February 26, 2020

دیو بند اور تحریک خلافت کے نام پر زہر افشانی ناقابل برداشت: محمد تقی حسین تقی

دیو بند اور تحریک خلافت کے نام پر زہر افشانی ناقابل برداشت: محمد تقی حسین تقی

محبوب نگر: سینئر صحافی و سماجی جہد کار محمد تقی حسین تقی نے مرکزی وزیر گری راج سنگھ کی جانب سے دیو بند کو دہشت گرد ی کی گنگوتری اور شہریت ترمیمی قانون کے خلاف جاری مہم کو تحریک خلافت کہے جانے پر سخت اعتراض جتاتے ہوئے کہا کہ شائد گری راج سنگھ یہ نہیں جانتے کہ ملک کی آزادی کیلئے علمائے دیو بند نے کس طرح اپنی جانی و مالی قربانیاں دیں اور علمائے دیو بند نے دیو بند میں ہمیشہ حب الوطنی کا درس دیا ہے نہ کہ ملک سے نفرت کا اور تحریک خلافت کی بات کرنے والے گری راج سنگھ کو یہ جان لینا چاہئے کہ اگر تحریک خلافت نہ چلی ہوتی تو یہ ملک بھی آزاد نہ ہوتا اور نہ ہی آج گری راج سنگھ وزیر ہوتے ۔ کیونکہ جس وقت تک مسلمانوں کی اکثریت نے عملی طور پر جدو جہد آزادی میں حصہ نہیں لیا جدو جہد آزادی ہند کی تحریک ایک ٹمٹماتے چراغ کی مانند تھی اور جب تحریک خلافت کا آغاز ہوا اور ہمارے اس وقت کے دور اندیش رہنماءمہاتما گاندھی جی نے اس تحریک کی تائید کی تو مسلمانوں نے جان و مال کی پرواہ کئے بغیر جد و جہد آزادی میں کود پڑے اور تب کہیں جاکر تحریک آزادی نے ایک مشعل کی شکل اختیار کرلیاور اس نے انگریزوں کے منصوبوں کو جلا کر خاکستر کردیا ۔ محمد تقی حسین تقی نے گری راج سنگھ کو مشورہ دیتے ہوئے کہا کہ کچھ بڑی بات بولنے سے پہلے وہ تاریخ کے اوراق کو الٹ کر دیکھ لیں تو انہیں احساس ہوگا کہ ملک کی آزادی ،تعمیر و توسیع میں مسلمانوں بالخصوص علمائے دیو بند، دیگر دینی درسگاہوں اور تحریک خلافت کا کتنا اہم رول ہے۔ محمد تقی حسین تقی نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ دلی کی عوام کی جانب سے بھارتیہ جنتا پارٹی کے قائدین کو ان کے نفر ت کے ایجنڈے کو مسترد کئے جانے کے باوجود بھی یہ لوگ اب بھی اسی نفرت کی راہ پر گامزن ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ ایک مرکزی وزیر جس نے دستور کی قسم کھائی ہے کم از کم اس کو چاہئے کہ وہم ملک کو باٹنے کی بات نہ کرے۔ گری راج کو یہ سمجھ لینا چاہئے کہ جھوٹی منطق کے زریعہ ملک کے ہندو اور مسلمانوں مین غلط فہمی پھیلانا اب نہ ممکن ہو گیا ہے کیونکہ شہریت ترمیمی قانونکے خلاف اس تھڑیک نے پھر ایک ملک کے ہندو ،مسلمان ، سکھ اور عیسائی کو متحد کردیا اور یہ اتحاد فرقہ پرستون کی تابوت میں آخری کیل ثابت ہوگا ۔