September 23, 2019

بابری مسجد ٹائٹل سوٹ

بابری مسجد ٹائٹل سوٹ

نئی دہلی:13/ستمبر(پریس نوٹ) آج بابری مسجد ٹائٹل سوٹ میں بحث کی کمان مسلم پرسنل لا بورڈ کے سکریٹری سینئر ایڈوکیٹ جناب ظفریاب جیلانی صاحب نے سنبھالی اور نرموہی اکھاڑے کے دعوؤں کو رد کیا۔ انہوں نے اس سلسلہ میں ہائی کورٹ میں موجود 1934سے 1949کے درمیان کی متعدد دستاویزات پیش کیں اور کہا کہ ان دستاویزات سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ یہ زمین بطور مسجد کے استعمال ہوتی رہی ہے اور مسلمان اس میں برابر نماز پڑھتے رہے ہیں۔ انہوں نے ایک دستاویز پیش کی اور کہا کہ یہ نرموہی اکھاڑے کے دو فریقوں کے درمیان کے جھگڑے کا فیصلہ ہے۔ انہوں نے فیصلے کے کاغذات اور ڈگری کو دکھایا جس میں انہوں نے یہ دکھایا کہ اس دعوے اور ڈگری میں یہ لکھا گیا کہ رام چبوترے کے پچھم میں بابری مسجد ہے اور پورب اور دکچھن میں قبرستان ہے۔یہ دعوی 1941میں کیا گیا تھا اور جس کا سمجھوتہ 1942میں ہوا۔ اس سے یہ صاف ظاہر ہوتا ہے کہ 1942میں نرموہی اکھاڑہ بھی اس جگہ کو مسجد مانتا تھا، اس لئے ان کا یہ دعوی کہ 1934سے اس جگہ پر پوجا ہوتی رہی ہے، انہی کے داخل کردہ کاغذات سے غلط ثابت ہوجاتا ہے۔
اس کے بعد جیلانی صاحب نے 27/مارچ 1934کے فیض آباد ڈسٹرکٹ آفیسر کے ایک آرڈر کے کاغذات پیش کئے، جس میں مسلمانوں نے مسجد کی صفائی کی اجازت مانگی تھی۔ جس میں ڈسٹرکٹ آفیسر نے لکھا ہے کہ انہیں صفائی کی اجازت دی جاتی ہے تاکہ وہ اپنے مذہبی رسومات صحیح ڈھنگ سے ادا کرسکیں۔ اگر نرموہی اکھاڑہ کا اس جگہ پر قبضہ ہوتا تو بھلا مسلمانوں کو ڈسٹرکٹ آفیسر کے ذریعہ مسجد کی صفائی کی اجازت کس طرح دی جاسکتی تھی۔
اس کے بعد جیلانی صاحب نے کہا کہ 1934میں ایودھیا میں جو فساد ہوا تھا اور اس میں مسجد کو جو نقصان پہنچایا گیا تھا اس کے لئے مسجد کی مرمت کا جو کانٹریکٹ ڈسٹرکٹ ایڈمنسٹریشن نے دیا تھا اس پر جو اسٹیمیٹ ٹھیکہ دار کی طرف سے داخل کیا گیا اس میں گنبد کی مرمت کا تذکرہ ہے، ساتھ ہی یہ کہا گیا کہ ایک سنگ مرمر کا پتھر جس پر اللہ لکھا گیا ہے وہ بنارس میں بن رہا ہے۔ ان کاغذات میں بار بار بابری مسجد کا نام لیا گیا اس سے بھی صاف ظاہر ہوتا ہے کہ یہ جگہ بابری مسجد ہی ہے۔
اس کے بعد PWDکے اسسٹنٹ انجینئر زورآور شرما کی رپورٹ میں کہا گیا کہ مرمت کا کام ٹھیک طور سے ہوگیا ہے۔ لہٰذا ٹھیکہ دار کی رقم کی ادائیگی کردی جائے۔ اس کے بعد انہوں نے ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ کا وہ آرڈر بھی پیش کیا جس میں کہا گیا کہ بابری مسجد کی مرمت مکمل ہوگئی ہے لہٰذا رقم کی ادائیگی کردی جائے۔ اس کے بعد انہوں نے کہا کہ 1934کے فساد کے بعد ہندوؤں پر جرمانہ عائد کرکے جو ٹیکس لگایا گیا تھا، اس سے جو وصولیابی ہوئی تھی اس پر مسلمانوں کی طرف سے بابری مسجد کے متولی سید محمد زکی صاحب اور پیش امام مولانا عبدالغفار صاحب نے درخواست دی کہ جو ٹیکس وصول ہوا ہے اس میں سے ہمیں معاوضہ دیا جائے۔ چنانچہ اس آرڈر کی رپورٹ بھی جیلانی صاحب نے پیش کی۔
اس کے بعد اپنی بحث کو آگے بڑھاتے ہوئے جیلانی صاحب نے کہا کہ یہ سب کاغذات حکومت کے مختلف ذمہ داروں کی طرف سے داخل کئے گئے ہیں جو صاف ظاہر کرتے ہیں کہ یہ زمین بابری مسجد کے طور پر ہی استعمال ہوتی رہی ہے۔ چنانچہ نرموہی اکھاڑہ کا دعوی کذب بیانی سے زیادہ حیثیت نہیں رکھتا۔ اس کے بعد جیلانی صاحب نے کہا کہ سرکاری کاغذات کے علاوہ وقف بورڈ کی بھی متعدد کاغذات پیش کئے۔ وقف بورڈ نے 1943میں اس وقت کے متولی سے جواب مانگا تھا کہ آپ یہاں متولی کی حیثیت سے کام کررہے ہیں لیکن ہمارے پاس آپ نے کوئی درخواست نہیں دی ہے۔ اس پر متولی نے جواب دیا کہ ہم برابر انتظام کررہے ہیں، امام کی تنخواہ جو باقی تھی وہ ہم ادا کرچکے ہیں، مؤذن کی بھی تنخواہ ادا کررہے ہیں۔ مسجد میں جو چٹائیاں بچھائی جاتی ہیں ان میں سے کچھ مسجد میں رہتی ہیں اور کچھ ہم اپنے گھر پر رکھتے ہیں۔ پچھلے متولی کے انتقال کے بعد ہم نمبردار بنائے گئے تھے۔ چنانچہ ہمیں متولی بنادیا جائے۔اطلاع دینے میں تاخیر کے لئے ہم معذرت خواہ ہیں۔ اس سے بھی یہی ظاہر ہوتا ہے کہ یہ جگہ مسجد ہی تھی اور یہاں جمعہ کے دن خاصا اہتمام ہوتا تھا۔ 10/دسمبر 1949اور 23/دسمبر 1949وقف بورڈ کی دو رپورٹیں بھی جیلانی صاحب نے کورٹ میں پیش کیں جب وقف بورڈ کے انسپکٹر نے اس جگہ کا معائنہ کیا تھا۔ پہلی رپورٹ میں لکھا گیا کہ یہاں پر صرف جمعہ کی نماز ہورہی ہے اور دوسری رپورٹ میں کہا گیاکہ یہاں نماز پڑھنے میں مسلمانوں کو بڑی دقتیں پیش آرہی ہیں۔ سکھ اور ہندو بار بار رکاوٹ پیدا کررہے ہیں۔ اس سے بھی صاف ظاہر ہوتا ہے کہ یہاں مسلمان برابر نماز پڑھتے تھے، چاہے وہ نماز جمعہ ہی کی کیوں نہ ہو۔ مذکورہ بالا دستاویزات پر نرموہی اکھاڑے اور رام للا کے دوست دیوکی نندن اگروال نے بھی Relyکیا ہے۔
اس کے بعد جیلانی صاحب نے 29/نومبر 1949کی فیض آباد کے SPکی رپورٹ پیش کی جس میں کہا گیا کہ ہندو مسجد کا گھیراؤ کررہے ہیں تاکہ مسلمان مسجد کوکو خالی کردیں۔ اس سے بھی ظاہر ہوتا ہے کہ اس وقت تک مسلمان مسجد میں برابر نماز ادا کررہے تھے۔ اس کے بعد جیلانی صاحب نے ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ کا وہ خط پیش کیا جو 19/دسمبر 1949کو انہوں نے لکھا تھا، جس میں کہا گیا کہ بابری مسجد میں جب مسلمان نماز پڑھنے آتے ہیں تو اکثر ایسا ہوتا ہے کہ وہ اپنے جوتے وہاں چھوڑ دیتے ہیں جہاں چبوترہ ہے، جس پر رام للا کی مورتیاں رکھی ہوئی ہیں، جس سے جھگڑے کا اندیشہ رہتا ہے۔ ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ کے اس خط سے بھی یہ واضح ہوتا ہے کہ مسلمان بابری مسجد میں برابر نماز پڑھ رہے تھے۔ لہٰذا نرموہی اکھاڑے کا یہ کہنا کہ 1934سے 1949تک یہاں نماز نہیں ہورہی تھی غلط ثابت ہوجاتا ہے۔ جیلانی صاحب نے بابری مسجد کے پیش امام کی ایک درخواست بھی دکھائی جس میں انہوں نے وقف کمشنر کو یہ شکایت کی تھی کہ ہمیں گذشتہ دو سال سے تنخواہ نہیں ملی ہے۔ پھر انہوں نے وہ اقرار نامہ بھی پیش کیا جس میں وقف کمشنر سے مسجد کے متولی نے کہا کہ ہم پانچ قسطوں میں ان کی تنخواہ ادا کردیں گے۔ انہوں نے یہ اقرار نامہ 20/اگست 1938کو وقف کمشنر کے پاس جمع کیا تھا۔
وقفہ کے بعد مسلم فریقوں (مسلم پرسنل لا بورڈ، جمعیۃ علماء ہند)کے وکیل ڈاکٹر راجیو دھون نے نرموہی اکھاڑے کے سوٹ نمبر 3پر جاری بحث کو مکمل کرتے ہوئے کہا کہ اس سلسلہ میں اب تک ہم نے جو کچھ کورٹ کے سامنے پیش کیا ہے اس سے نرموہی اکھاڑے کا یہ دعویٰ خارج ہوجاتا ہے کہ 1934سے 1949تک وہ بابری مسجد کے اندر پوجا کرتے تھے۔اس کے بعد ڈاکٹر راجیو دھون نے سوٹ نمبر 5پر اپنی بحث کا آغاز کیا جس میں انہوں نے سوئم بھؤ(بھگوان کے خود پرکٹ ہونے کا تصور) پر بحث کا آغاز کرتے ہوئے کہا کہ یہ جو کہا جارہا ہے کہ یہ تصور الگ الگ شکلو ں میں ظاہر ہوتا ہے تو اگر کل کو یہ کہا جائے کہ سورج اور چاند بھی از خود پرکٹ ہوتے ہیں تو انہیں بھی بھگوان مان لیا جائے اور انہیں بھی مقدمہ قائم کرنے کی اجازت دے دی جائے تو کیا یہ صحیح ہوگا۔ دھون صاحب نے اس پر قانونی انداز میں تفصیلی بحث کی۔ یہ بحث آگے بھی جاری رہے گی۔
آج بحث کے دوران ڈاکٹر دھون کے علاوہ مسلم پرسنل بورڈ کی سینئر ایڈوکیٹ میناکشی اروڑہ اور بورڈ کے سیکریٹری سینئر ایڈوکیٹ ظفر یاب جیلانی بھی موجود تھے۔ اسی طرح بورڈ کے ایڈوکیٹ آن ریکارڈ کے طور پر ایڈوکیٹ شکیل احمد سید، ایڈوکیٹ ایم آر شمشاد، ایڈوکیٹ اعجاز مقبول، ایڈوکیٹ ارشاد احمد اور ایڈوکیٹ فضیل احمد ایوبی بھی موجود رہے ان کے علاوہ ان کے جونیئر وکلاء بھی موجود تھے۔

Post source : press note