October 23, 2019

جمعیۃ علماء ہند کے زیر اہتمام مولانا عبدالباری فرنگی محلیؒ اور مولانا احمد سعید دہلویؒ پر دوروزہ سیمینار اختتام پذیر

جمعیۃ علماء ہند کے زیر اہتمام مولانا عبدالباری فرنگی محلیؒ اور مولانا احمد سعید دہلویؒ پر دوروزہ سیمینار اختتام پذیر

 

نئ دہلی 22/ستمبر( پریس ریلیز) جمعیۃ علماء ہند کے زیر اہتمام مولانا محمد عبدالباری فرنگی محلی بانی ورکن جمعیۃ علماء ہند اور مولانا احمد سعید دہلویؒ سابق ناظم عمومی وبعدہ صدر جمعیۃعلماء ہند کی حیات و کارنامے پر جاری دوروزہ سیمینار میں مقالہ نگاروں نے دو نوں شخصیات کی شش جہات پہلوؤں پر روشنی ڈالی، چار نشستوں پر مشتمل یہ سیمینار آج دوپہر صدر جمعیۃ علماء ہند مولانا قاری سید محمد عثمان منصورپوری کی دعاء پر اختتام پذیر ہوا۔

 

سیمینار میں دارالعلوم دیوبند کے نائب مہتمم مولانا عبدالخالق سنبھلی، ندوۃ العلماء کے موقر استاذ مولانا عتیق احمد بستوی، جامعہ قاسمیہ شاہی مرادآباد کےاستاذمولانا مفتی محمد سلمان منصورپوری، مفتی شبیر احمد قاسمی، مظاہر علوم سہارن پور کے امین عام مولانا سید شاہد مظاہری اور یونیورسٹیوں کے پروفیسر حضرات بشمول پروفیسر ظہیر الحسن جعفری صدر شعبہ تاریخ دہلی یونیورسٹی، پروفیسر عبدالحق پروفیسر امیریٹس، دہلی یونیورسٹی، پروفیسر نعمان خاں صدر شعبہ عربی دہلی یونیورسٹی، پروفیسر اخترالواسع مولانا آزاد یونیورسٹی جودھپور، ڈاکٹر مشتاق احمد تجاروی جامعہ ملیہ اسلامیہ یونیورسٹی، مورخ فاروق ارگلی، معروف شاعرگلزار دہلوی سمیت سو مقالہ نگاروں نے ان دونوں بزرگوں کی تصنیف وتالیف، سیاست و خدمت اور تصوف، شاعری اور ادب پر تفصیل سے مذاکر ہ کرتے ہوئے کہا کہ بیسیویں صدی کے نصف اول میں جن لوگوں نے علم دین و دنیا میں یکسا ں طور پر قائدانہ کردار ادا کیا ہے، ان میں مولانا عبدالباری فرنگی محلیؒ اور مولانا احمد سعید دہلوی ؒ صف اول میں شامل ہیں۔کئی مقالہ نگاروں نے مولانا احمد سعید دہلویؒ کے ادبی پیرایہ بالخصوص ان کے ناول ”شوکت آراء بیگم“ اور ’ازبیلا‘کے مکالماتی پہلو پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ ان کی زبان کوثر و تسنیم میں ڈوبی ہو ئی آبشاری نشر پر مبنی تھی، وہ صاحب ذوق ادیب اور دہلی کی ٹکسالی زبان کے حامل تھے۔

مفتی محمد سلمان منصورپوری نے اپنے خطاب میں کہا کہ ان بزرگوں نے خون جگر سے جمعیۃ علماء کی آبیاری کی۔ جب انگریزوں کے خلاف بولنے کا تصور نہیں کیا جاتاتھا، ایسے دور میں جمعیۃ کا قیام عمل میں آیا۔ جمعیۃ علماء کے قائم کرنے والوں میں ایک نمایا ں نام مولانا عبدالباری فرنگی محلیؒ کا ہے۔ مولانا عبدالباریؒ قیام جمعیۃ کے وقت محض اکتالیس سال کے تھے، لیکن کم عمری کے باوجود آپ جمعیۃ کے تاسیسی اجلاس میں صدر منتخب ہوئے۔ان کی مقبولیت کا یہ عالم تھا کہ بقول مولانا عبدالماجد دریابادی ؒ کہ جس چارپائی پر ان کا جنازہ اٹھا یا گیا، لوگ بطور تبرک اس کے ٹکڑے ٹکڑے کرکے لے گئے۔

 

پروفیسر عبدالحق نے مولانا احمد سعید دہلوی ؒ کی ہمہ گیر شخصیت پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ جہاں وہ شاعری میں راسخ دہلوی سے اصلاح لیتے تھے، وہیں علم دین میں وہ مفتی اعظم مفتی محمد کفایت اللہ صاحب کے شاگرد تھے۔ انھوں نے جہاں قرآن کریم کی تفسیر لکھی، وہیں افسانہ بھی لکھا۔ میں نے مولانا مرحو م کی تفسیر ”کشف الرحمن کا مطالعہ کیا ہے، وہ اردو ادب کی تخلیقیت سے پر ہے۔

مشہور مورخ پروفیسر ظہیر الحسن جعفری نے جمعیۃ علماء ہند کی صدسالہ تاریخ پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ اپنے بزرگوں کے خیالات اورکارناموں کو جمع کرنا ایک قابل ستائش قدم ہے۔آج کے دور میں بنیادی دستاویز اور ماخذ کو جمع کرنے کی ضرورت ہے تاکہ ہماری نسل اپنے ماضی سے حوصلہ حاصل کرسکے۔ہم یہ کہتے ہیں کہ صرف اردو میں ہی تاریخ جمع نہ کریں بلکہ دوسری عالمی زبانوں میں اسے شائع کریں تا کہ وہ لوگوں کے لیے ریفرینس بن سکے۔

 پروفیسر اختر الواسع نے صدی تقریبات میں اپنے بزرگوں کو یاد کرنے کے لیے جمعےۃ علماء کی تحسین کی،پروفیسر نعمان نے دینی مدارس اور یونیورسٹی کے درمیان فاصلے کو پاٹنے پر زورد یا اور کہا کہ آج کے اجلاس میں جس طرح سبھی طبقوں کے دانشور جمع ہیں یہ بہت ہی اچھی علامت ہے۔ گلزار دہلوی نے اپنے ہم عصر مولانا احمد سعید دہلوی ؒ کی عظمت کو شاعری اور نثری پیرایے میں پیش کیا اور کہا کہ ان بزرگوں نے ہی میرا تخلص ’گلزار‘ رکھا ہے۔میں ان کی جوتیوں کے صدقے آج اردو کا خادم ہوں۔مفتی شبیر احمد قاسمی مرادآباد نے اپنے بیان میں اس با ت پر زور دیا کہ جمعیۃ علماء ہند کے ذکر کے ساتھ جامعہ قاسمیہ شاہی مرادآباداور مدرسہ امینیہ کا نام ضرور آنا چاہیے، ان دواداروں نے جمعیۃ علماء کی تحریکوں میں بڑا کردار ادا کیاہے۔ان کے علاوہ مولانا عطاء الرحمن قاسمی،مفتی محمد عفان منصورپوری ڈاکٹر مسعود حسن اعظمی، مفتی اختر امام عادل، مولانا ضیاء الحق خیر آبادی سمیت پچاس سے زائد مقالہ نگاروں نے بھی اپنے نگارشات پیش کیے، کچھ حضرات وقت کی تنگی کی وجہ مقالہ نہیں پیش کرسکے۔

 

اخیر میں صدر جمعیۃ علماء ہند مولانا قاری سید محمد عثمان منصورپوری نے اپنے خطاب میں جمعیۃ علماء ہند کی خصوصیات پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ ہم اپنے بزرگوں کی زندگی کامطالعہ کرکے موجودہ وقت میں درپیش مسائل کا حل نکال سکتے ہیں۔انھوں نے مقالہ نگاروں کا شکریہ ادار کرتے ہوئے کہا کہ آپ حضرات نے جمعیۃ علماء ہند پر ہی نہیں بلکہ پوری ملت پر احسان کیا ہے۔انھوں نے کہا کہ جمعیۃ علماء ہند سرگرم سیاست میں حصہ نہیں لیتی لیکن وہ خدمت پر مبنی سیاست کرتی ہے، سیاست کی کئی قسمیں ہیں، ان میں سیاست ملکیہ، سیاست مدنیہ اور سیاست دینیہ ہے، جیساکہ حضرت شاہ ولی اللہ صاحب نے روشنی ڈالی ہے۔ لہذا سیاست اپنی تمام قسموں کے ساتھ بری چیز نہیں ہے بلکہ بعض سیاست تو دین و ایمان اور انبیاء کی سیرت سے ثابت ہے۔

 

اسیٹج پر مولانا متین الحق اسامہ صدر جمعیۃ علماء اترپردیش، مولانا ساجد میاں،مولانا ندیم الواجدی، عدنان عبدالوالی فرنگی محلی، مولانا معزالدین احمد، مولانا عبدالحمید نعمانی، مولانا یحیی کریمی میوات، مولاناعبدالرشید قاسمی بلی ماران سمیت مولانا احمد سعید دہلوی مرحوم کے خاندان کے کئی افراد موجود تھے۔ دوسری نشست کی نظامت مولانا عمران للہ قاسمی کنوینر سیمینار مولانا عبدالباری فرنگی محلیؒ اور صبح کی دونوں نشستوں کی نظامت ڈاکٹر عبدالملک رسول پوری نے کی۔

 

Post source : Press release