June 04, 2020

پاپولر فرنٹ کی عوامی حقوق کانفرنس کا کامیاب انعقاد

فسطائیت کے خلاف متحدہ جدوجہد سے ہی نفرت اور خوف کے طوفان کا مقابلہ ممکن

نئی دہلی-30 ستمبر( پریس ریلیز)’’ہمارے دستوری حقوق اور ملک کی گنگا جمنی تہذیب کی حفاظت کے لئے فسطائیت کے خلاف متحدہ جدوجہد سے ہی ملک میں آئے نفرت اور خوف کے طوفان کا مقابلہ کیا جا سکتا ہے ۔ اگر ہم ماضی اور موجودہ دور سے کچھ سبق لینے کے لئے تیار ہیں ، تو ہماری یہ سوچ انتہائی احمقانہ ثابت ہوگی کہ فسطائی طاقتوں کو خوش کرکے انہیں رام کیا جا سکتا ہے ۔ دوسری جانب، فرقہ پرست فسطائیت کی مخالف طاقتوں کے ساتھ اتحاد قائم کرنا ہماری نسلوں کا سب سے دانشمندانہ مشن ہونا چاہئے، جسے تاریخ میں سنہرے الفاظ سے لکھا جائے گا ۔ ‘‘
ان روشن خیالات کا اظہار پاپولر فرنٹ آف انڈیا کے قومی سکریٹری انیس احمد نے پاپولر فرنٹ نارتھ زون کی جانب سے اتوار کے روز اندرا گاندھی اسٹیڈیم میں منعقدہ یک روزہ عوامی حقوق کانفرنس میں کلیدی خطاب پیش کرتے ہوئے کیا ۔
انیس احمد نے ۴۱۰۲ اور ۹۱۰۲ کے انتخابات کے بیچ پائے جانے والے فرق پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ بی جے پی نے ۴۱۰۲ کے انتخابات میں اقتدار کی کرسی تک پہنچنے کے لئے جھوٹے وعدوں کا سہارا لیا، لیکن ۹۱۰۲ میں اس نے براہ راست ہندوَوں کے اندر سیاسی منافرت کی بنیاد پر ووٹ لئے ۔ تین طلاق بل پر اظہار خیال کرتے ہوئے، انہوں نے کہا کہ حکومت کو خواتین کے تحفظ سے کوئی لینا دینا نہیں ہے ۔ اس کا ثبوت بی جے پی لیڈران کے خلاف عصمت دری کے حالیہ مقدمات ہیں ۔ قومی سکریٹری نے کہا کہ کالے قوانین کا مقصد پاپولر فرنٹ جیسی عوامی حقوق کے لئے آواز بلند کرنے والی تنظیموں کو دبانا اور خاموش کرنا ہے ۔
عوامی حقوق کانفرنس کے دوران محمد علی جناح نے ۹;241;نکاتی نئی دہلی کا اعلان پیش کیا ۔ کانفرنس میں حکومت سے ان تمام قوانین اور کاروائیوں کو واپس لینے کا پُرزور مطالبہ کیا گیا، جو عوام کے حقوق ان سے چھینتی ہیں اور اقلیتوں اور کمزور طبقات کو انصاف سے محروم کرتی ہیں ۔ ساتھ ہی سماج کے تمام طبقات کو یاد دلاتے ہوئے کہا گیا کہ بے خوف جینا اور باعزت جینا ان کا بنیادی حق ہے اور فرقہ پرست، فسطائی طاقتوں کو شکست دینے کے لئے متحد ہونا ان کی ذمہ داری ہے ۔
اعلان میں یہ کہا گیا کہ جموں و کشمیر سے دفعہ ۰۷۳ اور ۵۳ ;245;اے کو ہٹانے ، ریاست میں بڑی تعداد میں حفاظتی دستوں کی تیعناتی اور ایک خودمختار ریاست کو مرکز کی ماتحت ریاست میں تبدیل کرنے کے وزارت داخلہ کے بڑی جلدبازی میں لئے گئے فیصلے نے صوبے کو ایک کھلی جیل بنا کر رکھ دیا ہے ۔ وادی سے آنے والی رپورٹیں بتاتی ہیں کہ بچوں سمیت ہزاروں لوگوں کو جیلوں میں قید کر دیا گیا ہے اور حفاظتی دستے راتوں کو چھاپے ماری کرکے لوگوں کو اٹھاتے ہیں اور انہیں تشدد کا نشانہ بناتے ہیں ۔ وادی میں جاری تشدد کو سرکاری چھوٹ حاصل ہے، جس کی وجہ سے لوگوں کی زندگیاں تباہ ہو گئی ہیں ، لیکن سرکار کی وفادار ہندوستانی میڈیا یہ دکھانے کے لئے تیار نہیں ہے ۔
اعلان میں یہ بھی کہا گیا کہ بابری مسجد کو ۸۲۵۱ میں ایودھیہ میں مسلمانوں کے ذریعہ تعمیر کیا گیا تھا اورتب سے مسلمان وہاں مسلسل نماز ادا کرتے چلے آئے تھے، یہاں تک کہ ۹۴۹۱ میں مسجد کے اندر جبراً اور غیرقانونی طریقے سے مورتیاں رکھ دی گئیں ۔ سپریم کورٹ میں چل رہے ایودھیہ مقدمے میں مسجد کی زمین کے حق ملکیت کا فیصلہ ہونا ہے، جس مسجد کو ۲۹۹۱ میں ہندوتوا طاقتوں نے غیرقانونی طریقے سے منہدم کر دیا تھا ۔ لہٰذا انصاف یہی ہے کہ بابری مسجد کو دوبارہ اسی مقام پر تعمیر کیا جائے اور انہدام کے ذمہ دار مجرموں کو سزا دی جائے ۔ دوسرے کسی بھی حق ملکیت کے مقدمے کی طرح، اس مقدمے کا فیصلہ بھی ثبوتوں اور حقائق کی بنیاد پر ہونا چاہئے، نہ کہ کسی فریق کے عقیدے اور جذبات کی بنیاد پر ۔ ہمارا ماننا ہے کہ مذہب اسلام اور اس کے قانون کے مطابق، کسی بھی فرد یا جماعت کو یہ اختیار نہیں ہے کہ وہ مسجد کی زمین کسی کو دے، کیونکہ اس کا اصل مالک اللہ ہے ۔
اپنے افتتاحی کلمات میں پاپولر فرنٹ آف انڈیا کے چیئرمین ای ابوبکر نے کہا کہ موجودہ حکومت کی فسطائی پالیسیوں کی وجہ سے پورے ملک میں خوف کا ماحول پیدا ہو گیا ہے ۔ آج ہندوتوا طاقتوں نے ذات پرست ہندوَوں اور دلتوں کے درمیان اور ہندوَوں اور مسلمانوں کے درمیان نفرت پیدا کر دی ہے ۔ ابوبکر نے کہا کہ جب سے مودی حکومت اقتدار میں آئی ہے، ہم بڑے بڑے نعرے سن رہے ہیں ۔ ایک وقت میں ان کا نعرہ تھا ’’کانگریس مکت بھارت‘‘ جو آج ’’ایک ملک ایک پارٹی‘‘ بن گیا ہے ۔ آنے والے وقت میں یہ ’’ایک پارٹی، ایک شاہ‘‘ میں بدل جائے گا ۔
ساتھ ہی انہوں نے ’’ایک ملک، ایک زبان‘‘ اور ’’ایک ملک ، ایک قانون‘‘ جیسے نعروں کو بھی سخت تنقید کا نشانہ بنایا ۔ انہوں نے کہا کہ انہی نعروں کا نتیجہ ہم کشمیر میں دیکھ رہے ہیں ، جہاں سے دفعہ ۰۷۳ کو ہٹا دیاگیا ہے ۔
ابوبکر نے ہجومی تشدد، سیاسی تفریق، نفرت، این آر سی، کشمیر، بابری مسجد اور کالے قوانین وغیرہ جیسے ملک کے سلگتے مسائل اور پالیسیوں پر بات کی ۔ انہوں نے کہا کہ ملک کی معیشت مسلسل نیچے گرتی چلی جا رہی ہے، جبکہ حکومت ہر محاذ پر ناکام ثابت ہوئی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کو کچھ سمجھ نہیں آ رہا ہے کہ اس اقتصادی بحران سے کیسے نکلا جائے ۔ انہوں نے مزید کہا کہ ہ میں اس فسطائی حکومت کو لے کر زیادہ فکر کرنے کی ضرورت نہیں ہے، کیونکہ ہندوتوا اور نفرت کی سیاست کا خاتمہ شروع ہو چکا ہے ۔
کانفرنس کے دوران اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے دہلی کی فتح پوری مسجد کے شاہی امام ڈاکٹر مفتی مکرم احمد نے کہا کہ مسلمانوں کو خوفزدہ کرنے کی لگاتار کوشش کی جا رہی ہے، لیکن ایسا کرنے والوں کو ان کے مقصد میں کبھی کامیابی نہیں ملے گی ۔ انہوں نے ملک کی تعمیر و ترقی میں مسلمانوں کی قربانیوں اور حصہ داری پر بھی روشنی ڈالی ۔ ساتھ ہی انہوں نے کہا کہ اقلیتوں اور کمزور طبقات کو نظرانداز کرکے اتحاد اور فرقہ وارانہ ہم آہنگی کو کبھی حاصل نہیں کیا جا سکتا ۔
ایودھیا سے تشریف لائے مہنت یوگل کشور شرن شاستری نے کہا ’’قومی اتحاد اور سالمیت کو مسلمانوں اور پاکستان سے نہیں بلکہ ہندوتوا دہشت گردی سے خطرہ ہے ۔ ‘‘ ہجومی تشدد کی وارداتوں کی مذمت کرتے ہوئے، یوگل شاستری نے کہا کہ ہ میں ہجومی تشدد کو ہر حال میں روکنا چاہئے ۔ ساتھ ہی انہوں نے کشمیر پر حکومتی کاروائی کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ اس کاروائی نے کشمیر کے عوام کو اور دور کر دیا ہے ۔
سکھ برادری کی نمائندگی کرتے ہوئے پروفیسر بلجندر سنگھ (کھالسا کالج، امرتسر) نے کشمیر سے دفعہ ۰۷۳ اور ۵۳ ;245;اے کو ہٹانے پر حکومت کو تنقید کا نشانہ بنایا ۔ انہوں نے کہا کہ دفعہ ۰۷۳ جموں و کشمیر اور ہندوستان کے درمیان ایک پل کی طرح تھا لیکن موجودہ حکمرانوں نے حالات کو سمجھے بغیر اس کو ختم کر دیا ۔
پروگرام کا آغاز پاپولر فرنٹ کے قومی سکریٹری عبدالواحد سیٹھ کے ہاتھوں تنظیمی پرچم کی کشائی کے ساتھ ہوا اور اس کے بعد قومی ترانہ ’’سارے جہاں سے اچھا‘‘ سے پروگرام کی باقاعدہ شروعات کی گئی ۔
اس موقع پر کانفرنس کو خطاب کرنے والے دیگر مہمانان میں انیس انصاری، زونل سکریٹری (استقبالیہ کلمات)، اے ایس اسماعیل ، زونل صدر (صدارتی کلمات)، لبنیٰ منہاج سراج (نائب صدر، نیشنل ویمنس فرنٹ)، ایڈوکیٹ شرف الدین احمد (قومی سکریٹری، ایس ڈی پی آئی)، ایس ایم انور حسین (سابق صدر ، اے ایم یو طلبہ یونین)، ایم ایس ساجد (قومی صدر، کیمپس فرنٹ آف انڈیا)، اشوک بھارتی (پرنسپل ایڈوائزر، این اے سی ڈی اے او آر)، مہرالنساء خان (قومی صدر، ویمن انڈیا موومینٹ)، مفتی حنیف احرار قاسمی (قومی جنرل سکریٹری، آل انڈیا امامس کونسل)، محمد الیاس، پروگرام کنوینر (کلمات تشکر) شامل ہیں ۔ دریں اثناء مولانا سید خلیل الرحمن سجاد نعمانی (ترجمان، آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ) نے ویڈیو کانفرنسنگ کے ذریعہ بات کی ۔
ضمیمہ:
بے خوف جیو;234; باعزت جیو
عوامی حقوق کانفرنس
۹۲;241;ستمبر ۹۱۰۲
نئی دہلی کا اعلان
مختلف ریاستوں اور علاقوں سے یہاں جمع ہوئے ہم تمام لوگ، ملک بھر میں موجود مختلف طبقات کے لوگوں کے حقوق اور بھارت کے آئینی اقدار کی حفاظت کے لئے یہ اعلان کرتے ہیں کہ:
۱ ۔ ملک بھر میں مایوسی، لاچار ی اور خوف کا ماحول بڑھتا جا رہا ہے، اگر اسے فوری طور پر نہیں روکا گیا تو یہ اس ملک کی گنگا جمنی تہذیب کو نگل جائے گا ۔ سال ۴۱۰۲ میں ہندوتوا حکومت تشکیل پانے کے بعد سے گائے کے نام پر ہجومی تشدد کی وارداتوں کا سیلاب سا آگیا ہے اور درجنوں لوگوں کو دن کے اجالے میں بڑی بے رحمی سے قتل کر دیا گیا ہے ۔ اس پاگل پن کا ایک خاص طریقہ ہے، جسے اقتدار میں بیٹھے لوگوں کی پشت پناہی حاصل ہے جن کی طرف سے مجرمین کی حوصلہ افزائی کی جاتی ہے ۔ بی جے پی کی ماتحت ریاستوں کی پولیس بھی اس وقت تک مجرموں کے خلاف معاملہ درج نہیں کرتی، جب تک اس پر خوب دباءو نہیں بنایا جاتا ۔
۲ ۔ اس بے سمت حکومت نے اپنے عجیب و غریب اور مضحکہ خیز فیصلوں سے ملک کی معیشت کو تباہ کرکے رکھ دیا ہے ۔ بلیک منی واپس لانے اور دہشت گردی کی فنڈنگ پر لگام لگانے کے نام پر آدھی رات کو نوٹ بندی کر دی گئی ۔ اس فیصلے نے لاکھوں لوگوں کو غریبی اور ویرانی کی دلدل میں دھکیل دیا ۔ حکومت کے جلدبازی میں لئے گئے جی ایس ٹی کے فیصلے نے بھی ملک کی معیشت کو کافی نقصان پہنچایا ہے ۔ ملک میں بے روزگاری کی شرح نے اب تک کے تمام رکارڈ پیچھے چھوڑ دئے ہیں ، جبکہ جی ڈی پی بالکل نیچے چلی گئی ہے ۔
۳ ۔ جموں و کشمیر سے دفعہ ۰۷۳ اور ۵۳ ;245;اے کو ہٹانے ، ریاست میں بڑی تعداد میں حفاظتی دستوں کی تیعناتی اور ایک خودمختار ریاست کو مرکز کی ماتحت ریاست میں تبدیل کرنے کے وزارت داخلہ کے بڑی جلدبازی میں لئے گئے فیصلے نے صوبے کو ایک کھلی جیل بنا کر رکھ دیا ہے ۔ وادی سے آنے والی رپورٹیں بتاتی ہیں کہ بچوں سمیت ہزاروں لوگوں کو جیلوں میں قید کر دیا گیا ہے اور حفاظتی دستے راتوں کو چھاپے ماری کرکے لوگوں کو اٹھاتے ہیں اور انہیں تشدد کا نشانہ بناتے ہیں ۔ وادی میں جاری تشدد کو سرکاری چھوٹ حاصل ہے، جس نے بے شمار لوگوں کی زندگیاں تباہ کر دی ہیں ، لیکن سرکار کی وفادار ہندوستانی میڈیا یہ دکھانے کے لئے تیار نہیں ہے ۔
۴ ۔ آسام میں شہریوں کے قومی رجسٹر (این آر سی) نے لاکھوں لوگوں کو بے وطن بناکر رکھ دیا ہے ۔ ریاستی حکومت لسٹ سے باہر رہ گئے لوگوں کے لئے حراستی مراکز تعمیر کر رہی ہے ۔ جب این آرسی عمل کے پہلے مرحلے کا نتیجہ ان کی سوچ سے کچھ مختلف آیا، تو حکومت اب مذہب کی بنیاد پر شہریت دینے کا قانون لا رہی ہے، جو کہ ایک سیکولر جمہوری ملک میں امتیازو تفریق کی مثال پیش کرتا ہے ۔ آسام میں این آر سی نے جو افرا تفری مچائی ہے، اس کے بعد بھی وزارت داخلہ دوسری ریاستوں میں بھی اسے نافذ کرنے کی بات کر رہی ہے ۔ یہ سارے کام ملک میں آئے اقتصادی و سماجی بحران کو حل کر پانے میں حکومت کی ناکامی سے لوگوں کی توجہ ہٹانے کے لئے کئے جا رہے ہیں ۔ کچھ خفیہ طاقتیں لوگوں سے ان کی آزادی چھین کر پورے ملک کو صرف ایک پارٹی کے ہاتھ میں دے دینا چاہتی ہیں ، تاکہ وہ آر ایس ایس کے تفریقی اور یک رخی نظریے کے لئے آسانی سے کام کر سکے ۔
۵ ۔ دوسری مودی حکومت آنے کے بعد ، پارلیمنٹ کے پہلے سیشن میں پاس کردہ ترامیم نے عوام کو خوفزدہ کرنے کے لئے یواے پی اے جیسے کالے قانون کو مزید خطرناک بنانے کے ساتھ ساتھ متعصب تفتیشی ایجنسی این آئی اے کو پہلے سے بھی زیادہ اختیارات دے دئے ہیں ۔ اب حکومت ہر طرح سے لیس ہوکر نہ صرف کسی تنظیم بلکہ کسی ایک شخص کو بھی دہشت گرد قرار دینے کی پوری تیاری میں ہے ۔ ان ترامیم سے وفاقیت کی روح اور ریاستوں کے اختیارات کو بھی بڑا خطرہ ہے ۔ ساتھ ہی یہ قوانین ہندوستانی آئین میں لوگوں کو دئے گئے حقوق کے لئے بھی بہت بڑا خطرہ ہیں ۔
۶ ۔ بابری مسجد کو ۸۲۵۱ میں ایودھیہ میں مسلمانوں کے ذریعہ تعمیر کیا گیا تھا اور تب سے مسلمان وہاں مسلسل نماز ادا کرتے چلے آئے تھے، یہاں تک کہ ۹۴۹۱ میں مسجد کے اندر جبراً اور غیرقانونی طریقے سے مورتیاں رکھ دی گئیں ۔ سپریم کورٹ میں چل رہے ایودھیہ مقدمے میں مسجد کی زمین کے حق ملکیت کا فیصلہ ہونا ہے، جسے ۲۹۹۱ میں ہندوتوا طاقتوں نے غیرقانونی طریقے سے منہدم کر دیا تھا ۔ لہٰذا انصاف یہی ہے کہ بابری مسجد کو دوبارہ اسی مقام پر تعمیر کیا جائے اور انہدام کے ذمہ دار مجرموں کو سزا دی جائے ۔ دوسرے کسی بھی حق ملکیت کے مقدمے کی طرح، اس مقدمے کا فیصلہ بھی ثبوتوں اور حقائق کی بنیاد پر ہونا چاہئے، نہ کہ کسی فریق کے عقیدے اور جذبات کی بنیاد پر ۔ ہم یہ مانتے ہیں کہ مذہب اسلام اور اس کے قانون کے مطابق کسی بھی شخص یا جماعت کو یہ اختیار نہیں ہے کہ وہ مسجد کی زمین کسی اور کو دے، کیونکہ اس کا اصل مالک صرف اللہ ہے ۔
۷ ۔ لوگوں کو جن پارٹیوں سے آئینی حقوق کی حفاظت کی امید تھی، وہ تمام اپوزیشن جماعتیں آج ایسے بکھراوَ اور انتشار کا شکار ہیں ، جس کی مثال نہیں ملتی ۔ بدعنوانی اور اقربا پروری نے کئی اپوزیشن لیڈران کی زبانوں پرتالہ لگا دیا ہے، کیونکہ خود ان کے دامن پر کئی داغ ہیں ۔ پارلیمنٹ کے اندر یا تو وہ گھٹنے ٹیک کر عوام مخالف بلوں کے حق میں ووٹ دیتے ہیں یا پھر خاموش رہتے ہیں ۔
۸ ۔ وقت کی ضرورت ہے کہ فسطائیت اور بڑھتی تاناشاہی کے خطرے کے خلاف لڑائی لڑنے کے لئے ملک کے عوام متحد ہوں ۔ حکومت کی کاروائیوں سے ڈر کر خاموش بیٹھنے سے حالات اور زیادہ خراب ہو جائیں گے ۔ یہ خاموشی جمہوریت کے لئے اندرونی دشمن ثابت ہوگی ۔ ہندوستانی جمہوریت کو پھر سے مضبوط کرنے کے لئے ملک کے عوام کو مل کر قدم اٹھانا ہوگا ۔ مذہب کے نام پر سیاست کرنے والے اور اقتدار کے بھوکے فسطائی لوگوں کے ہاتھوں ، اس عظیم جمہوریت کو برباد ہونے نہیں دیا جا سکتا ۔
۹ ۔ یہ عوامی حقوق کانفرنس حکومت سے یہ پُرزور مطالبہ کرتی ہے کہ وہ ان تمام کاروائیوں اور فیصلوں کو واپس لے، جو عوام کے حقوق ان سے چھینتے ہیں ، ان کے بیچ تفریق و امتیاز برتتے ہیں اور اقلیتوں اور کمزور طبقات کو انصاف سے محروم کرتے ہیں ۔ یہ کانفرنس سماج کے تمام طبقات کو یاد دلاتی ہے کہ بے خوف جینا اور باعزت جینا ان کا بنیادی حق ہے اور فرقہ پرست، فسطائی اور تفریقی طاقتوں کو شکست دینے کے لئے متحد ہونا ان کی ذمہ داری ہے ۔

Post source : Press release