October 23, 2019

زبان کی ترقی کے لیے حکومت کی سرپرستی ضروری معاصر ادبی دنیا پر پروفیسر محمد ظفر الدین کا شعبہ ٔ اسلامیات میں لکچر

حیدرآباد، 18 ستمبر (پریس نوٹ) ”ادب اُدھر ہی جاتا ہے جدھر زمانہ جاتا ہے اور ادیب ان موضوعات کا انتخاب کرتا ہے جو معاشرہ کی عکاسی کرتے ہیں۔“ ان خیالات کا اظہار پروفیسرمحمد ظفرالدین ، ڈائریکٹر ڈائریکٹوریٹ آف ٹرانسلیشن اینڈ پبلیکیشنز ، مانو نے شعبہ اسلامک اسٹڈیز کے اسلامی مطالعات فورم کے تحت منعقدہ خطاب میں کیا۔ لکچر کا موضوع ” اردو کی معاصر ادبی دنیا“ تھا۔ پروفیسر ظفر الدین نے اردو کے آغاز پر روشنی ڈالی اور بتایا کہ محمد تغلق نے جب دارالسلطنت کو دہلی سے دولت آباد منتقل کیا تو شمالی و جنوبی ہند کے لوگوں کے میل جول سے اردو زبان کا جنم ہوا۔ اسی لیے یہ لشکری زبان کہلائی۔

اردو ادب کی تاریخ اور فی زمانہ اردو ادب میں خدمات کا تفصیلی جائزہ پیش کرتے ہوئے مقررنے ترقی پسند تحریک اور اردو ادب کی موجودہ صورتحال پر گفتگو کی۔ تانیثیت اور فرقہ پرستی کو معاصر اردو کے سلگتے موضوعات میں شمار کیا۔ اور ترجمہ کی اہمیت کو اجاگر کرتے ہوئے کہاکہ: ”ادب کی ترقی تب ہی ممکن ہے جب ہم ترجمہ کو ساتھ لے کرچلیں“ اس ضمن میں مولاناآزاد نیشنل اردو یونیورسٹی کے ڈائریکٹوریٹ آف ٹرانسلیشن اینڈ پبلیکیشنز کے نو زائیدہ ڈائریکٹوریٹ کی کاوشوں کا بھی ذکر کیا۔

مختلف ریاستی وقومی اداروں کی اردو میں خدمات پر معلوماتی گفتگو کرتے ہوئے انھوں نے بتایا کہ قومی کونسل برائے فروغ اردو زبان ’انجمن ترقی اردو ہند‘ ساہتیہ اکیڈمی اور مختلف ریاستوں کے تحت قائم اردو اکیڈمیاں ایسے ادارے ہیں جو اردو زبان کے فروغ کے لیے کوشاں ہیں۔

اپنے خطاب میں انھوں نے مختلف قدیم و جدید اردو زبان میں شائع ہونے والے پرچوں اور اخبارات کا بھی تعارف پیش کیا، ساتھ ہی معاصر ادبی شخصیات کا تعارف کروایا جن میں شمیم حنفی، گوپی چندنارنگ ،شارب ردولوی، قمر رئیس، نسیم الدین فریس وغیرہ کے نام شامل ہیں۔

انھوں نے بتایا کہ اردو زبان وادب کی ترقی میں مختلف قومی یونیورسٹیز میں قائم اردو کے شعبہ جات کا بھی اہم کردار رہا ہے جن کی تعداد 100 کے قریب ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ”زبانیں حکومتوں کے ساتھ ترقی پاتی ہیں۔“ اس ضمن میں انھوں نے عثمانیہ یونیورسٹی کا تذکرہ کیا جو اردو میں جدید تعلیم کے فروغ کی کوشش کرنے والی پہلی یونیورسٹی ہے جسے نظام میر عثمان علی خان نے قائم کیا تھا۔

لکچر کے اختتام پر طلبہ و اساتذہ نے سوالات کیے جن کے تفصیلی و اطمینان بخش جواب مہمان مقرر نے دیے۔ آخر میں صدر شعبہ پروفیسر محمد فہیم اختر ندوی نے صدارتی کلمات پیش کرتے ہوئے انتہائی خوشی کا اظہار کیا اور کہا کہ: ”اردو یونیورسٹی کا حصہ ہوتے ہوئے اردو سے متعلق یہ معلومات ہمارا قیمتی سرمایہ ہے۔“

پروگرام کے آغاز میں جناب عاطف عمران ، استاد شعبہ اسلامک اسٹڈیز نے شعبہ کا تفصیلی تعارف پیش کیا۔

بعد ازاں ، مہمان مقرر پروفیسر محمد ظفر الدین کی ہمہ گیر شخصیت کا مختصر تعارف ڈاکٹر محمد عرفان احمد (اسسٹنٹ پروفیسر، شعبہ اسلامک اسٹڈیز، مانو) نے پیش کیا۔پروگرام کا آغاز رشید احمد عادل (ایم اے سال اول) کی تلاوت و ترجمہ سے ہوا۔ اس کے بعد شعبہ کی پی ایچ ڈی اسکالر نوید السحر نے اپنی آزاد نظم پیش کی۔ محترمہ ذیشان سارہ (اسسٹنٹ پروفیسر ، شعبہ اسلامک اسٹڈیز ، مانو )نے نظامت کے فرائض انجام دیے اور محمد عبدالرحیم(ایم اے سال اول )کے طالب علم کے اظہار تشکر سے پروگرام کا اختتام ہوا۔

Post source : Press release