July 20, 2019

دوسروں کے مذہب کو نیچا دکھانے کی کوشش ،ملک کے لیے خطرہ،اردو یونیورسٹی میں ممتاز تاریخ داں پروفیسر رضوان قیصر کا ہندوستانی اقلیتیوں پر لکچر

دوسروں کے مذہب کو نیچا دکھانے کی کوشش ،ملک کے لیے خطرہ،اردو یونیورسٹی میں ممتاز تاریخ داں پروفیسر رضوان قیصر کا ہندوستانی اقلیتیوں پر لکچر

حیدرآباد، 23اپریل(پریس نوٹ) ۔ دوسروں کے مذہب اور اِن سے مربوط امور کی توہین کی کوشش ہندوستان جیسے جمہوری ملک کے لیے حقیقی خطرہ ہے۔ ہندوستانی مسلمانوں نے مختلف میدانوں میں نمایاں کارنامے انجام دیے ہےں لیکن افسوس اس بات کا ہے کہ ان کا اعتراف نہیں کیا جاتا۔ ممتاز مورخ پروفیسر رضوان قیصر،(شعبہ تاریخ، جامعہ ملیہ اسلامیہ، نئی دہلی) نے کل مولانا آزاد نیشنل اردو یونیورسٹی میں ایک خصوصی لکچر بعنوان ”اقلیتیوں کی اصل دھارے میں شمولیت ، تاریخی اور عصری تناظر میں “ کے دوران ان خیالات کا اظہار کیا۔
اسلام کے آغاز اور ہندوستان میں مسلمانوں کی آمد کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ہندوستانی مسلمانوں کے اجداد کی بہت بڑی اکثریت اُن مقامی افراد پر مشتمل تھی جنہوں نے اسلام قبول کیا تاہم اسلام قبول کرنے کے نتیجے میں انہیں ”غیر“ سمجھنا نہایت غلط ہے۔ عسائیت بھی ہندوستان کے لیے ایک بیرونی مذہب ہے لیکن ہندوستانی عیسائیوں کو مسلمانوں جیسی صورتحال کا سامنا کرنا نہیں پڑتا۔
لکچر کا اہتمام اردو یونیورسٹی کے البیرونی مرکز برائے مطالعات سماجی اخراج و اشتمالی پالیسی اور شعبہ سیاسیات نے شعبہ تاریخ (مانو) اور ریسرچ کمیٹی برائے مطالعات اقلیت، انڈین سوشیالوجیکل سوسائٹی، نئی دہلی کے تعاون سے کیا تھا۔
ڈاکٹر افروز عالم ڈائرکٹر انچارج، البیرونی مرکز و صدر شعبہ سیاسیات نے صدارت کی۔ پروفیسر قیصر نے اصطلاح اقلیت کی تعریف ،تاریخی اور عصری تناظر میں پیش کی۔ انہوں نے بتایا کہ سماجی ۔معاشی اور سیاسی میدانوں میں اقتدار میں تناسب کے حوالے سے مختلف فرقوں کو اقلیت کہا جاتا ہے۔ لیکن اگر کوئی فرقہ عددی طور پر کم ہو مگر اقتدار کے تمام مراکز پر اُس کا قبضہ ہو تو اُسے اقلیت نہیں کہا جاسکتا۔پروفیسر رضوان قیصر نے تاریخی حوالوں سے بتایا کہ 1857 کے بعد سے ہندوستان میں مسلمانوں کے خلاف کس طرح منظم انداز میں تعصب برتا گیا۔ انگریز سامراج نے جس رجحان کا منصوبہ بند انداز میں آغاز کیا تھا، آزادی کے بعد بھی مخصوص سیاسی سرپرستی کے ساتھ اسے جاری رکھا گیا ہے۔ ممتاز تاریخ داں نے یک تہذیبی نظریہ کے مقابلے میں ہمہ تہذیبی کلچر کی حمایت کی کیوں کہ اس سے ملک کی ترقی میں مدد ملے گی۔ انہوں نے کہا کہ ہندوستان کی ہمہ تہذیبیت ہی نے سماجی ہم آہنگی میں اضافہ کیا ہے۔
ڈاکٹر دانش معین، صدرشعبہ تاریخ بھی اس موقع پر موجود تھے۔ ڈاکٹر کے ایم ضیاءالدین، اسسٹنٹ پروفیسر، البیرونی مرکز اس نشست کے کوآرڈنیٹر تھے۔ریسرچ اسکالرس، طلبہ اور اساتذہ کی بڑی تعداد نے استفادہ کیا۔

Post source : press note