December 08, 2019

نرمل کے سرکاری دفاتر کی علامتی تختیوں(سائن بورڈز)میں اردو نظرانداز،اردو داں طبقہ بے چین؛ضلع کلکٹر کو یادداشت

عادل آباد/نرمل16-جولائی(اردو لیکس)مفتی احسان شاہ قاسمی کی اطلاع کےمطابق ریاست تلنگانہ کی سرکار کی جانب سے ایک طرف تو اردو زبان کو دوسری سرکاری زبان کا درجہ دیا گیاہے اور ریاست بھر کے کئی کلکٹر دفاتر میں اردو آفیسرز کی تقرری عمل میں لائی گئی،تو دوسری جانب سرکاری دفاتر کی علامتی تختیوں (سائن بورڈز)اور سرکاری بسوں پر اردو کو نظر انداز کیا جارہاہے ہے جس سے اردو کے ساتھ ریاستی حکومت کے دوہرے رویے کا اظہار ہورہاہے ،یہ چیز اردو داں طبقے کے لیے حددرجہ باعثِ تشویش ہے

چنانچہ شہر نرمل کے عام شاہراہ پر واقع ضلع پرجا پریشد کے دفتر کے روبر نصب کردہ سائن بورڈ پر اردو کو نظر انداز کیے جانے کے خلاف آج بتاریخ16:07:2019بروز منگل قمر ایجوکیشنل سوسائٹی کے ذمہ داران کی جانب سے ضلع کلکٹرسے نمائندگی کی گئی اور اس سلسلے میں ایک یادداشت پیش کرکے مطالبہ کیا گیا ہے کہ سرکاری دفاتر کے سائن بورڈزکو اردو میں نہ لکھنا یہ اردو زبان کے ساتھ سراسر ناانصافی ہے،جس سے اردو داں طبقہ سخت نالاں ہیں،ارباب مجاز جلد از جلد اس سلسلے میں اقدام کرتے ہوئے سرکاری دفاتر کے روبرو نصب کیے جانے والے بورڈز پر نمایاں تحریر میں اردو کو جگہ دے کر اردو کے ساتھ ہورہے ناروا سلوک کا تدارک کریں اور اردو کو اس کا حق دلوائیں۔

اس موقع پر شیخ شبیر صدر قمر ایجوکیشنل سوسائٹی،مفتی احسان شاہ قاسمی صدر صراط مستقیم سوسائٹی،محمد ارشان ہمارا سہارا سوسائٹی،زیشان شیخ اور محمد کاشف موجودتھے۔

Post source : Urduleaks news network