July 17, 2019

آنگن واڑی مراکز میں مخلوعہ جائیدادیں

نئی دہلی11؍(پی آئی بی)خواتین اور بچوں کی ترقی کی مرکزی وزیر محترمہ اسمرتی زوبین ایرانی  نے ایک سوال کے جواب میں آج راجیہ سبھا کو بتایا کہ آنگن واڑی سروسز کی آئی سی ڈی ایس اسکیم کے تحت عملے کی بھرتی سمیت عمل درآمد کی ذمہ داری ریاستی حکومتوں؍ مرکز کے زیر انتظام علاقوں کی انتظامیہ کی ہے۔آنگن واڑی سروسز اسکیم کے تحت کل ہند بنیاد پر ریاستوں؍یو ٹی کے ذریعہ پیش کی گئی خالی اسامیوں کی صورتحال (31 مارچ 2019 تک)حسب ذیل ہے۔

عہدے کا نام

منظور شدہ

بھری گئی اسامی

خالی اسامی

سی ڈی پی او

7075

4944

2131

سپروائزر

51312

37124

14188

آنگن واڑی کارکن

1399697

1302617

97080

آنگن واڑی ہیلپر

1282847

1184954

97893

مذکورہ بالا اداروں میں خالی اسامیوں کی عدم بھرتی کا مسئلہ ریاستوں؍ مرکز کے زیر انتظام علاقوں کے ساتھ منعقدہ مختلف جائزہ میٹنگوں میں وقتاً فوقتاً اٹھایاگیا ہے۔ ریاستوں؍یو ٹی کو درپیش دشواریوں پر  غور کرتے ہوئے اور مذکورہ بالا عہدے میں خالی اسامیوں سے بچنے کے پیش نظر ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں سے اس سلسلے میں بروقت کارروائی کرنے کی درخواست کی گئی ہے۔ ریاستوں؍ مرکز کے زیر انتظام علاقوں کو جب تک ریگولر بنیاد پر خالی اسامیاں پر نہیں کی جاتی ہیں، اس وقت ٹھیکے کی بنیاد پر مذکورہ بالا عملہ کی تقرری کا مشورہ دیا گیا ہے۔ ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں کو علیحدہ سے آنگن واڑی ورکرس اور سپروائزروں کی اپنی سطح پر تقرر کے لئے ڈسٹرکٹ مجسٹریٹوں کو مجاز کرنے کا بھی مشورہ دیاگیا ہے۔

حالیہ برسوں کے دوران اس وزارت کے علم میں ایسا کوئی بھی ورکر نہیں آیا ہے، پھر بھی اگر اس معاملے میں کوئی عرضداشت موصول ہوتی ہے تو ریاستوں؍ مرکز کے زیر انتظام علاقوں کے ذریعہ اسکیم کے عمل درآمد کے لئے ضروری اقدامات کی غرض سے متعلقہ ریاستی حکومت؍ یو ٹی انتظامیہ کے پاس بھیج دیا جائے گا۔

آنگن واڑی خدمات کے تحت ملک میں آنگن واڑی مرکز کی حالت کو بہتر بنانے کے لئے مہاتما گاندھی نیشنل رورل امپلائمنٹ گارنٹی اسکیم (ایم جی این آر ای جی ایس) اسکیم کے ساتھ ملا کر ہر سال ایک لاکھ آنگن واڑی مراکز کی تعمیر کو منظوری دی گئی ہے۔نئے آنگن واڑی بلڈنگ کی تعمیر میں مرکزی حصہ فی اے ڈبلیو سی عمارت ایک لاکھ روپیہ ہے، جسے عمارت کی تعمیر کی تکمیل کے بعد ریاستوں؍مرکز کے زیر انتظام علاقوں کو ادا کردیا جاتا ہے۔

مزید برآں خواتین اور بچوں کی ترقی کی وزارت نے سووچھتا ایکشن پلان (ایس اے پی) بنایا ہے اور 18-2017 کے دوران 69974 بیت الخلا کی تعمیر کے لئے 54.12 کروڑ روپے اور 19993 سرکاری ملکیت والے آنگن واڑی مراکز میں پینے کے پانی کی سہولیات فراہم کرانے کے لئے 13.28 کروڑ روپے ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں کو جاری کردیے گئے ہیں۔ 19-2018 کے دوران 70000 بیت الخلا کی تعمیر کے لئے اور 20000سرکاری آنگن واڑی مراکزپینے کے پانی کی سہولیات فراہم کرانے کے لئے 72.67 کروڑ روپے کی رقم جاری کردی گئی ہے۔

Post source : pib