت ہے  تاکہ تشدد  اور دہشت گردی کی طاقتیں ہمارے نو جوانوں کو گمراہ  نہ کر سکیں ۔ مجھے خوشی ہے کہ  سعودی عرب اور ہندوستان  اس بارے میں مشترکہ  خیال رکھتے ہیں ۔

دوستو ،

          مغربی ایشیا اور خلیج میں  امن اور سالمیت  یقینی بنانے میں ہمارے  دونوں ملکوں  کے  مشترکہ فوائد ہیں ۔  آج ہماری بات چیت میں ، اس میدان میں ہمارے کاموں میں تال میل لانے  اور  ہماری حصہ داری کو تیزی  سے آگے بڑھانے پر رضامندی ہوئی ہے ۔  ہم اس بات پر بھی رضامند ہوئے ہیں کہ  کاؤنٹر ٹیرر زم  ، سمندری  حفاظت اور سائبر سکیورٹی جیسے میدانوں میں اور  مضبوط دو طرفہ تعاون دونوں ملکوں کے لئے فائدہ مند رہیں گے ۔

عالی مرتبت  ،

          آپ کے دورے نے ہمارے   رشتوں میں تیز ترقی کو ایک نئی جہت دی ہے ۔  میں ایک بار پھر ہماری دعوت کو قبول کرنے کے لئے عالی مرتبت کا شکریہ ادا کرتا ہوں ۔ میں ان کے اور ان کے نمائندۂ وفود کے سبھی اراکین  کی ہندوستان میں   ان کی خوش آئند اقامت  کی تمنا کرتا ہوں ۔

Post source : Pib