October 23, 2019

نم آنکھوں کے ساتھ حافظ محمد سمیر سپرد خاک، جنازے میں ہزاروں لوگوں نے کی شرکت

نم آنکھوں کے ساتھ حافظ محمد سمیر سپرد خاک، جنازے میں ہزاروں لوگوں نے کی شرکت
حافظ محمد سمیر بن جناب مطیع الدین منجیرپٹی کل گاؤں کی کنور ندی میں نہاتے وقت ڈوب گئے تھے کل ہی سے گاؤں کے کافی لوگوں کے ساتھ ساتھ غوطہ خوروں نے اپنے جان انتھک کوشش کی رات میں کھٹہنہ پل پر بھی کافی لوگوں پہرہ دیا اور لائٹ کے ذریعے تلاش کرتے رہے لیکن سعی لا حاصل،آج پھر صبح ہی سے گاؤں کے لوگوں کے ساتھ غوطہ خوروں نے تلاش جاری رکھے بالآخر تقریباً سوا بارہ بجے  مکمل 26 گھنٹے گزر جانے کے بعد یہ خبر ملی کہ نعش مل گئی ہے، ابو حمزہ قاسمی کی رپورٹ کے مطابق ٹھیک دو گھنٹے بعد جنازہ کی نماز ادا کی گئی، جنازہ کی نماز مفتی محمد شاکر قاسمی استاذ مدرسہ اسلامیہ عربیہ بیت العلوم نے پڑھائی، زیادہ تعداد ہونے کی وجہ سے جگہ کم پڑ گئی گاؤں کے مکتب کے صحن کے علاوہ پرائمری اسکول اور روڈ پر بھی صف لگانی پڑی،
جنازے میں قرب و جوار کے گاؤں کے لوگوں کے علاوہ مدرستہ الإصلاح کے استاد اور طالب علم کثیر تعداد میں موجود تھے، مرحوم حافظ محمد سمیر مدرسۃ الإصلاح پر عربی سوم کے طالب علم تھے،حافظ سمیر کے کُل چار بھائی اور تین بہنیں تھیں، جن میں سے سب سے چھوٹے بھائی رمان کا گزشتہ سال پتنگ اڑاتے ہوئے گر کر چوٹ آنے کی وجہ سے کچھ دن بعد انتقال ہوگیا تھا باقی دو بھائی حافظ محمد سلمان اصلاحی اور حسان اور تین بہنیں موجود ہیں یقیناً یہ حادثہ جناب مطیع الدین صاحب کے لیے بڑا ہے ایک ہی سال میں دو لڑکے اللہ کو پیارے ہوگئے، انسان اللہ رب العزت کی تقدیر کے آگے بے بس ہے ایسے مواقع پر صبر کا دامن ہرگز نہیں چھوڑنا چاہیے ااس دکھ کی گھڑی میں ناکارہ آپ کے غم میں برابر کا شریک ہے،
حق تعالیٰ جل مجدہ حافظ محمد سمیر کو اعلیٰ علیین میں مقام کریم عطا فرمائے لواحقین کو صبر جمیل عطا فرمائے (خصوصاً حافظ محمد سلمان صاحب جو کہ اس وقت دبئی میں مقیم ہیں) آمین ثم آمیــــن

Post source : press note