April 24, 2019

مالیگاؤں بم دھماکہ،شہید بزرگ کے لڑکوں نے دی گواہی

مالیگاؤں بم دھماکہ،شہید بزرگ  کے لڑکوں نے دی گواہی
Photo Credit To file

ممبئی13 اپریل/ مالیگاؤں ۲۰۰۸ء بم دھماکہ معاملے میںآج تین سرکاری گواہوں کی گواہی ممبئی کی خصوصی عدالت میں عمل میں آئی جس میں سے دو گواہ ایسے تھے جنہوں نے بم دھماکہ کی وجہ سے شہید ہونے والے ان کے بزرگ والد کی لاش کو اپنی تحویل میں لیا تھا۔
موصولہ اطلاعات کے مطابق سرکاری گواہ اقبال شاہ ہارون شاہ اور مشتاق شاہ ہارون شاہ نے خصوصی این آئی اے جج ونود پڈالکر کو بتایا کہ ۹؍ ستمبر ۲۰۰۸ کے دن تقریباً رات کے دس بجے انہیں خبر موصول ہوئی کہ بھکو چوک میں بم دھماکہ ہوا جس میں ان کے والد ہارون شاہ کو بھی چو ٹ لگی ہے ۔ حادثہ کی خبر موصول ہوتے ہی وہ بھکو چوک پہنچے تب تک ان کے والدکو عوام نے فاران اسپتال پہنچا دیا تھا ۔ فاران اسپتال پہنچنے کے بعد انہوں نے دیکھا کہ ان کے والد کے بدن پر جلنے کی وجہ سے زخم تھے جس سے وہ شدید بے چین تھے۔
گواہوں نے عدالت کو مزید بتایا کہ زخم کی نوعیت کو دیکھتے ہوئے ان کے والد کو سٹی کئیر اسپتال میں منتقل کیا گیا جہاں وہ انتقال کرگئے۔متذکرہ دونوں گواہوں سے آج بھگوا ملزمین کے وکلاء نے جرح نہیں کی جس کے بعدعدالت نے ان کی گواہی کا اختتام کردیا۔
اسی درمیان ایک دیگر سرکاری گواہ محمد رضوان نے عدالت کو بتایا کہ ۹؍ ستمبر ۲۰۰۸ء کو ساڑھے نو بجے کے قریب بھکو چوک میں موجود تھا جب بم دھماکہ ہواجس کی وجہ سے اسے بدن پر چوٹ لگی تھی اور عوام نے اسے بغرض علاج فاران اسپتال میں داخل کرایا تھا ۔ محمد رضوان سے بھگوا ملزمین کے وکیل نے جرح کی اور اس پر این آئی اے کے دباؤ میں جھوٹی گواہی دینے کا الزام عائد کیا۔ابتک اس معاملے میں تقریباً ۱۰۰؍ سرکاری گواہوں کی گواہیاں مکمل ہوچکی ہیں نیز عدالت نے مزید گواہوں کو طلب کیا ہے اور اس تعلق سے سمن بھی جاری کیا ہے۔دوران کارروائی عدالت میں متاثرین کی نمائندگی کرنے کے لیئے جمعیۃ علماء کے وکلاء موجود تھے

Post source : press note