December 08, 2019

ہجومی تشدد کے خلاف ڈپٹی کمشنر دفتر کے روبرو خواتین کا احتجاج  

 

شیموگہ ۔ 19 جولائی ( پریس ریلیز) ملک کے مختلف حصوں میں مسلم نوجوانوں کو تشدد کے ذریعے قتل کئے جانے کی وارداتوں پر غم و غصے کا اظہار کرتے ہوئے شیموگہ پیس مسلم مہیلا کٹھکا کی خواتین نے ڈپٹی کمشنر دفتر کے روبرو جمع ہوکر احتجاج کیا اور ڈپٹی کمشنر کے ذریعہ مرکزی اور ریاستی حکومت کو میمورنڈم پیش کیا جس میں کہا گیا ہے کہ جھارکھنڈ میں تبریز انصاری سمیت ملک کے مختلف مقامات میں ہجومی تشدد کے ذریعہ نوجوانوں کو مار مار کر قتل کردیا. اسی طرح کا معاملہ ضلع کے ساگر تعلق اور ہوناہلی میں پیش آیا ہے. جئے شری رام کے نام پر دلت بالخصوص مسلم نوجوانوں کا قتل کیا جارہا ہے. ملک میں اسی طرح کے معاملات میں اضافہ ہورہا ہے. داونگیرے ضلع کے ہوناہلی تعلق میں 15 جون کو دیانت خان کا قتل کردیا گیا ہے اسی طرح کی وارداتوں پر روک تھام کے لئے سخت اقدامات کرنے کے بجائے حکومتیں خاموشی اختیار کرلی ہے. ملک کی 140 کروڑ آبادی میں صرف ایک فیصد فرقہ پرست ملک کے جمہوری نظام کو درہم برہم کرنے کی کوشش کررہے ہیں. ان فرقہ پرستوں کے خلاف کاروائی کرنے اور قابو پانے میں مرکزی اور ریاستی حکومتیں ناکام ہوچکی ہیں. اس طرح کی سرگرمیوں میں ملوث افراد کے خلاف سخت کاروائی کرتے ہوئے ایک سال تک غیر ضمانتی وارنٹ جاری کریں انہونے مطالبہ کیا کہ ہجومی تشدد کے ملزمین کو عمر قید یا موت کی سزا کا قانون جاری کریں. اس موقع پر پیس مسلم مہیلا انجمن صدر احساس نایاب, سلمہ یاسمین, وحیدہ فردوس, عائشہ, فریدہ خانم, حسینہ بانو, خورشید, کارپوریٹر مہک شریف, روحنہ خانم, سمینہ انجم, گلناز خانم وغیرہ موجود تھے ۔

Post source : Press release