June 04, 2020

محرم کے موقع پر پھوٹ پڑنے والے فساد میں گرفتار ملزم کی ضمانت منظور، گلزار اعظمی

محرم کے موقع پر پھوٹ پڑنے والے فساد میں گرفتار ملزم کی ضمانت منظور، گلزار اعظمی

ممبئی3 / اکتوبر(پریس نوٹ)13/ اکتوبر 2016ء کو گنجان مسلم آبادی والے صنعتی شہر بھیونڈی میں محرم کے موقع پر نکلنے والے تعزیہ کے جلوس کے دوران پھوٹ پڑنے والے فرقہ وارانہ فسادات جس میں 8/ افراد شدید زخمی اور چند پولس اہلکاروں کو بھی پتھر اؤکی وجہ سے چوٹیں آئی تھیں کے معاملہ میں گرفتارمزید ایک مسلم نوجوان کو مشروط ضمانت پر رہا کیئے جانے کے تھانہ سیشن عدالت نے احکامات جاری کیئے۔یہ اطلاع آج یہاں ملزم کو قانونی امداد فراہم کرنے والی تنظیم جمعیۃ علماء مہاراشٹر (ارشد مدنی) قانونی امداد کمیٹی کے سربرہ گلزار اعظمی نے ممبئی میں اخبار نویسوں کو دی۔
گلزار اعظمی نے بتایا کہ ملزم صبرے عالم کو کو تھانے سیشن عدالت کے جج ایس پی گونڈلیکر نے تیس ہزار روپئے کے ذاتی مچلکہ پر مشروط ضمانت پر رہا کیئے جانے کے احکامات جاری کیئے۔
واضح رہے کہ اس سے قبل 12 مسلم نوجوانوں جس میں محمد توصیف خان، سلطان نسیم شاہا، سمیر مسلم انصاری،محمد جاوید شیخ، محمد جلیل علی حسن انصاری،محمد عالم شیخ،محمد علی منیر شیخ،شہباز اقبال انصاری،شبیر سلیم شاہا،نوشاد سلیم شاہا،محمد اکرم حبیب اللہ انصاری،کمال احمد نہال احمد انصاری، رفیق شیخ،محمد افروز حنیف صدیقی اور فیاض جعفر خان کو سیشن عدالت نے مشروط ضمانت پر رہا کیئے جانے کے احکامات جاری کیئے تھے۔
ملزم صبرے عالم کی ضمانت عرضدشت پر بحث کرتے ہوئے ایڈوکیٹ متین شیخ نے عدالت کو بتایا کہ ملزم کے خلا ف چارج شیٹ داخل کی جاچکی ہے اور دیگر ملزمین کو عدالت پہلے ہی ضمانت پر رہا کرچکی ہے لہذا عرض گذار کو بھی یکسانیت کی بنیاد پر ضمانت پر رہا کیا جانا چاہئے۔
حالانکہ سرکاری وکیل نے ملزم کے ضمانت پر رہا کیئے جانے کی سخت لفظوں میں مخالفت اور کہا کہ ملزم نے پولس مشنری پر حملہ کیا اور حکومت کی املاک کو نقصان پہنچایا تھا نیز اس کی ضمانت پر رہائی سے نسق امن میں خلل پڑ سکتا ہے لہذا ا س کی ضمانت نا منظور کی جانی چاہئے۔
دفاعی وکیل کے دلائل سے اتفاق کرتے ہوئے تھانہ سیشن عدالت نے ملزم کوتیس ہزار روپیہ کے ذاتی مچلکہ پر رہا کیئے جانے کے احکامات جاری کیئے اور ملزم پرسرکاری گواہوں سے رابطہ نا کرنے اور ان کے خلاف موجود ثبوت وشواہدسے چھیڑ چھاڑ ناکرنے کی ہدایت دی۔
گلزار اعظمی نے بتایا کہ ابتک جمعیۃ علماء کی کوششوں سے 17/ ملزمین کو ضمانت پر رہا کرایا جاچکا ہے جس میں وکلاء متین شیخ،انصار تنبولی، ارشد شیخ، رازق شیخ اور عادل شیخ کی کوششیں شامل ہیں۔
واضح رہے کہ13/ اکتوبر 2016ء کو محرم کے موقع پر بھیونڈی شہر سے تعزیہ کا جلوس نکالا گیا تھا جسے شہر میں گھمایا جارہا تھا اس دوران ہنومان مندر کے پاس چند شرپسندوں نے جلوس میں رخنہ اندازی کی کوشش کی اور شرکاء جلوس پر پتھراؤ کیا جس کے بعد دونوں فرقوں کی جانب سے ایک دوسرے پر پتھراؤ کیا گیا اس دوران پولس بھی پتھراؤ کی زد میں آگئی اور اس کی گاڑیوں کو شدید نقصان پہنچا تھا۔
حادثہ کی اطلاع ملنے کے بعد شاستری نگر پولس نے ۹۱/ مسلم نوجوانوں کے خلاف تعزیرات ہند کی دفعات307, 395, 436, 353, 332, 336, 338, 427, 143, 147, 148, 149، 34اور پبلک پراپرٹی ڈیمجیس ایکٹ کی دفعہ 3 اور 4نیز بامبے پولس کی دفعہ 37(1) 135 کے تحت مقدمہ قائم کیا اور ان تمام ملزمین کے خلاف فرد جرم بھی عدالت میں داخل کی تھی۔

Post source : pressnote