September 22, 2019

وزیر صحت راجندر کے ہاتھوں تھلیسیمیا سوسائٹی کے ہاسپٹل کا افتتاح

وزیر صحت راجندر کے ہاتھوں تھلیسیمیا سوسائٹی کے ہاسپٹل کا افتتاح

حیدرآباد۔9/اگست۔(‘پریس ریلیز) تھلسیمیا اینڈ سکل سیل سوسائٹی کی الٹرا ماڈرن انفراسٹرکچر سے آراستہ عمارت کا تلنگانہ کے وزیر صحت مسٹر ای راجندر نے افتتاح کیا۔ اس موقع پر چیوڑلہ کے رکن پارلیمنٹ ڈاکٹر جی رنجیت ریڈی، مسٹر ٹی پرکاش گوڑ ایم ایل اے را جندر نگر، مسٹر وی وی لکشمی نارائن سابق ایڈیشنل ڈائرکٹر جنرل آف پولیس مہاراشٹرا، شیام سندر لویا، ایم وینکٹ رام راجو چیرمین وسودھا فاؤنڈیشن کے علاوہ پی گوپی چند چیف نیشنل کوچ انڈین بیاڈمنٹن ٹیم، بی ایس آر مورتی ماہر روحانی امراض، یو پردیب پروپرائٹر سری کرشنا جویلیرس موجود تھے۔ صدر سوسائٹی مسٹر چندر کانت اگروال، نائب صدر رتناولی کتہ پلی، ڈاکٹر سومن جین سکریٹری، جناب علیم بیگ جوائنٹ سکریٹری، منوج روپالی خازن اور نریش راٹھی سرپرست نے مہمانوں کا خیر مقدم کیا۔ تھلسیمیا اینڈ سکل سیل سوسائٹی کی یہ چار منزلہ عمارت جو 30ہزار اسکوائر فیٹ پر تعمیر کی گئی ہے سوسائٹی کا کارپوریٹ آفس کملا ہاسپٹل اینڈ ریسرچ سنٹر، بی نارائن داس شیام سندر لویا کیور، تھلسیمیا ویلفیر ٹرسٹ، وی  وینکیا میموریل بلڈ بینک، بی کرشنا راؤ اینڈ چندرکلا ڈائگناسٹک سرویسس پر مشتمل ہے۔ وزیر صحت مسٹر ای راجندر نے تلنگانہ کو تھلسیمیا فری اسٹیٹ بنانے کے لئے تھلسیمیا اینڈ سکل سیل سوسائٹی کی کاوشوں کی ستائش کرتے ہوئے حکومت کی جانب سے مکمل تعاون کا پیشکش کیا۔ اور مریضوں کے علاج کے لئے کسی رکاوٹ کے بغیر فنڈس کی اجرائی کا تیقن دیا۔ انہوں نے بتایا کہ محکمہ صحت کا سالانہ بجٹ 7500کروڑ روپئے ہے۔ انہوں نے تھیلسمیا کے مریضوں کے لئے پنشن اسکیم پر بھی غور کرنے کا تیقن دیا اور کہا کہ ٹی آر ایس حکومت سنہرا تلنگانہ بنانے کا جو عزم رکھتی ہے اس کی تکمیل کے لئے یہ ضروری ہے کہ بیماریوں کا علاج ہو اور معاشرہ صحت مند ہو۔

صدر سوسائٹی مسٹر چندرکانت اگروال نے اس موقع پر اپنے خیر مقدمی تقریر میں تھلیسیمیا اور اس سے متاثرہ افراد کے حال اور مستقبل پر روشنی ڈالی۔ تھیلیسمیا دراصل ہیموگلوبن کی کمی کا نتیجہ ہے۔ اس مرض کا شکار افراد کی  اوسط عمر عموماً 25 تا 30سال کے درمیان ہوتی ہے تاہم اگر متوازن خوراک استعمال کی جائے اور خون کی سطح کو برقرار رکھا جائے تو ان کی عمر کی شرح بڑھ سکتی ہے اور وہ نارمل زندگی گذارسکتے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ تھیلیسیمیا کے مریض بہت جلد تھک جاتے ہیں۔ تاہم خوراک اور ویٹامن ڈی کے حامل پھل ترکاری‘ اور صبح کے اوقات میں ہلکی ہلکی دھوپ میں کچھ وقت گذارنے سے بھی اس مرض پر قابو پانے کے لئے درکار کیلشیم حاصل کیا جاسکتا ہے۔
تھیلیسیمیا کا پتہ چلانے کیلئے شادی سے پہلے HBA-2 ٹسٹ کروانا چاہئے یا پھر شادی کے بعد خواتین حمل کے دوران ماقبل زچگی جسے Pre Natal Test کہتے ہیں کروائے۔ اگر تھیلیسیمیا کے مرض کا پتہ چلتا ہے تو ڈاکٹر اسقاط حمل کا مشورہ دیتا ہے۔
تھلسیمیا اینڈ سکل سیل سوسائٹی ایک رجسٹرڈ این جی او ہے جو گذشتہ دو دہائیوں سے اس مرض کے پھیلاؤ کو روکنے کے لئے اقدامات کررہی ہے۔ تھلیسیمیا سے متاثرہ بچوں کے خون کی بلامعاوضہ منتقلی کے علاوہ ادویات اور انہیں مشورہ دیئے جاتے ہیں۔ سوسائٹی ایک ہی چھت کے نیچے 2500 متاثرہ بچوں کی خدمت انجام دے رہی ہے۔ یہ سوسائٹی چھتہ بازار حیدرآباد سے خدمات انجام دے رہی تھی اب یہ اپنی نئی عمارت میں منتقل ہوئی ہے۔ تقریب کا آغاز تھلیسیمیا سے متاثرہ بچوں کے خیر مقدمی نغمے سے ہوا۔ اس موقع پر سوسائٹی کے عطیہ دہندگان کو تہنیت پیش کی گئی۔
تھلسیمیا اینڈ سکل سیل سوسائٹی نے تلنگانہ کو تھلسیمیا فری اسٹیٹ بنانے کا عزم ظاہر کیا۔ جناب مرزا علیم بیگ نے ریاستی حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ HBA-2 ٹسٹ تمام دواخانوں میں تمام حاملہ عورتوں کے لئے لازمی کردے۔ ساتھ ہی ریلوے اسٹیشنس، سنیما ہال، کالجس، ہاسپٹلس کو بھی شعور بیداری کیلئے استعمال کریں۔  انہوں نے بتایا کہ سوسائٹی کی جانب سے ہر روز 40طلبہ کو بلامعاوضہ خون دیا جاتا ہے۔ تلنگانہ میں ہر سال 30ہزار بچے تھیلسمیا کے مرض کے ساتھ پیدا ہوتے ہیں۔ یہ تعداد میں اضافہ شعور کی کمی کی وجہ سے ہے۔
جوائنٹ سکریٹری جناب علیم بیگ نے بھی مریضوں اور ان کے ارکان سے خاندان سے تبادلہ خیال کیا۔اس موقع پر جناب علیم بیگ نے کہا کہ تھیلیسیمیا کے مریضوں کیلئے خون کی فراہمی سب سے زیادہ اہم ہے جس کے لئے زیادہ سے زیادہ خون کے عطیات کی ضرورت ہے۔ انہوں نے 18سال سے 60سال کی عمر کے صحت مند افراد سے اپیل کی کہ وہ Thalassemia and Sickle Cell Societyکو خون کے عطیات دیں۔ڈاکٹر سومن جین نے شکریہ ادا کیا۔
تھلسیمیا اینڈ سکل سیل سوسائٹی کی الٹرا ماڈرن عمارت کا افتتاح کرنے کے بعدتلنگانہ کے وزیر صحت مسٹر ای راجندرخون کی کمی سے متاثرہ مریضوں کا معائنہ کیا اور سوسائٹی کے عہدیداروں سے تبادلہ خیال کیا۔چیوڑلہ کے ایم پی رنجیت ریڈی کے علاوہ سوسائٹی کے عہدیداران مسٹر چندر کانت اگروال، مسٹر علیم بیگ اور دوسرے موجود تھے

Post source : Press release