October 23, 2019

کٹے ہوئے ہونٹ کے ساتھ پیدا ہونے والے بچوں کی وجوہات کا پتہ چلانے والی ٹیم میں جامعہ کے دو فیکلٹی بھی شامل

نئی دہلی-11جولائی ( پریس ریلیز) جامعہ ملیہ اسلامیہ فیکلٹی آف ڈینٹسٹری کے دو فکلٹی ممبر ان بین الاقوامی ماہرین پر مشتمل ایک چھہ رکنی ممبران کی ٹیم کے ساتھ برطانیہ اور ہندوستان کی کچھ یونیورسٹیوں کے ساتھ ایک تحقیقی پروجیکٹ کے تحت کام کریں گے، اس کے ذریعے یہ جاننے کی کوشش کی جائے گی کہ بچے کٹے ہوئے لب کے ساتھ کیوں کر پیدا ہو رہے ہیں،اس کی وجوہات کیا ہیں اور اس کا حل کیا ہو سکتا ہے۔ بتا تے چلیں کہ یہ پروجیکٹ ایس پی اے آر سی اور یو کے آئی ای آر آئی کے ماتحت ہو رہے ہیں۔

پروجیکٹ کو ”ایویلویشن آف کلفٹ کیئر آوٹ کمس آف نان سنڈرومک یونیلیٹرل کلیفٹ لپ اینڈ پلیٹ (یو سی ایل پی)پیسنٹ ایٹ فائیو ٹو ٹوویلواینڈ ٹونٹی ایکراس انڈیا: دی کلیفٹ کیئر انڈیا اسٹڈی“ کا نام دیا گیا ہے۔
ڈاکٹر پانچلی بترا، انڈین پرنسپل انوسٹیگیٹر (پی آئی)، اور ڈاکٹر ڈیبورہ سیبل،انڈین کو پی آئی -فیکلٹی آف ڈینٹسٹری جامعہ ملیہ اسلامیہ، ٹیم کے علاوہ دیگر ارکان میں ڈاکٹر دیپک نندا، انڈین کو پی آئی، وردھمن مہاویر میڈیکل کالج اور صفدر جنگ اسپتال اور مانچسٹر یونیورسٹی کے ڈاکٹر موہت متل (انٹر نیشنل سی او پی آئی)،یونیورسٹی آف شیفیلڈ سے ڈاکٹر احمد ای ایل انبگوی شامل ہیں۔
ابتدائی طور پر ایس پی اے آر سی -یوکے آئی ای آر آئی نے تقریبا 40 لاکھ روپئے کی منظوری دے دی ہے، آئندہ دو سال میں پروجیکٹ کے مکمل ہونے پر مزید بارہ لاکھ روپئے دیے جائیں گے۔
مطالعہ کا مقصد قومی سطح پر نان سنڈومومک(یو سی ایل پی)مریضوں کی دیکھ بھال کے معیارات کا اندازہ لگانے کے علاوہ علاج کے لئے ایک معیاری پروٹوکول تیار کرنے میں اشتراک و تعاون کرنا ہے جسے قومی طور پر قبول کیا جا سکے۔
پیدائشی کٹا ہوا ہونٹ اور تالو زندہ پیدا ہونے والے بچوں میں چہرے اور سر کی بد شکلی کی سب سے بڑی وجہ ہیں۔ اس میں 700 میں سے ایک پچہ اس سے متاثر ہو تا ہے، اور اس کے نتیجے میں، ہر سال000 27 اور000 33کٹے ہوئے ہونٹ کے ساتھ پیدا ہوتے ہیں۔ قومی دہنی صحت کے پروگرام میں اسے بنیادی تشویش کا حامل مسئلہ قرار دیا گیا ہے چونکہ اس کے سبب زندگی کو خطرے لاحق ہو سکتے ہیں۔اور اس کے شکار تمام عمر عملی، نفسیاتی اور جمالیاتی اذیت سے دوچار رہتے ہیں۔
اس طرح کے انتہائی صورتوں میں مریضوں کو سخت دیکھ بھال کی ضرورت ہوتی ہے اور ہندوستان میں اتنے بڑے پیمانے پر ہونے والی اس پریشانی کا اب تک کوئی معیاری علاجکا پیمانہ نہیں بنا ہے۔ لاعلمی کی وجہ سے اس کے علاج میں تاخیر عام بات ہے۔ جسکی وجہ سے اکثر ایسے چھوٹے بچے تغذیہ کی کمی اور انفیکشن کی وجہ سے دم توڑ دیتے ہیں۔ اس میدان میں تحقیق کے لیے حکومت ہند نے ایس پی اے آر سی نامی یہ منصوبہ 2018 میں شروع کیا تھی۔ اس سے اس مسئلے سے نمٹنے میں تعلیم و تحقیق کو ایک نئی جہت ملی ہے اور ایم ایچ آر ڈی کے ذریعے ایک نئے اتحادی تحقیق کا آغازہوا ہے۔
یونائیٹڈ کنگ ڈم اینڈ ایجوکیشنل ریسرچ انیشئیٹیو (یو کے آئی ای آر آئی)کے اشتراک سے اس کا آغاز اپریل 2006 میں ہوا تھا، جس کا مقصد ہندوستان اور برطانیہ کے مابین آپسی تعاون کو بڑھاوا دینا ہے۔ ہندوستان میں کٹے ہوئے ہونٹ کے مسئلے کو 2008 میں میگن ملن نے ’متبسم لب‘ نامی اپنی ایک مشہور دستاویزی فلم کے ذریعے اٹھایا تھا۔ اس میں دکھایا گیا تھا کہ کیسے کٹے ہوئے ہونٹوں سے متاثر ہندوستان کے ایک گاوں کی غریب بچی کی زندگی مفت سر جری سے بدل گئی۔ہندی اور بھوجپوری میں بنی اس دستاویزی فلم کو 81 ویں اکیڈمی ایوارڈ ملا تھا۔

Post source : Press release