July 20, 2019

مالیگاؤں بم دھماکہ ،بھگوا ملزمین کی عرضداشت پر فیصلہ محفوط

ممبئی۲۳؍ اپریل
ممبئی ہائی کورٹ کی دو رکنی بینچ نے لیگاؤں ۲۰۰۶ ء بم دھماکہ معاملے میں گرفتار چار بھگوا ملزمین کی ضمانت عرضداشت پر آج فیصلہ مکمل کرلیا، اسی درمیان بھگوا ملزمین کے اعتراضات پر جمعیۃ علماء مہاراشٹر (ارشد مدنی) کے وکیل شریف شیخ نے اپنا وکالت نامہ واپس لے لیا جس کے بعد عدالت میں موجود بم دھماکہ متاثر محمد شفیق سلیم نے عدالت سے نیا وکیل مقرر کرنے کی اجازت طلب کی جسے عدالت نے نا منظو ر کردیا ۔
واضح رہے کہ ملزمین دھان سنگھ،لوکیش شرما، منوہر نرواریا اور راجندر چودھری کے وکلاء نے ایڈوکیٹ شریف شیخ کے بحث کرنے پر اعتراض کیا تھا جس کے بعد آج ایڈوکیٹ شریف شیخ نے وکالت نامہ واپس لے لیا ۔ اسی درمیان دو رکنی بینچ کے جسٹس اندر جیت موہنتی اور جسٹس بدر نے ضمانت عرضداشتوں پر فیصلہ محفوظ کیئے جانے کا حکم جاری کیا۔
واضح رہے کہ سن ۲۰۱۶ء میں خصوصی این آئی اے عدالت نے مالیگاؤں ۲۰۰۶ء بم دھماکہ معاملے کے نو مسلم نوجوانوں کو مقدمہ سے ڈسچارج کردیا تھا جس کے بعد ریاستی حکومت نے ممبئی ہائی کورٹ میں ڈسچارج کے خلاف اپیل داخل کی تھی جسے عدالت نے سماعت کے لیئے قبول کرلیا تھا اور سماعت شروع ہوچکی تھی لیکن آج عدالت نے اچانک اپنا فیصلہ تبدیل کرتے ہوئے ضمانت عرضداشتوں پر سماعت کیئے جانے کے احکامات جاری کیئے جس کا آج اختتام ہوا۔
اسی درمیان مالیگاؤں ۲۰۰۸ بم دھماکہ کی کلیدی ملزمہ سادھوی پرگیا سنگھ ٹھاکر کے الیکشن لڑنے پر پابندی کا مطالبہ کرنے والی عرضداشت پر اپنا جواب داخل کرتے ہوئے عدالت کو بتایا کہ عرضداشت داخل کرکے بم دھماکہ متاثرین نے عدالت کا وقت برباد کیا جس کارروائی ہونا چاہئے نیز ملزمہ کو الیکشن لڑنے سے عدالت بھی روک نہیں سکتی۔
سادھوی کاجواب اپنے ریکارڈ پر لینے کا بعد عدالت نے جمعیۃ علماء و دیگر فریقین کے وکلاء کو کل بحث کرنے کا حکم جاری کیا۔

Post source : press note