March 30, 2020

تلنگانہ اقلیتی اقامتی اسکول یاقوت پورہ کے جلسہ سے ڈاکٹر ناظم علی کا خطاب

تلنگانہ اقلیتی اقامتی اسکول یاقوت پورہ کے جلسہ سے ڈاکٹر ناظم علی کا خطاب

حیدرآباد19 فروری(راست)اقلیتوں بالخصوص مسلمانوں کے معاشی اور تعلیمی صورتحال کو بہتر بنانے اور انھیں عصر حاضر سے ہم آہنگ کرنے کے لیے تلنگانہ کے وزیر اعلی کے۔چندرشیکھر راو نے تلنگانہ اقلیتی اقامتی تعلیمی ادارہ جات سوسائٹی کاقیام عمل میں لایا جو ایک عظیم کارنامہ ہے ان خیالات کا اظہار ڈاکٹر ناظم علی سابقہ پرنسپل گورنمنٹ ڈگری کالج موڑتاڑ نے آج کے سی آر کی یوم پیدائش پر منعقد جلسہ وشجر کاری پروگرام منعقدہ تلنگانہ اقلیتی اقامتی اسکول اقوت پورہ بوائز 1سے کیا۔انہوں نے مزید کہا کہ ان اسکولوں کے ذریعے مستقبل میں اقلیتوں کی سماجی،معاشی،تعلیمی،اخلاقی،سیاسی و تہذیبی حالت بہتر ہوگی۔انہوں نے مزید کہا کہ تلنگانہ کی تحریک میں چندرا شیکھر راو نے خوب حصہ لیا اور تلنگانہ کے قیام کے لیے جدوجہد کی اور اس میں وہ کامیاب بھی رہے۔تلنگانہ میں اردو زبان کو ریاست کی دوسری سرکاری زبان کا موقف عطا کیا گیا۔ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم نے اپنے بچوں کو اعلی تعلیم کی طرف راغب کریں ان کی اخلاقی تربیت کریں تاکہ یہ بچے اچھے انداز میں تعلیم حاصل کرتے ہوئے اپنے مستقبل کو بہتر بناسکیں۔ صدارتی خطاب میں پرنسپل شکیل احمد نے کہا کہ آج وزیر اعلی کی یوم پیدائش پر تلنگانہ اقلیتی اقامتی اسکولوں میں شجر کاری کا پروگرام اور جلسہ کا انعقاد عمل میں لایا جارہا ہے تاکہ بچوں میں علم کی اہمیت کا جاگر کیا جائے۔طلبہ میں قائدانہ صلاحیتوں سے متعلق شعوار کو بیدار کیا جائے۔کس بھی مقصد کے حصول کے لیے تحریکات کے کردار کو اجاگر کیا جائے انہوں نے تلنگانہ اقلیتی اقامتی تعلیمی ادارہ جات کی کارکردگی کو پیش کیا۔اس جلسہ سے ڈاکٹر عزیز سہیل نے علم کی اہمیت اور اقلیتیں کے موضوع پر خطاب فرمایا اور کہا کہ سرسید احمد خاں نے مسلمانوں کی اچھی تعلیم و تربیت کے لیے ادارہ کا قیام عمل میں لایا تھا۔مولانا آزاد نے بھی مسلمانوں کی تعلیمی صورتحال کو بہتر بنانے کے اقدامات کئے تھے آج تلنگانہ میں ہمارے معزز وزیر اعلی نے ٹمریز کے قیام سے ایک تعلیمی انقلاب بپا کیا ہے۔ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم تعلیم کے ذریعے اپنے معاشی اور تعلیمی صورتحال کو بہتر بنانے پر توجہ مرکوز کریں اور علم کے حصول میں سنجیدگی کے ساتھ آگے بڑھیں۔قبلا ازیں دیگر اساتذہ نے بھی تقرریں کی،اس پروگرام کے آغاز میں محمد خالد نے تلاوت کی۔عمر عامرنے ٹمریز کا ترانہ پڑھا۔افتتاحی کلمات محترمہ اثنا شاہین نے ادا کئے اور جلسہ کی غرض و غایت کوبیان کیا۔سید ریحان اورحاجی نے جلسہ کی نظامت انجام دی۔بچوں نے ڈرامے اور ثقافتی پروگرام پیش کیے۔

Post source : pressnote