February 20, 2020

مسلم تحفظات : سیاسی بااختیاری اور ملازمتیں

مسلم تحفظات : سیاسی بااختیاری اور ملازمتیں

تحریر : محمد علی شبیر سابق وزیر آندھراپردیش

 سماجی اور معاشی طور پر غریب مسلمانوں کو بی سی ای کے تحت جو فوائد دیئے جارہے ہیں وہ پسماندہ طبقات کے مماثل ہیں اس لئے پسماندہ طبقات کو بلدیات اور دیہی و شہری علاقوں کے دوسرے مجالس مقامی کے اداروں میں جو سیاسی تحفظات حاصل ہیں وہ بی سی ای زمرہ کے تحت مسلمانوں کو بھی حاصل ہیں۔ پہلی مرتبہ ان تحفظات پر اطلاق 2009 ء کے گریٹر حیدرآباد میونسپل کارپوریشن کے انتخابات میں عمل آوری کی گئی جس کے نتیجہ میں پسماندہ طبقات کے لئے محفوظ نشستوں سے دو مسلم امیدوار بھی منتخب ہوئے۔

یہ ایک عظیم شروعات تھی اور مسلم طبقہ کو سیاسی طور پر بااختیار بنانے کی سمت ایک پہلا قدم تھا۔ 2013ء میں منعقدہ گرام پنچایت انتخابات میں اس کا بڑا اثر دیکھا گیا اور نتائج انتہائی حوصلہ افزاء رہے۔ غیرمنقسم آندھراپردیش کی تاریخ میں پہلی مرتبہ مسلم سرپنچوں کی تعداد بی سی ای تحفظات کی وجہ سے 266ہوگئی جبکہ 89دوسرے مسلمان علاقہ تلنگانہ میں 8701گرام پنچایتوں سے منتخب ہوئے جبکہ آندھراپردیش (سیما۔ آندھرا) کی 12770گرام پنچایتوں سے 177مسلمان منتخب قرار دیئے گئے۔ بی سی ای تحفظات کی وجہ سے یہ مسلمانوں کو سیاسی طور پر بااختیار بنانے کی سمت ایک بڑا قدم رہا ہے۔

بلدی کارپوریشنوں‘ بلدیات‘زیڈ پی ٹی سیز اور ایم پی ٹی سیز کے آخری انتخابات کے دوران بھی تلنگانہ اور آندھراپردیش میں مختلف عہدوں پر بی سی ای تحفظات کی وجہ سے کئی مسلمان منتخب قرار دیئے گئے۔ بی سی ای تحفظات کی وجہ سے تاحال تین مسلمان میئر‘ 5صدورنشین بلدیہ‘18نائب صدورنشین‘ 37کارپوریٹرس‘ 327کونسلرس‘ 15زیڈ پی ٹی سیز‘ 236ایم پی ٹی سیز اور 266سرپنچس منتخب ہوئے۔

آخری انتخابات میں شیخ عبدالعزیز اور شیخ نورجہاں بالتریب نیلور اور ایلورو کے میئر منتخب قرار دیئے گئے۔ ان دونوں کا انتخاب پسماندہ طبقات کے لئے محفوظ نشستوں سے ہوا تھا۔ اسی طرح آندھراپردیش میں پسماندہ طبقات کو محفوظ نشستوں سے 5کے منجملہ 4مسلمان بلدیات کے لئے صدورنشین کی حیثیت سے منتخب قرار دیئے گئے۔ پسماندہ طبقات کے لئے محفوظ نشست سے تلنگانہ میں بھینسہ سے واحد مسلم خاتون محترمہ صبیحہ بیگم بحیثیت صدرنشین بلدیہ منتخب ہوئیں۔

 

تلنگانہ میں پسماندہ طبقات کو محفوظ نشستوں پر مقابلہ کرتے ہوئے 12مسلمانوں کے منجملہ 7مسلمان نائب صدرنشین اور آندھراپردیش میں 12نائب صدورنشین منتخب قرار دیئے گئے۔

تمام بلدی اداروں میں طبقات کی نمائندگی میں اضافہ میں مسلم تحفظات نے ایک بڑا رول اداکیا۔ مثال کے طور پر کریم نگر‘ راماگنڈم اور نظام آباد میں منعقدہ انتخابات میں 150نشستوں کے منجملہ 24مسلم امیدوار منتخب ہوئے۔ بی سی ای کے تحت 24کے منجملہ 13منتخب قرار دیئے گئے۔ 16فیصد مسلم آبادی کے برخلاف ان کارپوریشنوں میں مسلمانوں کی آبادی تحفظات کے بغیر صرف7.33فیصد تھی۔

اسی طرح تلنگانہ میں پسماندہ طبقات کے لئے محفوظ نشستوں سے 206کے منجملہ 114مسلم کونسلرس منتخب ہوئے۔ فی الوقت تلنگانہ کی بلدیات میں مسلمانوں کا فیصد 14.72ہے ورنہ یہ صرف6.58فیصد تک ہی رہتا۔

آندھراپردیش میں بھی مسلم تحفظات پر عمل آوری انتہائی حوصلہ افزا رہی۔ پسماندہ طبقات کے لئے محفوظ نشستوں سے 31کے منجملہ 22مسلم کارپوریٹرس منتخب ہوئے۔ اسی طرح پسماندہ طبقات کی محفوظ نشستوں سے 292کے منجملہ 213مسلم کونسلرس منتخب قرار دیئے گئے۔ زیڈ پی ٹی سیز اور ایم پی ٹی سیز انتخابات میں بھی ان تحفظات سے مسلمانوں کو فائدہ ہوا۔ فی الوقت آندھراپردیش میں مسلم تحفظات پرفراہمی کی وجہ سے زیڈ پی ٹی سیز اور ایم پی ٹی سیز میں بھی مسلمانوں کو فائدہ ہوا اور وہ ایسی نشستوں سے منتخب قرار دیئے گئے جو پسماندہ طبقات کے لئے مختص کی گئی تھیں۔

 

2016ء میں جی ایچ ایم سی کے منعقدہ انتخابات میں مسلم تحفظات کے واضح اثرات

جی ایچ ایم سی سیٹس جملہ مسلمان

جملہ 150 46

پسماندہ طبقات کی محفوظ نشستیں 50 29

 

2004ء میں اسوقت کی کانگریس حکومت کے فراہم کردہ 4فیصد مسلم تحفظات کی وجہ سے مسلمان ایسی نشستوں پر بھی مقابلہ کے اہل قرار دیئے گئے جو پسماندہ طبقات کے لئے محفوظ ہیں۔ بی سی ای تحفظات کے بغیر صرف 17مسلم کارپوریٹرس ہی ہوسکتے تھے لیکن الحمداللہ اب 46مسلم کارپوریٹرس ہیں۔ 11.33فیصد مسلم نمائندگی کے باوجود آج گریٹر حیدرآباد میونسپل کارپوریشن میں مسلم نمائندگی30.67فیصد ہوگئی ہے۔

تلنگانہ میں آخری مرتبہ سرپنچوں کے جو انتخابات منعقد ہوئے تھے ان میں 12017گرام پنچایتوں کے منجملہ 2225 گرام پنچایتوں کو پسماندہ طبقات کے لئے محفوظ قرار دیا گیا جن میں سے بی سی ای زمرہ کے تحت 67مسلمان‘ بی سی طبقات کے لئے محفوظ نشستوں سے منتخب ہوئے۔ 4880غیرمحفوظ نشستوں کے منجملہ 113مسلم سرپنچ بھی منتخب قرار دیئے گئے اس لئے آج تلنگانہ میں 180سرپنچس ہیں جن میں 67مسلم سرپنچس کانگریس پارٹی کی جانب سے 2004ء میں فراہم کردہ بی سی ای زمرہ کے تحفظات کی وجہ سے منتخب ہوئے ہیں۔

اسی طرح 539منڈلوں میں 5857ایم پی ٹی سیز کے منجملہ جملہ114مسلمان بی سی ای تحفظات کی وجہ سے منتخب قرار دیئے گئے ان میں ٹی آر ایس کے 59ایم پی ایم ٹی سیز‘ کانگریس کے 40‘ سی پی اور تلگودیشم سے ایک ایک اور 13آزاد ایم پی ٹی سیز شامل ہیں۔

538زیڈ پی ٹی سیز میں بھی صرف ایک مسلمان ضلع جوگولامبا گدوال کے عالم پور سے محترمہ شمشاد بیگم منتخب ہوئیں۔

 

ملازمتوں میں 4فیصد مسلم تحفظات کا اثر:

2004ء سے ملازمتوں میں تقررات کا ڈاٹا فوری طور پر دستیاب نہیں ہے لیکن ٹی ایس سدھیر کمیشن نے جو معلومات اکھٹا کی ہیں اس کے ذریعہ یہ بات واضح ہوجاتی ہے کہ تلنگانہ میں سماجی اور معاشی طور پر پسماندہ مسلمانوں کو 4فیصد تحفظات کی فراہمی کی وجہ سے کس حد تک بڑا فائدہ ہوا ہے۔

کمیشن نے 2008ء سرکاری محکموں‘ عوامی زیرانتظام اداروں کو مسلم ملازمین کی تفصیلات کا ڈاٹا روانہ کرنے کے لئے کہا تھا تاہم 131محکموں نے کمیشن کو ڈاٹا روانہ کیا۔ یہ 131محکمے‘ 23سکریٹریٹ محکموں کے زیرانتظام کام کرتے ہیں۔ 23سکریٹریٹ محکموں میں 479556مسلم ملازمین ہیں جو7.36فیصد ہوتے ہیں۔

اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ جملہ ملازمتوں میں 2011ء کی مردم شماری کے مطابق مسلم آبادی 12.68فیصد سے انتہائی کم ہے۔

ڈاٹا میں واضح کیا گیا کہ بہبود کے محکموں میں مسلم ملازمین کی تعداد صرف3.37فیصد ہے۔ جبکہ محکمہ تعلیم میں 6.06فیصد‘ محکمہ برقی میں 6.53فیصد اور محکمہ داخلہ میں صرف8.73فیصد ہی مسلم ملازمتین ہیں۔

حتی کہ 7.36فیصد بھی صرف 2004-05ء میں روبعمل لائے جانے والے 4فیصد تحفظات کی وجہ سے ممکن ہوپایا ہے۔ 2004ء سے بھی مسلمانوں کو بی سی ای زمرہ کے تحت تمام تقررات میں 4فیصد تحفظات فراہم کئے جارہے ہیں اور اس پر تلنگانہ اور آندھراپردیش دونوں ریاستوں میں بدستور عمل آوری ہورہی ہے۔

Post source : Press release