September 30, 2020

مغربی بنگال کے مسلم خاندان کے 5 ارکان کی تلنگانہ میں خودکشی!

مغربی بنگال کے مسلم خاندان کے 5 ارکان کی تلنگانہ میں خودکشی!

ورنگل-22 مئی( اردو لیکس)تلنگانہ کے ورنگل شہر کے مضافات میں مسلم خاندان کے پانچ افراد کی نعشیں ایک باولی سے دستیاب ہوئی ۔ یہ واقعہ خودکشی کا ہے یا پھر قتل کا پولیس اس کی تحقیقات کررہی ہے اطلاع ملنے پر پولیس جائے وقوع پر پہنچ کر  نعشوں کو پوسٹ مارٹم کے حوالے کردیا۔ مرنے والے افراد کی شناخت محمد مقصود (50) ، اس کی بیوی نشا (45) ، بیٹی بصرہ خاتون (20) ، بیٹا سہیل عالم ( 17 ) اور تین سالہ  نواسہ کے طور پر ہوئی ہے۔ پولیس اس معاملے کو خود کشی سمجھ کر تفتیش کر رہی ہے۔ ایڈیشنل ڈی سی پی وینکٹالکشمی کے مطابق ، ایم ڈی مقصود عالم 20 سال قبل مغربی بنگال سے اپنے خاندان کے ساتھ ورنگل منتقل ہوگیا تھا۔ پہلے وہ کریم آباد میں کرائے کے مکان میں مقیم تھے۔ دسمبر سے ، گیسوکوانڈا منڈل کے لمبوکٹو کے علاقے میں باردان تیار کرنے والے گودام میں کام کر رہے تھے۔ لاک ڈاؤن کی وجہ سے  ورنگل سے انھیں ٹرانسپورٹ کی زیادہ مشکل پیدا ہوگئی تھی جس کے باعث وہ گودام میں کے کمرے میں ہی مقیم تھے ان کے ساتھ ان مطلقہ بیٹی بصرہ خاتون جو اپنے شوہر سے الگ ہوگئی تھی، وہ اپنے تین سالہ بیٹے کے ساتھ بھی رہ رہی تھی۔ گودام میں بہار کے نوجوان ، شری رام اور شیام نامی دو نوجوان بھی کام کرتے تھے اور وہ اسی احاطے میں ایک اور کمرے میں رہ رہے تھے ۔ بتایا گیا ہے کہ گزشتہ روز گودام کا مالک سنتوش گودام میں آیا تو کوئی ورکر نظر نہیں آیا۔ اور اس نے کافی تلاش کی جس پر اسے باولی میں چار نعشیں پانی میں تیرتی پائی گئیں۔ اس نے گیسوکونڈا پولیس کو اطلاع دی۔ کلیوسٹیم اور ڈاگ اسکواڈ کے عملے نے آکر ثبوت اکٹھا کیے۔ ورنگل میونسپل کارپوریشن کے عملہ اور ڈیزاسٹر مینجمنٹ ٹیم اور پولیس نے مل کر چار نعشوں کو باہر نکالا ۔اور آج جمعہ کی صبح ایک اور لاش نکالی گئی۔ ڈی سی پی نے بتایا کہ لاشوں پر کوئی چوٹ نہیں آنے کی وجہ سے یہ مقدمہ خودکشی کے طور پر درج کیا جارہا ہے۔ شبہ ہے کہ اگر کنویں سے پانی نکال دیا جائے تو اس میں سے مزید نعش برآمد ہوسکتی ہیں ۔ فائر فائٹرز کنویں میں پانی پمپ کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔مقصود عالم سمیت پانچ افراد کے خود کشی کے بعد پولیس نے کئی زاویوں سے معاملے کی تفتیش شروع کردی ہے۔ ان کے ایک اور بیٹے کے ساتھ ، بہار کے دو نوجوان  لاپتہ ہیں۔ پولیس ان کے ٹھکانے کی تلاش میں ہے۔ ان کا پتہ چلنے پر ہی اس واقعہ کی تہہ تک پہنچ سکتے ہیں

Post source : Urduleaks