December 06, 2020

غیر ملکی تبلیغی جماعت کے کارکنوں کی گرفتاری سے عالمی سطح پر ہندوستان کی شبیہ کو نقصان پہنچے گا۔ سوشیل ڈیموکریٹک پارٹی آف انڈیا

غیر ملکی تبلیغی جماعت کے کارکنوں کی گرفتاری سے عالمی سطح پر ہندوستان کی شبیہ کو نقصان پہنچے گا۔ سوشیل ڈیموکریٹک پارٹی آف انڈیا

 

نئی دہلی۔(پریس ریلیز)۔ سوشیل ڈیموکریٹک پارٹی آف انڈیا کے قومی نائب صدر اڈوکیٹ شرف الدین احمد نے اپنے اخباری بیان میں اس خدشے کا اظہار کیا ہے کہ تبلیغی جماعت کے غیر ملکی کارکنوں کی گرفتاری سے بین الاقوامی سطح پر ہندوستان کی شبیہ کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔ واضح رہے کہ کورونا وائرس وبائی مرض کی وجہ سے لاک ڈاؤن کے اچانک اعلان کے بعد ملک کے مختلف مقامات پر ان غیر ملکی کارکنوں کو رکھا گیا تھا۔ ایسے میں مدھیہ پردیش ہائی کورٹ کے جسٹس سوریش شرما کی سربراہی میں ایک بنچ نے گزشتہ جمعہ کو تبلیغی جماعت کے 51ممبروں کو 14دن کی عدالتی تحویل میں رکھنے کا حکم دیا ہے۔ جبکہ ایک دن قبل 14ممبران کو 27مئی تک جیل بھیج دیا گیا تھا۔ عدالت نے ان کی ضمانت کی درخواستیں بھی کالعدم قراردے دی ہیں۔ عدالتی تحویل میں بھیجے جانے والے غیر ملکی تبلیغی کارکنان کا تعلق قزاکستان، ازبکستان، انڈونیشیا، میانمار، جنوبی افریقہ، کینیڈا، برطانیہ اور پنسلوانیا سے ہے۔ اس ضمن میں ایس ڈی پی آئی قومی نائب صدر اڈوکیٹ شرف الدین احمد نے مرکزی اور ریاستی حکومت سے اپیل کی ہے کہ وہ ان غیر ملکی تبلیغی کارکنوں کے خلاف عائد الزامات کو کالعدم قراردیں اور ملک کی شبیہ مزید خراب ہونے سے قبل انہیں اعزاز کے ساتھ اپنے آبائی ممالک واپس بھیج دیں۔ انہوں نے اس بات کی طرف خصوصی نشاندہی کرتے ہوئے کہا ہے کہ تمام ممالک کے اور تمام مذہب سے تعلق سے رکھنے والے غیر ملکی طویل عرصے سے سیاحتی ویزا پر ہندوستان آرہے ہیں اور مذہبی سرگرمیوں میں حصہ لے رہے ہیں۔ یہ کوئی راز نہیں ہے اور یہ کام مختلف سرکاری اداروں کی پوری جانکاری کے ساتھ کیا جارہا ہے۔ یہ کوئی نئی بات نہیں ہے کہ بیرونی ممالک سے تعلق رکھنے والے تبلیغی جماعت کے کارکن بھی مذہبی اجتماعات میں شرکت کرنے کیلئے قانونی طور پر ہندوستان آتے جاتے ہیں۔ لہذا، تبلیغی جماعت کے ان غیر ملکی کارکنوں کو غیر ملکی ایکٹ 1946کے سیکشن 13اور 14کی خلاف ورزی کرنے کا الزام لگاتے ہوئے انہیں ہراساں کرنا سراسر ناانصافی ہے۔ اڈوکیٹ شرف الدین احمد نے مطالبہ کیا ہے کہ ان کے پاسپورٹ بحال کرکے انہیں احترام اور وقار کے ساتھ گھر واپس جانے کے انتظامات کئے جائیں۔

 

Post source : Press release