December 06, 2020

جامعہ کے ہاسٹلوں میں مقیم ریاست جھارکھنڈ کے طلباء خصوصی ٹرین کے ذریعہ اپنے گھروں کے لئے روانہ 

جامعہ کے ہاسٹلوں میں مقیم ریاست جھارکھنڈ کے طلباء خصوصی ٹرین کے ذریعہ اپنے گھروں کے لئے روانہ 

نئی دہلی -20 مئی (پریس ریلیز)جامعہ ملیہ اسلامیہ کے مختلف ہاسٹلوں میں مقیم ریاست جھارکھنڈ سے تعلق رکھنے والے طلباء و طالبات کل ایک خصوصی ٹرین کے ذریعے اپنے گھروں کے لئے روانہ ہوئے، ٹرین نئی دہلی کے آنند وہار ریلوے اسٹیشن سے دھنباد کے لیے نکلی ۔ یہ طلبا ء لاک ڈاؤن کی وجہ سے ہاسٹلوں میں پھنسے ہوئے تھے اور تب سے وہ اپنے گھروں کو نہیں جا سکے تھے ۔

 

لاک ڈاون کی وجہ سے یونیورسٹی بند ہے اور طلباء کی درخواست پر یونیورسٹی نے جھارکھنڈ اور دہلی حکومت کے عہدیداران سے بات چیت کے بعد جھارکھنڈ کے دھن باد جانے والی ٹرین میں ان کے سفر کی اجازت طلب کی۔

 

بخار اور کورونا وائرس سے وابستہ دیگر علامات کی جانچ پڑتال کے لئے دہلی حکومت کی جانب سےانتظام کردہ صحت مرکز تک جانے کے لیے یونیورسٹی کی جانب سے ایک خصوصی بس کا انتظام کیا گیا تھا۔ یونیورسٹی کی جانب سے طلباء کو کھانے کے پیکٹ ، پانی کی بوتلیں ، ہینڈ سینیائٹرز اور ماسک بھی فراہم کیے گئے ۔

 

اس موقع پر یونیورسٹی کی وائس چانسلر پروفیسر نجمہ اختر نے اطمینان کا اظہار کیا اور امید ظاہر کی کہ طلباء سلامتی سے اپنے گھروں تک پہنچیں گے اور جموں و کشمیر کے طلبا کی طرح اپنے اہل خانہ کے ساتھ رہیں گے۔ 

 

بتا دیں کہ گذشتہ ہفتے یونیورسٹی کی جانب سے ایک خصوصی بس کے ذریعہ کشمیر کے طلباء کے لیے ان کے گھروں تک پہنچنے کا انتظام و انصرام گیا تھا۔

 

طلبا کی مدد کے لئے ڈین اسٹوڈنٹس ویلفیئر (ڈی ایس ڈبلیو) ، چیف پراکٹر اور ان کی ٹیم نیز پرووسٹ اور ہاسٹل کے نگراں حضرات کے علاوہ انتظامی عملہ اور دیگر ذمہ داران و کارکنان بھی موجود تھے ۔اسکریننگ سنٹر کے لئے روانہ ہونے والی بس کے ہمراہ جامعہ کے اساتذہ بھی گیے تاکہ طلباء کو کوئی پریشانی نہ ہو ۔ 

 

کووڈ 19 وبائی مرض کے پھیلاؤ کو روکنے کے لئے لاک ڈاؤن کی وجہ سے یونیورسٹی بند ہے تاہم آن لائن درس و تدریس کا عمل جاری ہے ۔ صورتحال معمول پر آنے کے بعد باقاعدہ اگست 2020 تک یونیورسٹی کے دوبارہ کھلنے کا امکان ہے ۔ ان حالات میں ہاسٹلوں میں مقیم طلباء اپنے گھروں میں جانا چاہتے ہیں اور یونیورسٹی ان کے سفر کا انتظام کرکے اور متعلقہ ریاستی حکومتوں کے ساتھ بات چیت کرکے ان کے تعاون کے لیے سر گرم عمل ہے۔

Post source : Press release