July 20, 2019

زندگی ریٹائرمنٹ کے بعد پرایک تبصرہ, خالد کمال رومی

زندگی ریٹائرمنٹ کے بعد پرایک تبصرہ, خالد کمال رومی

زندگی ریٹائرمنٹ کے بعد
پر ایک تبصرہ
خالد کمال رومی
کوچین، کیرالہ

زندگی ریٹائرمنٹ کے بعد یعنی جب ایک شخص ساٹھ سال یا اس سے زیادہ کا ہوجاتا ہے یعنی جوانی اور ادھیڑ عمر کے مرحلے سے گزر کر بوڑھاپے کی دہلیز پر قدم رکھتا ہے، اس وقت اس کی ذہنی، جسمانی اور نفسیاتی کیفیت میں خاص تبدیلی آتی ہے۔ ایک طرف فکر ومزاج کی پختگی ہوتی ہے تو دوسری طرف جسمانی کمزوری اور اضمحلال کی کیفیت طاری ہوجاتی ہے جو اس کے عزائم اور قوتِ کار کو متاثر کرتی ہے۔
اس وقت ساری دنیا میں سن رسیدگی (Ageing)اور کبر سنی (Old Age)نہ صرف میڈیکل سائنس میں دلچسپی کا موضوع ہے بلکہ باضابطہ Geriatric Deptt.تمام بڑے میڈیکل کالج اور ہسپتال میں قائم ہیں جہاں بڑھتی عمر کی بیماریوں کی تشخیص اور دوا علاج کی جاتی ہے۔ دراصل کوالیٹی آف لائف میں بہتری کے سبب اب اوسط عمر بڑھتی جارہی ہے۔ تمام مغربی ممالک اور ترقی یافتہ ملکوں میں اوسط عمر 70اور 80سال کے درمیان ہوگئی ہے۔ یورپ، امریکہ، جاپان وغیرہ میں 60 سال اور اس سے اوپر کی عمر والوں کی تعداد 30%سے زیادہ ہوگئی ہے۔ بھارت میں قریب10%آبادی ساٹھ سال یا اس سے زائد کی عمر کی ہے۔ 2011کی مردم شماری کے مطابق مسلمانوں میں مجموعی اعتبار سے ان کا تناسب6%ہے یعنی مسلمانوں کی کل آبادی میں یہ 1.25کروڑ ہیں۔
سن رسیدگی یہ صرف طبی مسئلہ نہیں ہے بلکہ اس کے بہت سارے سماجی، معاشی، تمدنی، نفسیاتی پہلو بھی ہیں جو غور طلب ہیں۔ لہٰذا ساری دنیا میں یہ مسئلہ گہرے غوروفکر کا موضوع بنا ہوا ہے اور بہت سارے رضا کار اداروں، حکومتوں اور بین الاقوامی تنظیموں نے اس جانب خاص توجہ دی ہے اور ایک طرف کافی فکروتحقیق کے بعد وقیع لٹریچر تیار کیا ہے وہیں بہت سے ادارے اور قوانین بنائے ہیں تاکہ زندگی کی ڈھلتی شام میں بزرگوں کو پروقار محفوظ اور آرام دہ زندگی میسر ہوسکے۔
اسلام نے عورت، مرد، بچے، جوان، بوڑھے معذور اور مجبور سب کی اہمیت بتائی ہے اور سبھوں کے حقوق کی پاسداری کی ہے مگر افسوس ہے کہ ہمارا تمدنی شعور اتنا بالیدہ نہیں ہے۔ لہٰذا ہم ان مسائل کی اہمیت نہیں سمجھتے اور ہماری جانب سے نہ تو انفرادی سطح پر اور نہ اجتماعی سطح پر ایسا کوئی نظم پایا جاتا ہے۔ جس طرح ہم ہر معاملے میں مغرب کی نقالی کرتے ہیں، اس معاملے میں بھی انہی کو مرجع مانتے ہیں۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم ذہن کے بند دریچوں کو کھول کر سماج میں ابھرتے مسائل کو دیکھیں، سمجھیں اور اس کے حل کی جانب قابلِ عمل حکمت عملی اختیار کریں۔
ہندوستانی مسلمانوں میں ایک تو تعلیم یافتہ افراد کی تعداد بہت کم ہے، اس میں پرائیویٹ اور پبلک سیکٹر میں نوکری پیشہ افراد اور بھی کم ہیں۔ تیسرے اور چوتھے درجے کی نوکریوں میں ان کا تناسب 5سے 10فیصد کے درمیان ہے جبکہ پہلے اور دوسرے درجے کی نوکریوں میں ان کا تناسب1سے 3فیصد ہے۔ یہ جہاں ایک طرف سسٹم کی ناانصافی کی غماز ہے وہیں مسلمانوں کی پسماندگی کی منہ بولتی تصویر بھی پیش کرتی ہے۔ یہ وہ لوگ ہیں جو مسلم مڈل کلاس کہلاتے ہیں۔
کسی بھی سماج میں مڈل کلاس تبدیلی اور انقلاب کا ہراول دستہ ہوتا ہے۔ لہٰذا جس سماج کا مڈل کلاس جتنا تعلیم یافتہ، سمجھ دار، حساس، بالغ نظر، فعال، ملی اور وطنی شعور سے بھرپور ہوگا اس سماج میں تبدیلی اور انقلاب کا عمل اتنا ہی تیز ہوگا۔ مسلمان سماج میں جو لوگ اس دائرے میں آتے ہیں ان کی ذمہ داریاں دو چند ہوجاتی ہیں۔
اس وقت معاشی بہتری صحت اور حفظانِ صحت کے باب میں جو بہتری آئی ہے اس سے ایک طرف طول عمر (Longevity)بڑھی ہے تودوسری طرف بڑھتی عمر کے باوجود لوگ صحت مند اور قابلِ کار رہتے ہیں۔ مغربی ملکوں میں جہاں محنت کی عزت (Dignity of Labour)کا ماحول ہے، وہاں ایک آدمی اچھی اور بڑی نوکری سے فارغ ہونے کے بعد دوسری چھوٹی موٹی نوکری یا کام کرنے میں عار محسوس نہیں کرتا۔ کسی کا محتاج ہونے کے بجائے خود کفیل رہنا اس کے نزدیک زیادہ باعث شرف ہے۔ مشرقی ملکوں اور مسلمان سماج میں ایسا مزاج نہیں پایا جاتا ہے۔ لہٰذا عموماً جب ایک آدمی کسی شعبہ سے ریٹائر ہوتا ہے صحت و توانائی کے باوجود کوئی کام نہیں کرتا ہے بلکہ بسا اوقات اپنے وسائل اور عمر کو ضائع کرتا رہتا ہے۔ کچھ لوگوں پر مذہبیت سوار ہوجاتی ہے تو مسجد میں جابیٹھتے ہیں اور کچھ لوگ سیر و تفریح میں اپنے دن گزارتے ہیں۔
میری گزارش یہ ہے کہ ریٹائرمنٹ زندگی کا خاتمہ نہیں ہے بلکہ ایک پڑاؤ ہے۔ یہ ایک قانونی عمل ہے جس کا اطلاق ان لوگوں پر ہوتا ہے جو نوکری پیشہ ہیں۔ جوآزاد پیشہ لوگ ہیں جب تک ان کے جسم و جان میں طاقت ہوتی ہے اور ان کے حواس درست ہوتے ہیں کام کرتے رہتے ہیں۔ اس لیے جو لوگ ریٹائرمنٹ کے بعد اپنی گھریلو ذمہ داریوں سے فارغ ہیں یعنی بچوں کی تعلیم، ان کا روزگار، ان کی شادی بیاہ وغیرہ سے فارغ ہوچکے ہیں اور ان کی صحت بھی ماشاء اللہ درست ہے، انہیں ہاتھ پاؤں توڑ کر اپنے گھر میں نہیں بیٹھنا چاہیے بلکہ اپنے علم، تجربہ اور خدمات سے سماج کو مستفید ہونے کا موقع دینا چاہیے۔
اس وقت ہندوستان میں مسلم سماج جن گوں ناگوں مسائل سے دوچار ہے، اس میں ہمارے یہ تعلیم یافتہ اور تجربہ کار افراد دینی، ملی، تعلیمی، معاشی، سماجی، تمدنی اور خدمت خلق کے دیگراداروں اور افراد کے ساتھ جڑ کر کام کریں تو ان کا بھی فائدہ ہوگا اور ملت بھی مستفید ہوگی اور وسیع تر ہندوستانی سماج کا بھی بھلا ہوگا۔ ملت میں اس وقت ہر سطح پر قیادت کا فقدان ہے، اس خلا کو بھی پُر کرنے میں مدد ملے گی۔
”زندگی ریٹائرمنٹ کے بعد“ اردو میں لکھی گئی پہلی مبسوط اور مفصل تصنیف ہے جسے بجا طور پر اردو اور اسلامی لٹریچر میں ایک مثبت اضافہ مانا جاسکتا ہے۔
یہ کتاب ریٹائرمنٹ اور اس کے بعد کے حیات و حالات کا نہ صرف بھرپور جائزہ پیش کرتی ہے بلکہ قرآن و حدیث کی روشنی میں زندگی کے آخری لمحہ تک خود کو اپنے گھر، سماج، ملت اور پوری انسانیت کے لیے کیسے مفید ثابت کرتے ہوئے بھرپور اور پُروقار زندگی جی جاسکتی ہے اس کی طرف عملی رہنمائی بھی کرتی ہے۔ اس کتاب میں آپ کو بڑھتی عمر کے مسائل، بیماریوں، حقوق و معاملات کے باب میں دنیا بھر کے دساتیر، قوانین اور اداروں کے حوالے سے مفید جانکاریاں ملیں گی، ساتھ میں میڈیکل سائنس اور معاشیات کی جدید معلومات کی روشنی میں اپنے آپ کو جسمانی اور مالی طور پر کیسے خود کفیل رکھا جائے اس کی طرف بھی رہنمائی کی گئی ہے۔
اس کتاب کے مرکزی مخاطب تو ریٹائرڈ اور بزرگ لوگ ہیں لیکن یہ کتاب تمام نوجوانوں، دینی اور سماجی تحریکوں، اداروں اور عوامی خدمت کرنے والوں کے لیے ایک ایسا گائیڈ بک ہے جو اسلامی اور عصری تناظر میں عملی رہنمائی کرتی ہے۔ اس کتاب میں اتنی عمرانی، تمدنی، نفسیاتی، قانونی اور سماجی پہلوؤں پر گفتگو کی گئی ہے کہ یہ ایک سماجی منشور بن گیا ہے جس کو اصلاح معاشرہ کے ایک دستور العمل کے طور پر استعمال کیا جاسکتا ہے، لہٰذا یہ کتاب بزرگوں، نوجوانوں، مرد و خواتین، اسکول، کالج اور دینی جامعات کے طلباء، سماجی اور ملی جماعتوں کے ذمہ داروں و کارکنوں سب کے لیے لائق مطالعہ ہے۔ کتاب کی زبان سادہ اور معیاری ہے جو ضروری حوالوں اور ماخذ سے مزین ہے۔
یہ کتاب معروف اسکالر ماہر معاشیات، ماہر تعلیم اور سماجی مفکر، پروفیسر ڈاکٹر سید ابوذر کمال الدین کی چار سالہ غوروتحقیق کا نتیجہ ہے۔ یہ کتاب288صفحات پر مشتمل ہے جس کی قیمت250/-روپئے ہے۔ جسے گلوبل میڈیا پبلیکیشن، نئی دہلی نے اچھے گٹ اپ کے ساتھ شائع کیا ہے۔ کتابت و طباعت اچھی ہے اور بہت حد تک غلطیوں سے پاک ہے۔ یہ کتاب تمام معروف بک اسٹور اور مکتبہ سے حاصل کی جاسکتی ہے۔ آپ اسے آن لائن بھی Zindagi Retirement ke Baad کے نام سے Amazonاور Flipkartسے خرید سکتے ہیں۔

Post source : press note