February 20, 2020

الائنس ا گینسٹ سی اے اے کی جانب سے حیدرآباد میں راونڈ ٹیبل کانفرنس

الائنس ا گینسٹ سی اے اے کی جانب سے حیدرآباد میں راونڈ ٹیبل کانفرنس

حیدرآباد -13 فروری ( اردو لیکس) الائنس ا گینسٹ سی اے اے،این آر سی اور این پی آر، حیدرآبادکے زیر اہتمام میڈیا پلس حیدرآباد میں دلت‘ بہوجن و دیگر مذہبی قائدین کی گول میز کانفرنس کا انعقاد عمل میں آیا۔ اس موقع پر طے کیا گیا کہ شہر اور اطراف کے علاقوں میں بستی‘ سبھا منعقد کر تے ہوئے درج فہرست ذاتوں‘ قبائلیوں سے تعلق رکھنے والے افرا د میں سی اے اے،این آر سی اور این پی آر سے متعلق شعور بیدار ی مہم چلائی جائیگی۔اس کے علاوہ اور جلد ہی بڑے پیمانے پردلت کنونشن منعقد کیا جائے گا۔اجلاس میں دلت‘ بہوجن طبقات کے علاوہ مسلم‘ سکھ‘ عیسائی فرقوں کے نمائندوں نے بھی شرکت کی۔ دلت قائدین نے مخاطب کر تے ہوئے کہا کہ مذکورہ قانون کے تحت نہ صرف مسلم طبقہ متاثر ہو گا بلکہ اس کے نفاذ سے دلت‘ آدی واسیوں و دیگر پچھڑے و غریب طبقات بھی شدید متاثر ہو ں گے۔ لہٰذا اس قانون سے متعلق مشترکہ فورم کے ذریعہ مہم چلانے کی ضرورت ہے۔ اس موقع پر شہر کی مختلف بستیوں‘ محلوں میں بستی یا محلہ سبھا منعقد کرنے کا بھی فیصلہ کیا گیا۔اس کے علاوہ کلچرل پروگرامس کے ذریعہ سلم بستیوں میں عوام کو اس قانون سے ہونے والے نقصان سے آگاہ کیا جائے گا۔ اس مہم میں طلباء اور خواتین کو بھی بڑی تعداد میں شامل ہونے کا ان قائدین نے مشورہ دیا۔ شرکاء نے اس بات کا بھی احساس ظاہر کیا کہ آر ایس ایس کی جانب سے ہمارے کارکنوں کو نشانہ بنایاجارہاہے۔ محترمہ سارا میھیوز کنوینرالائنس ا گینسٹ سی اے اے،این آر سی اور این پی آر، حیدرآبادنے کہا کہ پچھڑے و غریب طبقات کو اس قانون کے بارے میں آگاہ کرنے کی ضرورت ہے جو سب سے زیادہ اس قانون سے متاثر ہو ں گے۔سماجی جہد کار جسوین جئیرات نے کہا کہ یہ عوام کے حقوق سے متعلق مسئلہ ہے نہ کہ کسی ایک مخصوص طبقہ کا مسئلہ ہے لہٰذا دیگر تمام طبقات سے تعلق رکھنے والے لوگوں میں بھی شعور بیدارکرنے کی ضرورت ہے۔ اس موقع پر ریٹائرڈ آئی پی ایس،روحی داس‘ ڈاکٹر گلوری نندا اٹارنی لاء آف ہائی کورٹ‘ جی ونود کمار پرنسپل لا ء کالج‘ داس رام نائک‘ لکشمن‘ وی ایس آر شئیلم‘ سجیت‘ اسٹوڈنٹ لیڈر جئے بھیم‘ ایڈوکیٹ کملا کر‘ دلت بہوجن جے اے سی قائد رتن پرکاش کے علاوہ کوکنوینرس الائنس حیدرآباد سردار سریندر سنگھ‘ ڈاکٹر سید اسلام الدین مجاہد‘ انجینئر منیب احمد خان‘ ایم۔این۔بیگ زاہد‘ محمدعبدالجبار‘ پروفیسر عبدالمجید‘ ودیگر شریک تھے۔

Post source : Urduleaks