September 30, 2020

پروانچل سے ہماچل تک (سفر نامہ شملہ)

پروانچل سے ہماچل تک (سفر نامہ شملہ)

 

عاصم طاہر اعظمی 

7860601011 

 

وادی ہماچل اپنے قدرتی حسن کی بدولت ملکہ حسن کہلانے والے ہندوستان کی خوبصورت ترین وادی ہے “شملہ” ہماچل پردیش کے ماتھے کا جھومر ہے، جہاں صرف اور صرف سکون ہے چنار کے گھنے درخت دونوں اطراف کے گھنے جنگلوں کو گھرے ہیں، پہاڑوں کے سائے، قدرتی چشموں اور جگہ جگہ رواں صاف و شفاف پانی کے باعث اس علاقے کو ہندوستان کے خوبصورت ترین علاقوں میں شامل کیا جاتا ہے، ہماچل پردیش کے دامن میں واقع ملکہ حسن وادی شملہ کا شمار ہندوستان کی خوبصورت ترین وادیوں میں ہوتا ہے جہاں سال بھر موسم ٹھنڈا اور سرد رہتا ہے اگر ایک طرف ہندوستان کے دوسرے علاقے میں موسمِ گرما اپنا اثر بکھیر رہا ہوتا ہے تو وہیں اس علاقے میں گرمی نام کی کوئی چیز نہیں رہتی ہے ٹھنڈے اور سرسبز پہاڑ، گھنے جنگلات، جنگلی گلابوں اور سرسبز مخملی گھاس کے وسیع و عریض میدان ہیں۔ جہاں تک نظر جاتی ہے سبزہ ہی سبزہ ہے جیسے سبز رنگ ان پہاڑوں پہ انڈیل دیا گیا ہو یا انہوں نے خود ہی سبزے کی چادر اوڑھ لی ہو۔ قدرت کے اس حسین شاہکار کو دیکھ کر ایسا محسوس ہوتا ہے کہ جیسے آپ کسی جادوئی دنیا کی سیر کر رہے ہیں اور اس بات پر یقین کرنا مشکل ہوجاتا ہے کہ ہندوستان میں بھی کوئی ایسی خوبصورت اور حسین جگہ موجود ہوسکتی ہے لیکن حقیقت یہ ہے کہ ایسی بہت سی جگہیں ہمارے ملک میں موجود ہیں ،    

    ہماچل پردیش شمالی ہندوستان کی ایک ریاست جو 21,495 مربع میل (55,670 کلومیٹر2) کے رقبہ پر محیط ہے اس کی سرحدیں شمال میں جموں و کشمیر، مغرب اور جنوب مغرب میں پنجاب اور جنوب مشرق میں ہریانہ اور اتراکھنڈ اور مشرق میں تبت خودمختار علاقہ سے ملتی ہیں، ہما کے معنی سنسکرت میں برف کے ہوتے ہیں، چنانچہ ریاست کے نام کے معنی ہے “ہمالیہ کی آغوش میں”۔ “ہماچل پردیش اس کا یہ نام سنسکرت کے ایک عالم آچاریہ دیواکر دت شرما نے ایک ہندو دیوی شیاملہ دیوی کے نام پر رکھا تھا۔ شملہ ہماچل پردیش کی دارالسلطنت ہے یہ ایک خوبصورت پہاڑی علاقہ ہے جو کہ بھارت کے سیاحوں میں بہت مقبول ہے 2011 میں اس شہر کی آبادی 171,817 تھی۔اٹھارویں صدی میں یہاں شہر نہیں ہوتا تھا بلکہ یہ علاقہ جنگلات پر محیط تھا۔ بعد میں جب انگریزوں نے یہاں کا قدرتی خطہ دیکھا تو انہوں یہاں شہری آبادی بڑھانے کی کوشش کی۔ شملہ سطح سمندر سے تقریباً 9000 فٹ اونچائی کے فاصلے پر واقع ہے۔ ہماچل پردیش میں صرف سوا دو فیصد مسلم آبادی ہے 

بشکریہ ویکیپیڈیا 

 

شہر کی پررونق زندگی میں بنیادی سہولتیں اور دیگر شعبوں میں جدت آنے کی وجہ سے انسان کےلیے بیش بہا آسانیاں ہیں۔ بہترین سڑکیں، صحت و تعلیم کی سہولیات اور روزی روٹی کے مناسب ذرائع بظاہر تو سکون کی علامات ہیں لیکن ان کے حصول نے انسان کو بے چینی اور مایوسی جیسی بیشتر ذہنی پریشانیوں میں مبتلا کردیا ہے۔

ایسا نہیں کہ انسان ان چیزوں سے انجان ہے وہ جانتا ہے… بس اپنے رہن سہن کی وجہ سے مجبور ہے اور یہی وجہ ہے کہ سال میں کم از کم ایک مرتبہ پُرسکون مقامات کی سیر کا پلان بناتا ہے تاکہ طبیعت ہشاش بشاش ہوجائے۔

میں اکثر اوقات محسوس کرتا ہوں کہ دیہی و شہری علاقوں کی یہ ترقی ہمیں اخلاقی طور پر تنزلی کی طرف لیے جارہی ہے۔ انسان دنیا میں پُرآسائش اور پرسکون زندگی جینے کےلیے نہیں بھیجا گیا بلکہ مشکلات اور مصیبتوں کو جھیل کر ایک کامیاب زندگی جینے کےلیے بھیجا گیا ہے؛ اور کامیابی قطعی طور پر پیسے کی نہیں بلکہ آخرت میں سرخرو ہونے کی ہے جس کا حصول پہلے ہی نہایت دشوار ہے اور اب ان آسائشوں کی خواہشات کی وجہ سے انسان نے اس کا حصول اپنے لیے مزید مشکل بنالیا ہے۔

پہاڑی مقامات کی سیر درحقیت روز مرہ کی مصروف زندگی سے قطع تعلقی اور قدرت کے نظاروں سے اپنی آنکھیں، دماغ، دل یہاں تک کہ روح کو تروتازہ کرنے کی کوشش ہوتی ہے، 

چنانچہ چند دنوں پہلے ہندوستان کے ایک خوبصورت خطے ہماچل پردیش کی راجدھانی شملہ کی سیر کی توفیق ملی۔ سہارنپور، ہریانہ ،چنڈی گڑھ کے خوبصورت اور دل موہ لینے والے مقامات سے گزرتے ہوئے احساس ہوا کہ جو جسمانی اور ذہنی سکون قدرتی مناظر کو دیکھ کر ملتا ہے، شہر کی چمچماتی رنگین زندگی سے نہیں مل سکتا۔ اولا ہمارا یہ سفر پروانچل کے مشہور و معروف ضلع اعظم گڑھ سے بذریعہ گنگا ستلج ایکسپریس سے شروع ہوکر مرکز علم و ادب سر زمین دیوبند پہنچ کر کچھ ضروری کاموں سے فراغت کے بعد پھر ہماچل کی طرف رخ کرتا ہے ہمارا یہ سفر کل سات افراد پر مشتمل تھا (1)مولانا سلیم قاسمی (2)مفتی شجاع الرحمٰن قاسمی (3)ابو حمزہ قاسمی (4)مفتی محمد حامد قاسمی (5)مولوی مدثر قاسمی (6)حافظ محمد عادل (7)ناکارہ عاصم طاہر اعظمی، ہمارا یہ قافلہ دیوبند سے بذریعہ انووا innova سے رات تقريباً دو بجے رخت سفر باندھا سہارنپور ریلوے اسٹیشن پر پہلے سے انتظار کر رہے مفتی شجاع الرحمٰن صاحب کو لے کر ہمارا قافلہ منزل کی طرف رواں دواں ہوگیا، کچھ دور چلنے کے بعد احباب کی خواہش پر ہریانہ ہائی وے کے ایک ڈھابے پر رک کر ضرورت بشریہ سے فارغ ہوکر چائے ناشتے کا دور چلا بعد ازاں نئی انرجی کے ساتھ سفر شروع کیے، جوں ہی سورج نے اپنی روشنی بکھیرنا شروع کیا ہمارا قافلہ بھی ہماچل کی وادیوں میں داخل ہونا شروع ہوگیا، تقریباً چار سے پانچ گھنٹے مسلسل پہاڑوں پر چلنے کے بعد ہمارا یہ قافلہ اپنی سیاحتی منزل پر تقریباً 11 بجے جاپہنچتا ہے 

اس سفر میں جہاں خوبصورت مناظر سے بے پناہ لطف اندوز ہونے کا موقع ملا، وہیں چند سبق آموز باتیں بھی میرے مشاہدے میں آئیں جو قارئین کےلیے پیشِ خدمت ہیں:

منفی اور مثبت خیالات انسان کے اختیار میں ہیں

یہ بات کہ منفی اور مثبت خیالات انسان کے اختیار میں ہیں، کہنے کو بہت آسان ہے مگر کرنے میں بہت مشکل ہے!

خطرناک راستے پر ایک طرف بلند و بالا پتھریلے پہاڑ اور دوسری طرف گہری کھائی اور گول چکر سڑک کو دیکھتا تو دل خوف کے مارے تیز تیز دھڑکنے لگ جاتا اور پہاڑوں پر موجود ہریالی کو دیکھتا تو سارا خوف سکون میں بدل جاتا۔

قارئین کرام، درحقیقت یہی فرق ہے مثبت اور منفی سوچ میں!

اختیار انسان کے بس میں ہے۔ یا تو وہ خدا کی نعمتوں سے لطف اندوز ہو یا پھر گہری کھائی اور بہتے پانی کی تیز موجوں کو دیکھ کر یہ سوچے کہ کہیں گاڑی کا ٹائر پھسل گیا تو کیا ہوگا؟ یا پھر اس بات سے خوفزدہ ہو کہ ان پتھریلے پہاڑوں سے کہیں لینڈ سلائیڈنگ نہ شروع ہوجائے۔

اس میں کوئی دو رائے نہیں کہ ایسے راستوں سے گزرنا واقعی دشوار ہے؛ اور کسی بھی قسم کے حادثے کی توقع کی جاسکتی ہے۔

دیکھا جائے یہی تو زندگی ہے کہ ایک طرف مفلسی کا ڈر اور دوسری طرف خدا کی رحمت۔ چوائس انسان کے پاس ہے کہ وہ کسے چنتا ہے۔ خیر تھوڑی دیر ادھر ادھر دیکھنے کے بعد ہوٹل کی تلاش میں گاڑی کو آگے بڑھایا کچھ ہی دوری پر ایک بہترین جاذبِ نظر ہوٹل (ہوٹل کفری ہالی ڈے ان) پر نگاہ پڑی رک کر دیکھنے کے بعد سب کچھ مناسب لگا، ہوٹل والے پر ڈے 6000 ہزار روپئےکرایہ بتائے پھر ٪50 آف 3000 پر معاملہ طے پایا اور سبھی احباب نے ٹھہرنے نے کا فیصلہ لیا، ہوٹل تمام بنیادی سہولیات سے آراستہ تھا، سروس قابل اطمینان تھی، ہوٹل کی ایک کھڑکی سے بلند و بالا پہاڑ تو دوسری کھڑکی سے گہری کھائی کا منظر قابلِ دید تھا، دوپہر کے کھانے سے فراغت کے بعد تمام احباب نے اپنی تھکن کو دور کرنے کے لیے بیڈ کا سہارا لیا اور قیلولہ کے بجائے تمام احباب نے لیلولہ کیا، بیدار ہونے کے بعد شملہ کے مال روڈ جانے کا فیصلہ ہوا لیکن جب تک تیار ہوکر فارغ ہوئے تب تک بہت تاخیر ہوچکی تھی ڈرائیور نے گاڑی چلانے سے صاف انکار کردیا، موسم میں دھندلا پن کافی مقدار میں تھا ایسے میں گاڑی سے سفر کرنا خطروں سے خالی نہیں ہوتا ہے خیر پھر تھوڑا باہر ٹہل کر پھر کمرے کی طرف چل دیے ٹھنڈ کافی تھی ستمبر کے مہینے میں دسمبر معلوم ہو رہا تھا بات کرنے پر منھ سے بھانپ نکل رہی تھی ٹھنڈ کی وجہ سے چائے کا بول بالا تھا سونے میں لحاف اور کمبل کا استعمال ہورہا تھا پنکھا یا کولر نام کا دور دور تک کوئی وجود نہیں تھا، وہاں کے لوگوں میں اپنائیت تھی بات میں مٹھاس پن تھا لیکن وہیں کچھ لوگوں کے کالے کرتوت کی وجہ سارے لوگوں پر سوالیہ نشان کھڑا کر دیا، رات کا کافی حصہ گزر چکا تھا ہر کوئی اپنی اپنی جگہ پر پہنچ کر موبائل فون میں مشغول دکھنے لگا کچھ ہی دیر میں نیند نے اپنے آغوش میں لے لیا، صبح ہوتے ہی ہماری خوشی کا ٹھکانہ نہیں رہا آج وہاں گھومیں گے آج اس جگہ کو بھی دیکھیں گے جس کو اب سے پہلے صرف تصاویر یا ویڈیوز میں دیکھا کرتے تھے، ناشتے سے فراغت کے بعد ہمارا قافلہ کفری کی طرف چل دیا لیکن ہم لوگوں سے یہاں بھاری غلطی ہوئی میں اپنے تمام قارئین سے کہنا چاہوں گا کہ اگر آپ بھی شملہ گھومنے کا ارادہ رکھتے ہوں تو آپ بھی خود اس سے بچیں اور دوسروں کو بھی بچائیں، اکثر سیاحتی جگہوں پر وہاں کے مقامی لوگ لوٹنے کی چکر میں پڑے رہتے ہیں اور سوچتے ہیں کہ جیسے ہوسکے بیوقوف بنا دیں جب آپ شملہ سے آگے کفری جاتے ہیں اور ہر شملہ گھومنے والا کفری ضرور جاتا ہے وہاں گھوڑے کی سواری کافی شہرت رکھتی ہے وہاں کے لوگ ہرطرح سے بیوقوف بنانے پر تلے رہتے ہیں سیدھے اور صاف لہجے میں کہتے ہیں کہ اوپر جانے کے لیے اس کے علاوہ کوئی اور راستہ نہیں ہے سارے ایڈوینچر اوپر ہی ہیں مجبوراً اس گھوڑے سے کیچڑ کے راستے سے ہوکر جانا پڑتا ہے اس سے جانے میں بدبو کے ساتھ ساتھ پورا کپڑا بھی خراب ہوجاتا ہے اور ہاں فی کس 500 دینا بھی ہوتا ہے وہ بھی صرف 10 منٹ کے لیے، سب سے بہتر اور آسان راستہ وہی ہائی وے پکڑ کر سیدھے آپ نیو کفری ریثورٹ چلے جائیں وہاں ہر طرح کے ایڈوینچر ہیں وہاں کے نظارے جاذب نظر ہوتے ہیں گھوڑے کی سواری کے بعد ہم لوگ سیبوں کے باغوں میں ٹہلتے ہوئے کیبل وے پر مزہ لیتے ہوئے ایک پہاڑی سے دوسری پہاڑی پر پہنچ گئے اور دیکھتے ہیں کہ وہاں کی دنیا ہی الگ ہے یہاں وہ تمام چیزیں ہیں جو اب تک ہم لوگوں نے نہیں دیکھی ہے ہمارے ساتھی مفتی شجاع الرحمٰن اور مولوی ابو حمزہ یہ دونوں صاحبان ہم لوگوں سے کافی آگے نکل چکے تھے اور ایک مقامی سے معلوم کیا یہاں انسانی آبادی کیسے ممکن ہے گاڑی وغیرہ کہاں سے آتی ہیں تو انھوں نے تفصیل سے سب کچھ بتایا کہ آگے ہائی وے ہے سب کچھ آتا جاتا ہے بس آپ جیسوں کو یہ کھ کر بیوقوف بنا دیا جاتا ہے کہ اس کے علاوہ کوئی راستہ نہیں ہے خیر ہم لوگ بھی پیچھے پیچھے واٹس ایپ پر لوکیشن دیکھتے ہوئے وہاں پہنچے راستے میں ایک عورت نے تازہ ترین سیب کھلا کر موڈ فریش کردیا سیب کھاتے ہوئے یہ احساس ہورہا تھا کہ ہمارے یہاں ایسا سیب ملنا بہت مشکل ہی نہیں بلکہ ناممکن ہے ہم لوگ تو باسی سیب کھاتے ہیں، وہاں کے دلفریب مناظر کو دیکھنے اور فوٹو گرافی کے بعد وہیں پر اپنی گاڑی بلا کر شملہ کی طرف چل دیے تقریباً آدھے گھنٹے بعد شملہ پہنچ کر کھانے سے فارغ ہو کر مال روڈ، چرچ اور دیگر جگہوں کو دیکھ کر دلی سکون میسر ہوا مال روڈ پر پیدل چلنے میں ایسا لگ رہا تھا کہ ہم کسی باہر کنٹری میں گھوم رہے ہیں ہر شخص سیلفی لینے اور قدرتی مناظر کو دیکھنے میں مست تھا موسم بھی کچھ الگ ہی رنگت کا تھا وہاں جانے کے بعد بس دل ہی دل میں یہی سوچ رہا تھا کہ ایسے کاش یہیں ہمیشہ ہمیش رہوں اور ایسے مناظر سے اپنی آنکھوں کو روزآنہ ٹھنڈک پہنچاتا رہوں لیکن ہر سوچی ہوئی چیز کہاں پوری ہوتی ہے بالآخر موبائل بجا اور اٹھانے پر آواز آئی کہ بس کرو بہت گھوم لیے چلو وقت کافی ہوگیا ہے ہر طرف اندھیرا چھانے لگا ہے چلو اب چلتے ہیں خیر فوراً لوٹنے کی تیاری میں مصروف اور نیچے کی طرف بڑھنا شروع کردیا کچھ ہی دیر میں گاڑی پر سوار ہو کر رات کے حسین مناظر سے لطف اندوز ہوتے ہوئے ملکہ حسن کو الوداع کہتے ہوئے اپنی منزل کی طرف روانہ ہوگئے کچھ ہی دوری پر سیب کی منڈی دکھی کئی ساتھی اور خود میں نے بھی سیب کو خریدا اور اس کو نشانی کے طور پر گھر لایا کہ ہم بھی سیب کے باغوں میں گئے تھے، چلتے رہے چلتے رہے اور پھر ایک ڈھابے پر رک کر کھانا کھا کر پھر چلتے رہے بالآخر رات میں ٹھیک تین بجے اپنی منزل دیوبند پہنچ کر لمبی سانس لیے آرام کرنے کے بعد پھر اسی دن رات میں بذریعہ اپنے مسکن معہود کی طرف روانہ ہوئے دوسرے دن شام تک بعافیت اپنے دیار میں پہنچ گیا یہ اللہ رب العزت کا خاص انعام و اکرام تھا کہ اللہ نے ہمیں صحیح و سالم دوبارہ اپنے دیار میں واپس پہنچایا

 

Post source : Press release