December 06, 2020

محکمہ اقلیتی بہبود سے متعلق تمام محکموں کو ایک ہی چھت تلے لانا میرے کیریر کا سب سے بڑا چیالنج تھا

محکمہ اقلیتی بہبود سے متعلق تمام محکموں کو ایک ہی چھت تلے لانا میرے کیریر کا سب سے بڑا چیالنج تھا

تحریر : محمد علی شبیر سابق وزیر آندھراپردیش 

 ملک کے مختلف حصوں بالخصوص اترپردیش میں  مخالف شہریت ترمیمی قانون احتجاج کئے جارہے تھے جس کے دوران چند تشدد کے واقعات بھی دیکھنے میں آئے جہاں چند شرپسندوں نے ملازمین پولیس پر سنگباری بھی کی۔ حالانکہ یہ قانون انتہائی قابل مذمت ہے  اور ہمیں ان واقعات کو صرف ایک تشدد کی حرکت کے طور پر نہیں بلکہ برہمی کے اظہار کے طور پر بھی دیکھنا ہوگا۔
سنگباری کرنے والے مقامی نوجوان ہوسکتے ہیں جو عدم تحفظ کا شکار ہیں۔ اس قانون کی وجہ سے ملک کے مختلف علاقوں میں شدت کے ساتھ احتجاج کیا جارہا ہے اور حکومت کو عوام کی برہمی اور مخالفت محسوس کرنی چاہئے۔
1989ء میں حلقہ  کاماریڈی سے میں صرف32سال کی عمر میں بحیثیت رکن آندھراپردیش اسمبلی منتخب ہوا تھا۔ ڈاکٹر ایم چناریڈی نے جب انہیں اپنی کابینہ میں شامل کیا اس وقت ہر کوئی حیرت زدہ رہ گیا تھا۔ میں اس وقت نوجوان وزیر تھا  اور مجھے  5قلمدان تفویض کئے گئے تھے۔   پہلے مجھے وقف بورڈ اور اردو اکیڈیمی کا قلمدان حوالے کیا گیا۔ چند دن میں ہی اس وقت کے چیف منسٹر نے مجھے مزید چار قلمدان شوگر‘ فشریز‘ کھادی اینڈ ولیج انڈسٹریز اور اسمال اسکیل انڈسٹریز حوالے کئے۔
1990ء کے اوائل میں بی جے پی لیڈر ایل کے اڈوانی کی رتھ یاترا کی وجہ سے ملک بھر میں فرقہ وارانہ تشدد پھوٹ پڑا تھا۔ حیدرآباد بھی فرقہ وارانہ فسادات کے لئے بدنام تھا اور اسے ”کرفیو سٹی“ کی حیثیت سے عرفیت دی گئی تھی۔ مسلم طبقہ کے ایک وزیر کی حیثیت سے حیدرآباد کے وقار کے تحفظ اور ترقیاتی اقدامات میں مسلم نوجوانوں کی شمولیت ان کی ذمہ داری تھی۔ ابتداء میں میں نے اقلیتی طبقات سے تعلق رکھنے والے طلبہ کے مسائل‘ وقف جائیدادوں کے تحفظ اور اقلیتوں کو درپیش دوسرے مسائل کی یکسوئی پر توجہ دینی شروع کردی۔ مسلم طبقہ کو تحفظات فراہم کرنے کے لئے بھی میں نے اقدامات کا آغاز کردیا۔
ملک میں پہلی مرتبہ 1993-94ء کے بجٹ میں اقلیتوں کی بہبود کے لئے علحدہ بجٹ پیش کیا گیا۔ یہ انقلابی قدم تھا اور پہلی مرتبہ مسلمانوں کو محسوس ہوا کہ حکومت ان کی ترقی کے لئے تعلق خاطر رکھتی ہے۔ دوسری بڑی چیز اقلیتی بہبود کے لئے علحدہ محکمہ کی تشکیل تھی۔
جب مجھے 1989ء میں وقف بورڈ اور اردو اکیڈیمی کے قلمدان حوالے کئے گئے‘ اس وقت مجھے ایک دھکا لگا جب مجھ سے کہا گیا کہ کوئی محکمہ مجھے راست رپورٹ نہیں کرتا۔ اقلیتوں کی بہبود کے لئے کام کرنے والے مختلف ادارے دوسرے طاقتور اداروں سے وابستہ تھے۔ اس کے علاوہ اقلیتوں کی بہبود کے لئے مناسب اقدامات پر بھی کوئی توجہ نہیں کی جاتی تھی۔ ان حالات میں کابینہ کا حصہ رہنا بے معنی ہوگیا تھا۔
اردو اکیڈیمی‘ محکمہ تعلیم سے منسلک تھی جبکہ ریاستی وقف بورڈ‘ محکمہ مال (ہندو اوقاف) سے وابستہ تھا۔ اسی طرح مائناریٹیز فینانس کارپوریشن بھی محکمہ انڈسٹریز کے تحت کام کرتا تھا اور اقلیتی کمیشن کو محکمہ نظم و نسق عامہ کے تحت رکھا گیا تھا۔ مکہ مسجد اور شاہی مسجد بھی 1993ء تک محکمہ ہندو اوقاف کے تحت تھی۔ اس وقت میں بہت زیادہ مایوس ہوا کرتا تھا جب اقلیتوں کی بہبود سے متعلق اجلاسوں میں کوئی پرنسپال سکریٹری یا سینئر عہدیدار شریک ہونے میں دلچسپی نہیں رکھتے تھے۔ سینئر عہدیدار‘ اقلیتی بہبود سے متعلق اجلاسوں میں شرکت سے گریز کرتے ہوئے جائزہ اجلاسوں میں جونیر عہدیداروں کو روانہ کیا کرتے تھے۔
محکمہ اقلیتی بہبود سے متعلق تمام محکموں کو ایک ہی چھت تلے لانے کے لئے چیف منسٹر کو راضی کرنا میرے کیریر میں ایک بڑا چیالنج تھاتاکہ ان محکموں کو محکمہ  اقلیتی بہبود کی تشکیل کے ذریعہ ایک ہی جگہ لایا جاسکے۔ ہمارے بیوروکریسی کے سٹ اپ میں موجودہ محکمہ میں کوئی نئی جائیداد کی تشکیل ایک مشکل مرحلہ تصور کیا جاتا ہے۔ اس لئے پرنسپال سکریٹری کی قیادت میں ایک مکمل نئے محکمہ‘ نئی جائیدادوں کی  تشکیل وغیرہ کا مرحلہ مشکل بلکہ ناممکن  ثابت ہورہا تھالیکن میں نے اسے ممکن کردکھایا۔ متواتر نمائندگیوں کے بعد چیف منسٹرس آفس میں اس وقت کے چیف سکریٹری جئے بھارت ریڈی اور دوسرے عہدیداروں نے اقدامات شروع کئے اور پھر محکمہ اقلیتی بہبود کی تشکیل حقیقت بن کر سامنے آگئی۔
چیف منسٹر نے مجھے اس مسئلہ کو چیف سکریٹری سے رجوع کرنے کی ہدایت کی اور دوسرے دن میں چیف سکریٹری کے آفس پہنچ گیا۔
ابتداء میں مجھے مشکلات پیش آئیں لیکن میرے پرسنل سکریٹری اختر حسین (جو سابق میں ایم ایم ہاشم کے ساتھ کام کرچکے تھے) اور دوسرے پرسنل سکریٹری ایم اے غفار (جو رکن لوک سبھا ایم باگاریڈی کے ساتھ کام کرچکے تھے) مجھ سے کہا کہ بحیثیت ایک کابینی وزیر میں چیف سکریٹری کے دفتر نہیں آسکتا اور وہ پروٹوکول کی خلاف ورزی ہے۔ میں کشمکش میں پڑگیا۔ میں نے ان سے کہا کہ محکمہ اقلیتی بہبود کی تشکیل میرے لئے پروٹوکول سے زیادہ اہم ہے۔
بعدازاں جئے بھارت ریڈی نے خود ایک حل دریافت کیا۔ انہوں نے ملاقات کے لئے صبح 9تا 10بجے دن کا وقت مقرر کیا۔ چونکہ ریاستی سکریٹریٹ کے سرکاری اوقات صبح 10بجے سے شروع ہوتے ہیں اس لئے ہم نے چیف سکریٹری کے چیمبر میں صبح9تا10بجے دن ملاقات کرتے ہوئے تجویز پر تبادلہ خیال کیا۔ جئے بھارت ریڈی قبل ازیں بحیثیت سکریٹری قومی اقلیتی کمیشن کام کرچکے ہیں اس لئے انہیں مسلمانوں کے مسائل کے تعلق سے وسیع تر معلومات حاصل تھے۔انہوں نے میری تجاویز قبول کرلیں  اور آخر کار ملک کے محکمہ اقلیتی بہبود کی تشکیل کو یقینی بنایا۔
حکومت آندھراپردیش کی جانب سے تشکیل شدہ محکمہ اقلیتی بہبود ایک منفرد کارنامہ تھا۔ ریاست کے اقلیتوں کو ایک وزارت‘ ایک محکمہ‘عہدیدار اور سب سے زیادہ ان کی ترقی کے لئے علحدہ بجٹ حاصل ہوا۔
ملک بھر میں نئے محکمہ کی تشکیل پر غیرمعمولی ردعمل حاصل ہوا اور اس وقت کے چیف منسٹر اترپردیش ملائم سنگھ یادو نے جب حیدرآباد کا دورہ کیا اس وقت انہوں نے مجھ سے خصوصی طور پر محکمہ اقلیتی بہبود کے تعلق سے معلومات حاصل کیں اور اپنی ریاست کے متعلقہ عہدیداروں کو اس کی تقلید کی ہدایت کی۔ بعدازاں اترپردیش میں بھی اسی طرز کا محکمہ تشکیل دیا گیااور ملک کی دوسری ریاستوں میں بھی تقلید کی گئی۔
مرکز میں یونائیٹڈ پروگریسیو الائنس Iحکومت نے بھی اس ماڈل کواختیار کیا اور سابق چیف منسٹرمہاراشٹرا عبدالرحمن انتولے 2006 ء میں پہلے مرکزی وزیر اقلیتی بہبود بنائے گئے۔
ہم نے ملازمتوں اور تعلیم میں بھی مسلمانوں کو تحفظات فراہم کرنے کے اقدامات شروع کئے لیکن ان پر فوری عمل آوری نہیں ہوسکتی تھی لیکن بجٹ کی پیشکشی‘ محکمہ اقلیتی بہبود کی تشکیل اور دوسرے اقدامات کے ذریعہ تحفظات پر بھی عمل آوری کو یقینی بنایا گیا۔
مذہبی فسادات پر ورشنی۔ولکنسن ڈاٹا سیٹ کے اعداد و شمار کے مطابق آندھراپردیش میں 1989-93ء کے درمیان فرقہ وارانہ نوعیت کے 11فسادات ہوئے جن میں 165افراد ہلاک اور 61افراد زخمی ہوئے  اور پھر 1994-98ء کے دوران ان فسادات کی تعداد گھٹ کر صرف2ہوگئی جس میں 8اموات ہوئیں اور 133افراد زخمی ہوئے۔
اس لئے چند اقدامات سے فی الوقت نتائج حاصل نہیں ہوتے لیکن بعدازاں سنگین مسائل کی یکسوئی میں مدد مل جاتی ہے۔ اقتدار پر برسراقتدار جماعت کو عوامی توقعات کے مطابق کام کرنا ضروری ہوتا ہے  لیکن بی جے پی اور ٹی آرایس حکومتوں کا اگر ہم جائزہ لیتے ہیں تو محسوس ہوتا ہے کہ یہ حکومتیں بے سمت سیاست کررہی ہیں۔

Post source : Press release